10:21 am
عمران خان کا شیخ رشید اور ریلوے

عمران خان کا شیخ رشید اور ریلوے

10:21 am

شیخ رشید احمد اپنی باتوں سے عمران خان کا دل لبھاتے ہیں اس لئے اب ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کون کرے؟ جنوری 2017ء میں ریلوے کو ایک حادثہ پیش آیا تو تب ایک ’’عمران خان‘‘ ہوا کرتے تھے کہ جنہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’دنیا میں کہیں بھی ریل کا حادثہ ہو تو وزیر ریلوے استعفیٰ دیتا ہے‘ اگر وہ استعفیٰ نہ دے تو پھر اس کے ہوتے ہوئے صحیح معنوں میں حادثے کی تحقیقات نہیں ہوسکتیں‘‘ جنوری 2017ء اور جولائی 2019ء والے عمران خان میں بس اتنی سی تبدیلی آئی ہے کہ ریلوے کو حادثے تو اب بھی پیش آرہے ہیں مگر عمران خان نے وزیر ریلوے سے مستعفی ہونے کے مطالبے کرنا چھوڑ دئیے ہیں۔
 
انسانی جان تو ایک بھی بڑی قیمتی ہوا کرتی ہے‘ صادق آباد کے قریب ولہار اسٹیشن پر کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی کے درمیان ہونے والی ٹکر میں تو دو درجن کے لگ بھگ مسافروں کی جانیں چلی گئیں‘ پاکستانی قوم کو اپنے ’’سپرمین‘‘ عمران خان کا انتظار تھا کہ وہ میڈیا کے سامنے آکر شیخ رشید سے کہیں گے کہ فوراً استعفیٰ دو اور گھر جائو‘ مگر زرداری اور نواز دور کی طرح مرنے والوں کے لئے پندرہ لاکھ فی کس اور زخمیوں کے لئے پانچ لاکھ فی کس اور حادثے کی تحقیقات کا اعلان کرکے اس بات کا ثبوت فراہم کر دیا گیا کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد بھی چہرے تو بدلے لیکن نظام اور مائنڈ سیٹ میں ذرا برابر بھی تبدیلی نہیں آسکی۔‘‘پاکستانی عوام کے ذہنوں میں اب دو عمران خان موجود رہتے ہیں‘ایک اپوزیشن والا عمران خان اور دوسرا حکمران عمران خان۔ اس لئے گزشتہ گیارہ مہینوں میں جب بھی کوئی ٹرین حادثہ پیش آیا یا کوئی دوسری مصیبت کھڑی ہوئی تو عوام نے اپنے ذہن میں موجود اپوزیشن کے عمران خان کے بیانات کا موازنہ حکمران خان کے عملی اقدامات سے کیا تو انہیں ان میں زمین و آسمان کا فرق نظر آیا...ویسے مایوسی تو گناہ ہے‘ لیکن عمران خانوں کے بیانات اور اقدامات میں پائے جانے والے واضح فرق کی وجہ سے عوام عمران خان سے مایوس ہوچکے ہیں۔
جیسے کسی دور میں جناب شیخ! کا شادی  نہ کرنا شوق تھا ویسے ہی نئی نئی ٹرینیں چلانا بھی ان کا خاص شوق ہے۔رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں جب وہ وزیر ریلوے بنے تو انہوں نے آئے روز نئی نئی ٹرینیں چلوا کر ریلوے کے سارے کس بل نکال ڈالے تھے۔
اب عمران خان کے دور میں جب وہ دوبارہ وزیر ریلوے بنائے گئے  تو انہوں نے نئی‘ نئی ٹرینوں کے افتتاح کا اپنا سابق ریکارڈ برقرار رکھا‘ راولپنڈی سے کراچی کے لئے چلائی جانے والی سرسید ایکسپریس کہ جس کے بارے میں بہترین سہولیات سے مزین ہونے کا بھی دعویٰ ہے‘لاہور سے چلنے والی جناح ایکسپریس ہو یا عمران خان کے آبائی علاقے کے لئے چلائی جانے والی نیازی ایکسپریس‘ ایسے لگتا ہے کہ جیسے عمران خان کا شیخ رشید‘ پاکستان میں انقلاب ٹرینوں کے بل بوتے پر ہی لانا چاہتا ہے‘ دلچسپ بات ایک طرف آئے روز نئی نئی ٹرینوں کے افتتاح اور دوسری طرف ریلوے کا بڑھتا ہوا خسارہ۔
خیر سے جناب شیخ کے قدم ریلوے کیلئے اتنے مبارک ثابت ہوئے ہیں اس حکومت کے گیارہ مہینوں میں شاید ہی کوئی ایسا مہینہ گزرا ہو کہ جب ٹرین کو حادثہ پیش نہ آیا ہو۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی حکومت میں اب تک ایک درجن سے زائد ایسے واقعات پیش آچکے ہیں جن میں تین درجن سے زائد مسافر اور عملے کے ارکان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں‘ جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے‘ جناب شیخ! کس طرح ٹرینیں بھی چلتے چلتے ہوئے پٹڑی سے اتر جاتی ہیں۔
نجانے شیخ رشید کے دور وزارت میں ٹرین کے مسافروں کو مزید کتنی جانوں کی قربانی دینا پڑے گی؟ کہا جاتا ہے کہ حادثے تقدیر میں لکھے ہوتے ہیں‘ گیارہ مہینوں میں گیارہ سے زائد حادثے اور درجنوں مسافروں کی ہلاکت‘ نجانے یہ سب کس کی تقدیر میں لکھا ہوا تھا‘ عمران خان‘ شيخ رشید یا پھر مسافروں کی ؟ خواجہ سعد رفیق کے ہاتھ اتنے لمبے ہوں گے  یہ تو کبھی میں نے سوچا بھی نہ تھا‘ یہ کیسا جادوگر ہے کہ نیب کی حراست میں ہونے کے باوجود عمران خان کے شیخ رشید کی ٹرین ہی نہیں چلنے دے رہا‘ عمران خان اور شیخ رشید جیسے ہی کسی نئی ٹرین کا افتتاح کرتے ہیں‘ اس افتتاح کے صرف چند دن بعد ہی خواجہ سعد رفیق جھٹ سے ٹرینوں میں تصادم کروا دیتے ہیں۔
’’نیب‘‘ کو چاہیے کہ وہ زیر حراست ملزم خواجہ سعد رفیق کی آنکھوں پر پٹی‘ ہاتھوں میں ہتھکڑی اور منہ پر ٹیپ لگا کر رکھیں تاکہ وہ شیخ رشید کی ریلوے کے خلاف کوئی چھو منتر نہ پڑھ سکیں‘ ویسے یہ اس خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی ایسی منفرد حکومت آئی ہے کہ جس کے پہلے گیارہ مہینوں میں ہونے والے ہر برے واقع‘ حادثے اور نقصان کی ذمہ داری سابق حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے‘ اس لئے کپتان کو چاہیے کہ وہ شیخ رشید نہیں بلکہ خواجہ سعد رفیق سے ہی استعفیٰ طلب کرلیں تاکہ عوام کے ذہنوں میں اپوزیشن والا عمران تو زندہ رہ سکے۔

تازہ ترین خبریں