10:17 am
صلح کروانے کے فضائل

صلح کروانے کے فضائل

10:17 am

صلح کروانا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں صلح کروانے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے۔ پارہ26 سورۃ الحجرات کی آیت نمبر9 میں اللہ عزوجل کا فرمان عالیشان ہے: 
’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کرائو‘‘۔
اس آیت کریمہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے صدرالافاضل مولانا سید محمدنعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دَرازگوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے، انصار کی مجلس پر گزر ہوا، وہاں تھوڑا سا توقف فرمایا، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو اِبن اُبی نے ناک بند کر لی۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درازگوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تشریف لے گئے، ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ گئیں اور ہاتھاپائی تک نوبت پہنچی تو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرا دی‘ اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ 
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ’’اور صلح خوب ہے اور دِل لالچ کے پھندے میں ہیں‘‘۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت 128)
ایک اور مقام پر صلح کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان، مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو‘‘۔ (پارہ 26 سورۃ الحجرات آیت 10) 
احادیث مبارکہ میں صلح کروانے کے بیشمار فضائل بیان ہوئے ہیں چنانچہ حضرت سیدنا اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور ذیشان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے ’’جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کرائے گا اللہ عزوجل اس کا معاملہ درست فرما دیگا اور اسے ہر کلمہ بولنے پر ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا اور جب وہ لوٹے گا تو اپنے پچھلے گناہوں سے مغفرت یافتہ ہو کر لوٹے گا‘‘۔ ایک اور حدیث پاک میں تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ ’’کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے افضل عمل نہ بتائوں؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور بتائیے‘‘ ارشاد فرمایا:  ’’وہ عمل آپس میں روٹھنے والوں میں صلح کرا دینا ہے کیونکہ روٹھنے والوں میں ہونیوالا فساد خیر کو کاٹ دیتا ہے‘‘۔ 
حضرت سیدنا اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ ایک روز سرکار عالی وقار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا۔ حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس لئے تبسم فرمایا۔ ارشاد فرمایا  میرے دو اُمتی اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دوزانو گر پڑیں گے، ایک عرض کریگا یااللہ عزوجل! اس سے میرا انصاف دلا کہ اس نے مجھ پر ظلم کیا تھا۔ اللہ عزوجل مدعی (یعنی دعویٰ کرنیوالے) سے فرمائے گا  اب یہ بے چارہ (یعنی جس پر دعویٰ کیا گیا ہے وہ) کیا کرے، اسکے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں۔ مظلوم  (مدعی) عرض کریگا‘ میرے گناہ اسکے ذمے ڈال دے۔ اتنا ارشاد فرما کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو پڑے، فرمایا وہ دِن بہت عظیم دِن ہو گا کیونکہ اس وقت (یعنی بروزِ قیامت) ہر ایک اس بات کا ضرورت مند ہو گا کہ اسکا بوجھ ہلکا ہو۔ اللہ عزوجل مظلوم (یعنی مدعی) سے فرمائے گا۔ دیکھ تیرے سامنے کیا ہے؟ وہ عرض کریگا۔ اے پروردگار عزوجل! میں اپنے سامنے سونے کے بڑے شہر اور بڑے بڑے محلات دیکھ رہا ہوں جو موتیوں سے آراستہ ہیں، یہ شہر اور عمدہ محلات کس پیغمبر یا صدیق یا شہید کیلئے ہیں؟ اللہ عزوجل فرمائے گا: یہ اس کیلئے ہیں جو ان کی قیمت ادا کرے۔ بندہ عرض کریگا۔ ان کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟ اللہ عزوجل فرمائے گا: تو ادا کر سکتا ہے۔ وہ عرض کریگا: کس طرح؟ اللہ عزوجل فرمائے گا: اس طرح کہ تو اپنے بھائی کے حقوق معاف کر دے۔ بندہ عرض کریگا: یااللہ عزوجل! میں نے سب حقوق معاف کئے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا۔ اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور دونوں اکٹھے جنت میں چلے جائو۔ پھر سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ عزوجل سے ڈرو اور مخلوق میں صلح کروائو کیونکہ اللہ عزوجل بھی بروزِ قیامت مسلمانوں میں صلح کروائے گا‘‘۔
ان آیات و روایات سے صلح کروانے کی اہمیت اور اسکے فضائل و برکات معلوم ہوئے لہٰذا جب کبھی مسلمانوں میں ناراضی ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کروا کر یہ فضائل و برکات حاصل کرنے چاہئیں۔ بعض اوقات شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ انہوں نے صلح پر آمادہ ہونا ہی نہیں لہٰذا انہیں سمجھانا بیکار ہے، یاد رکھئے! مسلمانوں کو سمجھانا بیکار نہیں بلکہ مفید ہے جیسا کہ خدائے رحمن عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے’’اور سمجھائو کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے‘‘۔ (پارہ 27 سورۃ الذریت، آیت 55) 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں