07:43 am
نیب بھی عدلیہ کا احترام کرے

نیب بھی عدلیہ کا احترام کرے

07:43 am

یہ تحریر میں انتہائی دُکھ اور کرب کے ساتھ سُپرد قلم کرنے پر مجبور ہوں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین عزت مآب جناب جسٹس (ر)
یہ تحریر میں انتہائی دُکھ اور کرب کے ساتھ سُپرد قلم کرنے پر مجبور ہوں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین عزت مآب جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال میری آئیڈیل شخصیت ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ میرے لئے آئیڈیل کیوں ہیں؟ آئیڈیل اِس لئے ہیں کہ وہ وقت کے خدائوں سے بلا خوف و خطر اُلجھنے کی جسارت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے بغیر کسی دبائو کے وقت کے فرعونوں اور قارونوں پر ہاتھ ڈالنے میں کبھی لغزش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اُن کے نزدیک قانون سب کے لئے برابر ہے۔ طاقتور ہو یا کمزور قانون سب کے لئے ایک جیسا ہی ہونا چاہئے اِس کا عملی مظاہرہ عزت مآب جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال کر رہے ہیں۔ میں اُن کی جرأت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ وہ خود عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں منصف کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اُن کا ماضی بے داغ ہے۔ وہ پاکستان کے نظامِ عدل کے ماتھے کا جھومر قرار دیئے جاتے ہیں۔
آج مجھے اُن سے  کچھ گزارشات کرنی ہیں۔ اِن گزارشات کی ضرورت اِس لئے پیش آئی کہ میں زندہ دِلوں کے شہر لاہور میں رہتا ہوں اور ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں ۔ جس  کا نام حاجی خوشی محمد ہے۔ میں نے آج تک اُس کے پائوں میں سو روپے سے زیادہ مہنگا  جوتا نہیں دیکھا۔ مزدور کے لباس سے بھی سستا لباس پہنتا ہے۔ چہرے پر سنتِ رسولؐ، ماتھے پر خشیتِ الٰہی کا محراب اور پانچ وقت کا نمازی یہ شخص خدمت خلق کیلئے کمر بستہ ہے۔ اِس کی ایک چھوٹی سی ہائوسنگ سوسائٹی ہے۔  یہ تھیم پارک ویو کیا ہے؟ غریبوں کی آماجگاہ۔ یہ شخص اِس ہائوسنگ سوسائٹی کا مالک ہے۔ مگر یہ مالک نہیں ہے۔ یہ خدمت گزار ہے۔ آپ کبھی اِس کی ہائوسنگ سوسائٹی کا وزٹ کریں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ اِس میں بسنے والے اکثر لوگ آپ کو ایسے بھی نظر آئیں گے جو خیمے لگا کر اپنی زندگی کے دِن گزار رہے ہیں۔ اِس ہائوسنگ سوسائٹی میں تین سو کے قریب کچی پکی اینٹوں کے گھر آباد ہیں۔ ریڑھی بان، خوانچہ فروش، مزدور، پھیری لگانے والے ایسے لوگ جو زندگی بھر اپنا گھر نہیںبنا سکتے تھے۔ حاجی خوشی محمد نے اِن لوگوں کے درد کو سمجھا۔ اِن کے آنسو پونچھے۔ اِن کے سر پر محبتوں کا ہاتھ رکھا۔ یہ شحص اُن لوگوںکو قطعہ زمین عطا کرتا ہے جو لوگ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ اور نسل درنسل کرائے کے مکانوں میں ہی زندگی بسر کر دینے پر مجبور ہیں۔ جو مزدور یا ریڑھی بان یا خوانچہ فروش یا پھیری والا دس ہزار روپے کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ یہ شخص اُسے تین مرلے کے پلاٹ کا قبضہ دے دیتا ہے اور فوراً رجسٹری بھی کروا دیتا ہے۔ پھر اس کے بعد اُس سے پانچ ہزار روپے ماہانہ قسط لیتا ہے۔ جو لوگ ہر ماہ قسط دینے کی استطاعت نہیں رکھتے یہ اُن سے دو ماہ بعد، تین ماہ بعد، چھ ماہ بعد، حتیٰ کہ سال بعد بھی ایک قسط لے لیتا ہے۔ کبھی اِس کے ماتھے پر شکن نہیں آئی، کبھی کسی کو بُرا بھلا نہیں کہا۔ کبھی کسی سے زمین نہیں چھینی، کبھی سائبان نہیں چھینا۔ ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ ہر دُکھی کے دُکھ میں اُس کا سہارا بن کر ساتھ کھڑا ہو گیا۔ حاجی خوشی محمد اپنی ہائوسنگ سوسائٹی کے تمام رہائشیوں کو تین وقت کا مفت کھانا فراہم کرتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ تمام مکینوں کو چوبیس گھنٹے بجلی بھی مفت مہیا کرتا ہے۔ یہ اُس کا قصور ہے۔ یہ اُس کا گناہ ہے اور اِس گناہ کی پاداش میں ایل ڈی اے کے  افسران آئے دِن اِس کی ہائوسنگ سوسائٹی کو منہدم کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ اُس نے ایل ڈی اے کے افسران کی چیرہ دستیوں سے تنگ آ کر عدالتِ عالیہ کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت عالیہ کے عزت مآب مسٹر جسٹس شاہد کریم  نے حاجی خوشی محمد کو ایل ڈی اے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا اور احکامات صادر فرمائے۔  اِس حکم امتناعی کے بعد ایل ڈی اے افسران نے جمعرات کے روز اُسے فون کیا کہ نیب لاہور آفس سے حکم آیا ہے کہ آپ کل بروز جمعہ بتاریخ 12 جولائی کو نیب آفس میں پیش ہوں۔ حاجی خوشی محمد نے ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کی مصدقہ کاپی اپنے ساتھ لی اور نیب آفس چلا گیا۔ وہاں پر موجود افسران نے حاجی خوشی محمد کی داڑھی کا بھی احترام نہ کیا۔ اُس کا پورا موقف بھی نہ سُنا اور اُسے کہا کہ غریبوں کی خدمت کرنا بند کر دو‘ ورنہ نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ اُس نے جواب دیا کہ میرا قصور کیا ہے؟ میرا گناہ کیا ہے؟ میرے خلاف ایک بھی درخواست نہیں ہے؟ ایک بھی شخص شکائت کنندہ نہیں ہے! جہاں تک ایل ڈی اے کا معاملہ ہے تو میں ایل ڈی اے کے خلاف ہائی کورٹ میں گیا ہوا ہوں۔ ہائی کورٹ نے مجھے حکم امتناعی دے رکھا ہے۔ اِس پر نیب کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم کسی عدالت کو نہیں جانتے۔ اِس حکم امتناعی کی نیب کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے‘بصد احترام چیئرمین نیب عزت مآب جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے یہ گزارش کرناچاہتا ہوں کہ وہ اپنے افسران کو کم از کم یہ درس تو دیں کہ وہ عدلیہ کا احترام ملحوظِ خاطر رکھیںکیونکہ جو معاشرے اپنی عدالتوں کا احترام نہیں کرتے وہ معاشرے کرّہ ارض سے مٹ جایا کرتے ہیں۔ پاکستان تو پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے۔ اور ایسے میں اگر خدا ترس اِنسانوں پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا تو اُن کے دِل سے نکلنے والی آہ آسمانوں پر سُنی جائے گی۔  چیئرمین نیب! حاجی خوشی محمد تو وہ کردار ادا کر رہا ہے جو کردار ریاست کا فرض بنتا ہے۔ غریب لوگوں کو چھت فراہم کرنا بنیادی طور پر تو ریاست کا فرض ہوتا ہے۔ اور جب ریاست ناکام ہو جائے تو پھر حاجی خوشی محمد جیسے لوگ یہ بارِ عظیم اپنے شانوں پر اُٹھا لیتے ہیں۔ ایسے لوگ مسیحائی کا حق ادا کر رہے ہوتے ہیںمگر افسوس کہ بدقسمت معاشروں میں اپنے ہیروز کو اپنے ہاتھوں سے مار دیا جاتا ہے۔ اُن کی تذلیل کی جاتی ہے اور جب وہ مر جاتے ہیں تو پھر بعد میں اُن کے مقبرے بنا کر وہاں پُھول چڑھائے جاتے ہیں۔ اور اُنہیں بعداز مرگ ہیروز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آج حاجی خوشی محمد اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے۔
 حاجی خوشی محمد نے ایل ڈی اے کے ماسٹر پلان کے سلسلہ میں باقاعدہ درخواست دے رکھی ہے کہ اُس کی ہائوسنگ سوسائٹی کے اردگرد آبادی ہی آبادی ہے۔ لہٰذا اُس کی ہائوسنگ سوسائٹی کو گرین سے برائون ایریا میں داخل کیا جائے مگر پاکستان کے سرکاری اداروں میں غریب آدمی کا کام ہوتا ہی کب ہے؟ جب تک  اپنی فائل کو کوئی پہیّے نہ لگا دے۔ حاجی خوشی محمد تو غریبوں کی زندگی کی گاڑی کو پہیّے لگانے میں مصروفِ عمل ہے۔ اُس کو کیا پتہ کہ ایل ڈی اے اور نیب میں پڑی فائلوں کو پہیّے کیسے لگائے جاتے ہیں؟

 

تازہ ترین خبریں