10:23 am
3 کروڑ سے 40 ارب کے اثاثوں کا سفر!

3 کروڑ سے 40 ارب کے اثاثوں کا سفر!

10:23 am

٭قیامت! برطانوی اخبارات، شہباز شریف: زلزلہ زدگان کی امداد سے اثاثے 3 کروڑ سے بڑھ کر 40 ارب ہو گئے! شہباز شریف کی تردید، اخبار کا اصرار! Oآج سپریم کورٹ میں جج ارشد کیس کی سماعت O افغان امن مذاکرات، بھارت کو نظر انداز کرنے پر بھارتی میڈیا کا شور شراباO انگلینڈ: نیا ورلڈ کپ چیمپئن!O آصف زرداری پھر عدالت میں …O آزاد کشمیر، شدید بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی O بھارت: چاند پر سیٹلائٹ بھیجنے کا منصوبہ ناکام، بھارتی صدر کو واپس جانا پڑا …کرتار پور مذاکرات بھارتی وفد کا پاکستان کی سرزمین پر پودا لگانے سے انکار۔
 
٭گزشتہ روز سے برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ میں اس کے نمائندہ خصوصی ڈیوڈ روز کے ایک انکشاف نے تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ یقین نہیں آ رہا یہ سن کر، دیکھ کر اور پڑھ کر ذہن سنسنا رہا ہے کہ 2005ء میں آزاد کشمیر کے زلزلہ زدگان کے لئے برطانیہ نے 50 کروڑ پائونڈ (اس وقت تقریباً 30، اب 50 ارب روپے) کی جو امداد بھیجی تھی وہ شہباز شریف اور داماد (10 لاکھ پائونڈ) نے مل کر بانٹ لی۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت شہباز شریف کے اثاثے تین کروڑ روپے تھے جو پچھلے سال تک تقریباً چالیس ارب ہو چکے تھے۔ یہ بھاری رقمیں پاکستان سے کس کس کے نام پر برمنگھم اور وہاں سے لندن میں شہباز شریف کے اکائونٹ میں منتقل ہوئیں، اخبارات میں تفصیل موجود ہے۔ البتہ چند باتیں! شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ یہ خبر غلط ہے، وہ برطانیہ میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کے نمائندے ڈیوڈ روز نے جواب دیا ہے کہ اس کے پاس ٹھوس شواہد اور ریکارڈ موجود ہے، وہ عدالت میں پیش کر دے گا۔ اور یہ کہ اس کی بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، جو تصویر دکھائی جا رہی ہے وہ ایک سال پہلے کی ہے اور عمران خان سے انتخابی مہم کے دوران بنی گالہ میں اخبار کے ایک انٹرویو کے دوران بنی اور شائع ہوئی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے تمام شواہد امداد بھیجنے والے سرکاری برطانوی ادارے اور اسلام آباد سے حاصل کئے ہیں۔ ڈیوڈ روز نے کہا ہے کہ شہباز شریف عدالت میں نہیں جائیں گے، اس سے پہلے میں نے لندن میں میاں نوازشریف کی جائیداد کی خبر چھاپی تو نوازشریف نے قانونی کارروائی کا اعلان کیا مگر آج تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کے پاس اس کیس میں شہباز شریف کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں وہ یہ ثبوت لندن کی عدالت میں پیش کرنے کو تیار ہیں۔
٭قارئین کرام! شریف خاندان کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ لندن کا ’ڈیلی میل‘ جھوٹا اخبار ہے۔ اس کی اور اس کے رپورٹر ’ڈیوڈ روز کی شہرت بہت خراب ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ برطانیہ میں خبروںکی صحت کا معیار بہت سخت ہے۔ کوئی غلط خبر چھاپنے، کسی پر جھوٹی الزام تراشی اور کسی کی شہرت کو بلاثبوت نقصان پہنچانے پر سخت محاسبہ کیا جاتا ہے اور سخت سزا و جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس  سلسلے میں مجھے بھٹو دور کا ایک واقعہ یاد آ گیا ہے۔ کوثر نیازی نام کے ایک صاحب وزیراعظم بھٹو کے وزیراطلاعات تھے بہت تیز طرار اور ذہین شخص تھے۔ صفر کی سطح اور ڈیڑھ مرلے کے مکان سے وزیراطلاعات کے عہدے اور شاندار مکان تک کیسے پہنچے، یہ الگ کہانی ہے۔ انہیں ایک روز بھٹو نے بلا کر سخت ڈانٹ ڈپٹ کی۔کوثر نیازی وہ چالاک شخص تھے۔ ذہن میں فوراً ایک منصوبہ تیار کیا۔ باہر نکلے تو وہاں منتظر بی بی سی کا نمائندہ کسی خبر کے انتظار میں کھڑا تھا۔ منصوبہ کے تحت کوثر نیازی کے ساتھ باہر آنے والے شخص نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ نیازی صاحب کو ایک بہت بڑا عہدہ دیا جا رہا ہے۔ یہ خبر فوراً بی سی پر نشر ہو گئی۔ بھٹو نے سخت نوٹس لیا تو اپنی صفائی کے لئے بی بی سی پر غلط خبر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا۔ بی بی سی کو بھاری رقم دینی پڑی اس سے مولانا نے اسلام آباد میں شاندار مکان بنا لیا! میرے ذہن پر زلزلہ سے آزاد کشمیر کے ہزاروں خاندانوں اور سکولوں کی تباہی کے مناظر بوجھ ڈال رہے ہیں۔ اب بھی سینکڑوں سکول چھتوں اور چار دیواریوںکے بغیر کام کر رہے ہیں۔ ان کی بحالی کے لئے 50 کروڑ پائونڈ کی آنے والی امداد ایک شخص کے ذاتی اکائونٹ میں پہنچ گئی! مجھے یقین نہیں آ رہا مگر یہ معاملات تو بہت اونچی سطح پر پہنچ چکے ہیں! ان کا جو بھی نتیجہ نکلے، نہائت سنگین ہو گا! بس یہ کہ آخری آرام گاہ تو صرف ساڑھے چھ فٹ لمبی اور ڈھائی فٹ چوڑی ہوتی ہے!صرف تین سفید کھلی چادریں ساتھ ہوتی ہیں۔
٭بھارتی میڈیا میں آج کل سابق سفارت کاروں اور سیاسی حلقوق نے واویلا مچا رکھا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے بارے میں پاکستان اور قطر میں جو چارملکی مذاکرات ہو رہے ہیں، ان میں بھارت کو بری طرح نظر انداز کر دیا گیا ہے جب کہ پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بھارت میں سابق امریکی سفیر جان باس اور افغانستان کے سابق سفیر شیداابدالی نے تقریباً یکساں بیانات میں کہا ہے کہ بھارت 18 سال سے افغانستان میں رفاہی کام کر رہا ہے، اربوں بلکہ کھربوں روپے سے پورا تعلیمی نظام ترتیب دیا، بے شمار سڑکیں اور دریائوں پر بند بنائے۔ ہزاروں افغان طلبا بھارتی وظیفوں پر بھارت میں پڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت اور بھی مختلف رفاہی منصوبوں میں بھاری سرمایہ لگا رہا ہے مگر پاکستان کی مدد سے طالبان اور امریکہ میں مذاکرات شروع ہوئے تو ان میں چین اور روس کو بھی شریک کر لیا گیا لیکن کوشش کے باوجود بھارت کو مذاکرات کے نزدیک نہیں آنے دیا گیا۔ اس پر بھارت کے سیاسی اور سفارتی حلقوں نے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملہ میںبھارت کے ساتھ جو ہتک آمیز سلوک ہوا ہے اس کے لئے ٹائمز آف انڈیا نے 'Dealt Out' اور 'Elbowed out' کے الفاظ استعمال کئے ہیں یعنی بدسلوکی کے اور کہنی مارکر باہر نکال دیا گیا۔
٭لاہور کے نزدیک واہگہ بارڈر پر’کرتارپور دربار صاحب‘ مذاکرات کے بعد پاکستانی وفد کے سربراہ ڈاکٹر فیصل نے وہاں یادگاری پودا لگایا اور بھارتی وفد کے سربراہ کو بھی پودا لگانے کی پیش کش کی اس نے صاف انکار کر دیا۔!
٭لاہور کے تعلیمی بورڈ نے میٹرک کے تعلیمی بورڈ کے نتائج جاری کئے ہیں۔ ان میں اول آنے والے ایک بچے کو 1100 میں سے 1098 نمبر دیئے گئے ہیں! قارئین کرام! کیا یہ ممکن ہے؟ ہر پرچے میں 100 فیصد نمبر! صریح بدعنوانی! کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اُردو، مطالعہ پاکستان، انگریزی، تاریخ اور مضمون نویسی میں 100 کے100 نمبر دے دیئے جائیں؟ امتحانی نمبروں کا بھی اتوار بازار لگ گیا! ممکن ہے یہ برخوردار کسی گورنر، وزیراعلیٰ یا وزیر کا رشتہ دار ہو! ٭ایس ایم ایس: بنوں کے علاقے میں ماضی کی طرح دیر تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ اس علاقے کے ایم این اے اکرم درانی ووٹ لینے کے لئے آئے پھر نہیں آئے۔ ان کی گمشدگی کی خبر چھاپ دیں۔ ادریس تالپور
٭ہجیرہ آزاد کشمیر سے نصیر خاں: ہجیرہ کے علاقے میں 37 ہزار واٹ بجلی فراہم ہوتی ہے مگر بل صرف 19 ہزار واٹ کے کاٹے جاتے ہیں؟ باقی 18 ہزار واٹ کہاں جاتی ہے؟٭شاہ صاحب! ایک خوش خبری! آپ کے اخبار روز نامہ اوصاف کی مسلسل وکالت سے بالآخر میرے گھر میں پانی کا پریشر پمپ لگ گیا ہے۔ اب ہمیں پانی لینے دور نہیں جانا پڑتا آپ کا اور اخبار کا شکریہ! شاہد نور وزیر سرائے نورنگ۔

تازہ ترین خبریں