08:15 am
صلح کروانے کے فضائل

صلح کروانے کے فضائل

08:15 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
ان آیات و روایات سے صلح کروانے کی اہمیت اور اسکے فضائل و برکات معلوم ہوئے لہٰذا جب کبھی مسلمانوں میں ناراضی ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کروا کر یہ فضائل و برکات حاصل کرنے چاہئیں۔ بعض اوقات شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ انہوں نے صلح پر آمادہ ہونا ہی نہیں لہٰذا انہیں سمجھانا بیکار ہے، یاد رکھئے! مسلمانوں کو سمجھانا بیکار نہیں بلکہ مفید ہے جیسا کہ خدائے رحمن عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے’’اور سمجھائو کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے‘‘۔ (پارہ 27 سورۃ الذریت، آیت 55) 
مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا کروا کر ان کی آپس میں پھوٹ ڈلوانا اور نفرتیں پھیلانا یہ شیطان کے اہم اہداف میں سے ہے، بسااوقات شیطان نیکی کی دعوت عام کرنیوالوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا کر بعض و حسد کی ایسی دیوار کھڑی کر دیتا ہے جسے صلح کے ذریعے مسمار کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ صلح کروانے والے کو چاہئے کہ وہ صلح کروانے سے پہلے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں کامیابی کی دُعا کرے پھر ان دونوں کو الگ الگ بٹھا کر ان کی شکایات سنے اور اہم نکات لکھ لے۔ ایک فریق کی بات سن کر کبھی بھی فیصلہ نہ کرے کہ ہو سکتا ہے جس کی بات اس نے سنی وہی غلطی پر ہو، اس طرح دوسرے فریق کی حق تلفی کا قوی امکان ہے۔ فریقین کی بات سننے کے بعد انہیں صلح پر آمادہ کرے اور سمجھائے کہ ہمارے پیارے آقا جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایذا دینے والوں، ستانے والوں بلکہ اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف فرمایا ہے لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے مسلمان بھائیوں سے ناراض ہو جاتے ہیں، اس میں سراسر نقصان اور شیطان کی خوشی کا سامان ہے۔ باہمی رنجشوں اور ناچاقیوں سے تنگ آ کر بالآخر فریقین میں سے کسی ایک کے مدنی ماحول سے دُور ہونے، نمازیں چھوڑنے اور دیگر گناہوں میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ بدمذہبوں کی صحبت اختیار کرنے اور عقائد بگڑنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے لہٰذا اگر بتقاضائے بشریت کسی سے کوئی غلطی کوتاہی صادر ہو جائے تو اسے معاف کر دینا چاہئے۔ یقیناً کوئی بھی جرم ناقابل معافی نہیں ہوتا، اگر کسی انسان سے معاذاللہ کفر بھی سرزد ہو جائے تو وہ بھی سچی توبہ سے معاف ہو جاتا ہے۔ فریقین کو صلح کے فضائل اور آپس کے اختلافات کے سبب پیدا ہونیوالے لڑائی جھگڑے، بغض و حسد، گالی گلوچ، بے جا غصے اور کینہ وغیرہ کے دینی و دُنیوی نقصانات بیان کئے جائیں۔ فریقین کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے انہیں اس طرح سمجھائے کہ اگر آپ کو ان سے تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی آپ سے رَنج پہنچا ہو گا۔ ہم اس دُنیا میں ایک دوسرے کو رَنج و غم دینے اور جدائیاں پیدا کرنے کیلئے نہیں آئے بلکہ ہم تو آپس میں اِتفاق و محبت کے ذریعے جوڑ پیدا کرنے کیلئے آئے ہیں جیسا کہ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
تو برائے وصل کردن آمدی 
نے برائے فضل کردن آمدی
’’یعنی تو جوڑ پیدا کرنے کیلئے آیا ہے، توڑ پیدا کرنے کیلئے نہیں آیا‘‘۔ 
اگر ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرینگے تو بہت اچھے طریقے سے زیادہ سے زیادہ دین کا کام کر سکیں گے۔ باہمی محبت و اتحاد سے جو کام ہو سکتا ہے وہ اکیلے رہ کر نہیں ہو سکتا۔ پھر فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کے درمیان صلح میں سبقت لے جانے کا جذبہ پیدا کر کے انہیں آپس میں ملوا دے، حتیٰ الامکان کسی فریق کو دوسرے کیخلاف بولنے نہ دے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، جب ایک بولے گا تو دوسرا بھی اپنی صفائی کیلئے بولے گا، یوں آپس میں بحث و مباحثہ ہو کر بسااوقات بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے اور پھر ان کے درمیان صلح کروانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ آپس کی ناراضیوں، نااتفاقیوں اور ناچاقیوں سے بچتے رہنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے نیکی کے عظیم کام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں نرمی اپنانے، ایک دوسرے کو منانے اور لڑائی جھگڑے سے خود کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

تازہ ترین خبریں