10:20 am
  علاقائی  رسہ کشی  اور پاکستان  کے مفادات  

  علاقائی  رسہ کشی  اور پاکستان  کے مفادات  

10:20 am

 کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بھارت کی شکست پر مقبوضہ کشمیر میں منایا گیا جشن یہ پیغام دے گیا کہ کشمیر نہ کبھی بھا ر ت کا حصہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہو پائے گا۔ چند برس قبل معروف بھارتی صحافی و دانشور آنجہانی کلدیپ نائر نے پیشگوئی کی تھی کہ کشمیر  ریت کی مانند بھارت کی مٹھی سے پھسل رہا ہے کیونکہ  غیر انسانی مظالم نے کشمیریوں کو فکری اعتبار سے بھارتی ر یا ست  سے جدا کر دیا ہے۔ کوئی محلہ یا گھر ایسا نہیں جو ریاستی اداروں کے انسانیت سوز مظالم کا شکار نہ بنا ہو۔ سات عشروں سے زائد مدت پر محیط مظالم کی بدولت آج کشمیری کھیل کے میدان میں بھارت کی شکست پر بھی مسرت محسوس کرتے ہیں ۔ نئی دلی کے راج سنگھاسن پر براجمان شدت پسند وں کو اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ کشمیری بھارت کے متعلق کیا سوچتے ہیں ؟ قومی انا کی تسکین کے لیے کشمیر کی زمین پر قبضہ قا ئم  رہنا چاہیے خواہ اُس کے لیے آخری کشمیری کا خون ہی کیوں نہ بہانا پڑے۔ 
 
بلاشبہ کشمیر کا تنازعہ پورے خطے کے امن کو برباد کر سکتا ہے۔ ایل او سی کے دونوں جانب ایٹمی ہتھیاروں کی حامل افواج برسر پیکار ہیں ۔ تقسیم ہند کی تلخیاں ہر گذرتے دن کے ساتھ بڑھتی رہی ہیں ۔ پاکستان اور بھارت خطے میں عالمی قوتوں کے درمیان  جاری رسہ کشی کے پیچیدہ کھیل میں اہم فریق بھی ہیں ۔ سی پیک ہو یا افغان امن مذاکرات کا تہہ در تہہ دشوار عمل ! ہر اہم علاقائی پیش رفت میں پاکستان اور بھارت مخالف کیمپوں میں دکھائی دے رہے ہیں ۔ سرحد پار دہشت گردی کا آسیبی سایہ خطے پر چھایا ہوا ہے۔ پاکستان اس آسیب پر بڑی حد تک قابو پانے کے باوجود عالمی برادری کے کٹہرے میں اکثر اپنی صفائیاں پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 
 ہمارے اکثر سفارتی مسائل کے پیچھے تین عوامل کار فرما ہیں ۔ اول‘  ماضی میں امریکہ بہادر کی اندھی تابعداری کی وہ روش جسے ترک کرنے پر آج وہ ہر فورم پر پاکستان کو زچ کرنے پر تُلا بیٹھا ہے ۔ دوم‘ پاک دفتر خارجہ کی روایتی سست روی ، مجرمانہ نا اہلی اور بے دانشی ۔ سوم‘ بھارت کی جارحانہ سفارتی چابکدستی ۔  یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھا ر تی ریاستی مظالم  اور پاکستان کے طول و عرض میں را کی سرپرستی سے کی جانے والی دہشت گردی کا مسئلہ اجاگر کرنے میں دفتر خارجہ مجموعی طورپر ناکام رہا ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ترجیحات کے تعین میں سنگین غلطیاں کی گئی ہیں ۔ افغان امن مذاکرات میں بنیادی کردار کرتے ہوئے امریکہ سے کشمیر کے معا ملے پر مثبت تعاون کے حصول کا یہ سنہری موقع ہے۔ امن مذاکرات میں شریک عالمی اور علاقائی قوتوں کے نمائندوں کو یہ باور کروانا چاہیے کہ کشمیر کا مسئلہ سلجھا ئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ۔ مودی سرکار بتدریج کشمیر  میں حالات بگاڑنے پر تُلی ہوئی ہے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 35۔اے کو ہدف بنا کے مستقبل میں جموں کے علاقے میں بڑی تعداد میں ہندووں کی آبادکاری کے ذریعے آبادی کا تناسب بدلنے کی سازش گھڑی جارہی ہے۔ 
اس سازش کے خلاف حکومت کے سابقہ اتحادی اور کٹھ پتلیاں بھی آج احتجاج کر رہی ہیں ۔ حال ہی میں سری نگر کے قانون دان حلقوں نے  مودی سرکار کا ہدف بننے والے آرٹیکل 35۔اے پر عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے کتاب بھی شائع کی ہے۔   بھا رت کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے  مظالم اور نت نئی زہریلی سازشوں   کے خلاف کسی بھی وقت عالمی مزاحمتی محاذ قائم ہو سکتا ہے۔ اگر افغانستان میں مسلح جدوجہد میں مصروف تنظیمیں آنے والے دنوں میں  اپنا رخ کشمیر کی جانب کر لیں تو منظر نامہ تصور سے زیادہ پیچیدہ ہو جائے گا۔ 
چین کی جانب سے کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے پاک بھارت مذاکرات میں تعاون کی حالیہ  پیشکش کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر ہمارے دفتر خارجہ کو اس اہم معاملے پر توجہ دینے کی فرصت نہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں دن بدن بگڑتی صو ر تحا ل پر گھڑے گھڑائے روایتی بیانات سے کام چلایا جا رہا ہے۔ افغان مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے کشمیر سے صرف ِ نظر نہیں کیا جانا چاہیے ۔  شطرنج کی علاقائی بساط پر روس ، چین اور ایران کو ہم خیال بنا کے مسئلہ کشمیر پر مثبت پیش رفت ممکن ہے۔ موجودہ حا لا ت میں امریکہ بھی پاکستانی موقف کو نظرانداز نہیں کر پائے گا ۔ ہمارے وزیر اعظم اسی مہینے امریکہ کے د و ر ے پر روانہ ہونے والے ہیں ۔ اس دورے پر معذرت خو ا ہا نہ یا مدافعانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے باوقار انداز میں پاکستان کے اہم مفادات کے حصول کے لیے امریکہ سے بات چیت کی جائے۔ 
اگر امریکہ اپنی جان خلاصی کے لیے ا فغا نستا ن کے دھکتے الائو میں پاکستان سے دست تعاون طلب کر رہا ہے تو پھر پاکستان کو بھی مسئلہ کشمیر ، ایٹمی اثاثوں اور بھارتی دہشت گردی جیسے اہم مسائل پر امریکہ سے جوابی  تعاون طلب کرنا چاہیے۔ یہی انداز  چین اور روس سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک سے معاملات طے کرتے ہوئے اختیار کیا جائے۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں کو یہ باور کروایا جائے کہ پاکستان نہ تو کرائے پر  دستیاب  کوئی جنس ہے اور نہ ہی موم کی ناک ہے۔ دو طرفہ تعلقات کی گاڑی لین دین کے اصول پر چلتی ہے جس ملک یا قوم کو پاکستان کا تعاون درکار ہے اُسے پاکستان کے بنیادی مفادات کا بھی لحاظ کرنا ہو گا جو ملک راضی ہو اُس کے لیے دیدہ و دل فرش راہ ! جس ملک کو اعتراض ہو اُسے دور ہی سے سلام ! خواہ اُس ملک کا نام امریکہ ہو یا برطانیہ یا کچھ اور !  

تازہ ترین خبریں