08:16 am
ایک عظیم امریکی روز پیرٹ سینئر کی یاد میں 

ایک عظیم امریکی روز پیرٹ سینئر کی یاد میں 

08:16 am

ڈیلاس میں روز پیرٹ سینئر 89برس کی عمر میں کینسر کے خلاف جنگ ہار گئے، زندگی سے بھرپور اس شخص کی موت کی خبر سے شدید صدمہ ہوا۔ ان کے صاحبزادے روز پیروٹ جونیئر راقم کے بہترین دوستوں میں شامل ہیں۔ 
روز پیرٹ نے 1930ء میں ٹیکساس میں آنکھ کھولی۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ شدید مالیاتی بحران سے دوچار تھا اور ان حالات میں روز پیرٹ اپنے بل پر ارب پتی بنے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسی ’’امیریکن ڈریم‘‘ میں زندہ رہے، جو خواب اپنی قسمت بنانے کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر امریکہ کا رخ کرنے والوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔ سات برس کی عمر میں وہ صبح سویرے اسکول جانے سے پہلے اخبارات تقسیم کرنے کا کام کرتے رہے۔ 1953ء میں گریجویشن کے بعد امریکی نیوی سے منسلک ہوئے اور پانچ برس تک خدمات انجام دیں اور یہیں پہلی بار کمپیوٹر سیکھا۔ یہاں سے ان کی دلچسپی اس شعبے میں پیدا ہوئی اور بعدازاں انہوں نے ڈیٹا پراسیسنگ کی دو بڑی کمپنیاں قائم کیں جنہیں 1990ء کی دہائی میں اچھے منافعے پر فروخت کردیا۔ 1957ء  میں امریکی بحریہ سے سبک دوش ہوکر روز پیرٹ نے بطور سیلز مین آئی بی ایم میں ملازمت اختیار کرلی۔ سی ای او آئی بی ایم کو جب معلوم ہوا کہ فروخت پر ملنے والے کمیشن کی وجہ سے  اس سلیز مین کی آمدن اس سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے تو اگلے برس پیرٹ کی آمدن کو ایک خاص حد تک رکھنے کے لیے ضوابط تبدیل کردیے گئے۔ 
 
پیرٹ پہلے ہی مہینے میں اس مقررہ حد تک منافع کمانے میں کام یاب ہوگئے۔ پیرٹ دراصل آئی بی ایم کے بنائے گئے بڑے کمپیوٹرز کے لیے فراہم کردہ خدمات و سہولیات میں پائی جانے والی کمیوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ انہیں دور کرنے کے لیے پیرٹ نے آئی بی ایم کی انتظامیہ کے سامنے چند تجاویز رکھیں جنھیں نظر انداز کردیا گیا۔ انتظامیہ کے رویے سے مایوس ہو کر پیرٹ نے 1962ء میں ملازمت چھوڑ دی اور صرف 1000ڈالر کی سرمایہ کاری سے الیکٹرانک ڈیٹا سسٹم (ای ڈی ایس) تشکیل دیا اور تمام توانائیاں اس پر لگا دیں۔ میں اور ڈاکٹر احسان جب ان سے ملنے گئے تو انہوں نے بڑے فخر سے اس سرمایہ کاری کے لیے اپنی اہلیہ کے دیے گئے ایک ہزار ڈالر کے چیک کی کاپی ہمیں دکھائی۔ 
وقت کے ساتھ تبدیلیاں قبول کرنی پڑتی ہیں اور حالات کی ستم ظریفی ہی کہیے کہ آج آئی ابی ایم گلوبل سروسز دنیا بھر میں آئی بی ایم کا سب سے منافع بخش حصہ ہے۔ روز پیرٹ نے 1984ء میں جنرل موٹرز کو 2.4ارب ڈالر کے عوض ای ڈی ایس فروخت کرنے کا حیران کن فیصلہ کیا۔ اس کے بعد 1988ء میں انہوں نے پیرٹ سسٹم کی بنیاد رکھی اور 2009ء میں اسے 3.9ارب ڈالر کے عوض ’ڈیل سسٹم‘ نے حاصل کرلیا۔ روز پیرٹ کی کاروباری بصیرت حیران کُن تھی اسی لیے جب اسٹیوجابز نے ’’ایپل‘‘ کمپنی چھوڑی  اور ’’نیکسٹ‘‘ کی صورت میں کام یابی کی نئی داستان رقم کرنے کی ٹھانی  تو روز پیرٹ نے اس میں دو کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔  
روز پیرٹ سینئر ہمیشہ اپنے ملک کے احسان مند  اور اس کی بھلائی کے لیے فکر مند رہے۔ بے پناہ دولت کمانے کے باوجود ان میں رعونت  اور خود غرضی کا شائبہ تک نہیں تھا اور نہ ہی وہ کبھی اپنے ہم وطنوں کے مسائل سے لا تعلق رہے۔ ویت نام جنگ میں قیدی بننے والے امریکی فوجیوں کی حالت زار انھیں بے چین کیے رکھتی تھی اور 1969 ء میں انہوں نے  شمالی ویت نام میں فضائی راستے سے امریکی جنگی قیدیوں کے لیے خوراک اور ادویات وغیرہ لے جانے کی کوشش بھی کی۔ انہیں کام یابی حاصل نہیں ہوسکی اور توقع کے مطابق انہیں نہ صرف ہنوئی اور ماسکو کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ حیران کُن طور پر واشنگٹن میں بھی ان کے اس اقدام کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ پیرٹ جنگی قیدیوں سے متعلق ہمیشہ حساس رہے اور ان کی محفوظ واپسی میں ناکامی پر بعد میں آنے والی حکومتوں کے شدید ناقد بھی رہے۔ 
1978ء میں ان کی کمپنی کے دو ملازمین کو شاہ ایران کی ڈگمگاتی حکومت کے ساتھ کسی کاروباری معاہدے کے تنازعے پر گرفتار کرلیا گیا اور ان پر کرپشن کے الزامات لگا کر قید میں ڈال دیا گیا۔ کمپنی کو بتادیا گیا کہ ان کی رہائی کے لیے 1کروڑ 20لاکھ ڈالر کی رقم ادا کرنا ہو گی۔ روز پیرٹ کو جب یقین ہوگیا کہ صدر کارٹر کی انتظامیہ اس معاملے میں دلچسپی نہیں لے رہی تو اپنے ملازمین سے متعلق ان کی فکر مندی بڑھ گئی اور انہوں نے اسپیشل فورس کے ایک ریٹائرڈ کمانڈر کرنل آرتھر سائمنز کی مدد سے خود ہی اپنی کمپنی کے کچھ ملازمین کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو ایران سے لانے کا منصوبہ بنایا۔ 1979ء میں ایران کے حالات اس نہج پر پہنچے کہ شاہ ایران ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور اسی ہنگامہ خیزی میں پیرٹ کے منصوبے کی کامیابی کے امکانات پیدا ہوئے۔ چار ہفتے کی مسلسل کوشش کے بعد انہیں بالآخر موقعہ مل گیا۔ ہجوم نے تہران کے قصر جیل پر حملہ کرکے وہاں موجود دس ہزار قیدیوں کو آزاد کردیا۔ پیرٹ اور سائمنز کو وہاں اپنے ساتھی بھی مل گئے اور وہ انہیں ایک گاڑی میں لے کر راستے میں بھاری رقم رشوت کے طور پر ادا کرتے ہوئے ترکی  کی سرحد تک پہنچنے میں کام یاب ہوگئے۔ اس واقعے سے متاثر ہو کر کین فولیٹ نے “On Wings of Eagles” ناول لکھا اور اس پر ٹیلی وژن پروگرام بھی بنایا گیا۔ روز پیرٹ کی اپنے ملازمین کو بچانے کے لیے کی گئی اس جراتمندانہ مہم نے انہیں قومی سطح پر شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 
روز پیرٹ کبھی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے تھے تاہم 1992ء میں انہوں نے ایک ٹاک شو  میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے صدراتی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا۔ اپنی انتخابی مہم میں انہوں نے متوازن بجٹ اور بیرون ملک ملازمین کی آؤٹ سورسنگ ختم کرنے کا اپنا مقبول بیانیہ پیش کیا۔ انہوں نے ’’نارتھ امیریکن فری ٹریڈ ایگریمنٹ‘‘ کی مخالفت کی اور اس کی منظوری کی صورت میں امریکیوں کے ملازمت کے مواقع چھن کر ایشیائی ممالک منتقل ہوجانے کے خدشات کو نمایاں کیا۔ انہوں نے امریکہ کے سیاسی نظام پر بھی کڑی تنقید کی۔ اس اعتبار سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پیشرو تھے۔ انہوں نے سیاسی پارٹیوں کو امریکی عوام کے حقیقی مسائل سے چشم پوشی کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ دیکھا جائے تو پیرٹ 25برس قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی بیانیے کے خدوخال واضح کرچکے تھے۔ پیرٹ کے حکومتی حجم کو کم کرنے اور عالمگیریت مخالف موقف ہی کو ٹرمپ نے ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘  کے نعرے کی شکل دی۔ آزاد حیثیت میں  روز پیرٹ نے 1992ء کے انتخابات میں  امریکی صدارتی امیدوار  بننے کے لیے  39فی صد کی حمایت حاصل کی اور نہ جانے کیوں اچانک جولائی میں اس دوڑ سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔
(جاری ہے)
 ان کے حامیوں نے دوبارہ انہیں صدارتی دوڑ میں شامل ہونے پر آمادہ کیا اور یکم اکتوبر کو پیرٹ پھر اس دوڑ میں شامل ہوگئے لیکن 60دنوں کے وقفے نے ان کی مہم کی رفتار ماند کردی۔ پہلے صدارتی مباحثے میں پیرٹ کو مقابل امیدواروں پر واضح برتری حاصل رہی۔ صدارتی انتخابات میں پیرٹ مجموعی ووٹوں کا 19فیصد حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے جب کہ انتخابات جیتنے والے بل کلنٹن نے  45فیصد اور دوسرے نمبر پر رہنے والے جارج بش نے 37.5 فی صد حاصل کیے۔ امریکی تاریخ میں پیرٹ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے آزاد امیدوار ثابت ہوئے۔ 1996ء میں پیرٹ نے سیاسی سرگرمیاں ترک کردیں اور 1988ء میں اپنی قائم کردہ پیرٹ سسٹمز کارپوریشن کی صدارت سے بھی علیحدگی اختیار کرلی۔ وہ 2000ء تک کمپنی کے سربراہ کے عہدے پر رہے اور 70برس کی عمر میں یہ عہدہ بھی اپنے بیٹے روز پیرٹ جونیئر کے حوالے کردیا۔ لیکن اپنے ملک سے متعلق ان کی فکر مندی کبھی ختم نہیں ہوئی۔ امریکہ کے قومی قرضوں سے متعلق وہ ہمیشہ پریشان رہے اور 2008ء میں انہوں نے اپنے ہم وطنوں میں اس حوالے سے آگاہی کے لیے ایک ویب سائٹ کا اجرا کیا۔ اگلے ہی برس  امریکہ کے ’’ویٹرن افیئر ڈپارٹمنٹ‘‘ نے انہیں افواج کی فلاح کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی اعزاز دیا۔ 
 1994ء میں اپنے بیٹے کی بوسٹن یونیورسٹی سے گریجویشن کے موقعے پر روز پیرٹ سینئر کو پہلی بار دیکھا۔ 1992ء کا یہ صدارتی امیدوار انتہائی باوقار اور متاثر کُن مقرر تھا۔ پیرٹ خاندان سے میری قربت کا آغاز 2004ء میں ایسٹ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ میں شمولیت کے بعد ہوا، روز پیرٹ کے صاحبزادے روز پیرٹ جونیئر اس ادارے کے بورڈ چیئرمین تھے اور بعدازاں ان سے میری گہری دوستی ہوگئی۔ روز جونیئر کی مہربانی سے مجھے 2013ء میں ڈیلاس میں مقیم قریبی دوست ڈاکٹر احسان الحق کے ہمراہ اس عظیم انسان سے ملاقات کا موقعہ ملا، اس وقت ان کی عمر 83برس ہوچکی تھی۔ یہ ایک نادر موقع تھا اور کئی اعتبار سے میرے لیے یہ ملاقات چشم کشا ثابت ہوئی۔ انھوں نے نہ صرف ہمیں اپنے جمع کیے گئے نوادرات کی تفصیلات بتائیں بلکہ ہمیں ڈیلاس ٹیکساس میں قائم اپنے وسیع و عریض دفتر کا دو گھنٹوں پر محیط دورہ کروایا۔ اس سے قبل جب روز جونیئر نے مجھے ہیلی کاپٹر کی سواری کی پیش کش کی اور ساتھ ہی مجھے ہیلی کاپٹر اڑانے کا کہا تھا تو میرا خیال تھا کہ وہ مذاق کررہے ہیں۔ مجھے اس وقت تک یقین نہیں آرہا تھا جب میں ان کے بیل 407کے دہرے کنٹرول والے ہیلی کاپٹر کی داہنی نشست پر نہیں بیٹھ گیا، ہم نے تقریباً ایک گھنٹے کی پرواز کی۔ اگرچہ میں نے 1975ء میں کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کرلیا تھا لیکن مجھے ہیلی کاپٹر اڑائے ہوئے 42برس ہوچکے تھے۔ روز میرے ہم سفر تھے اور مجھے شمالی ڈیلاس میں وسیع رقبے پر پھیلے ان کے رہائشی اور کمرشل علاقے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ 
روز پیرٹ جونیئر کا مزاج بھی امیرزادوں جیسا نہیں۔ انہوں نے جب پیرٹ خاندان کے زیر ملکیت الائنس ایئرپورٹ سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا تو ان کا وژن اور موضوع پر عبور حیران کن تھا۔ ’’سرکل ٹی رینچ‘‘ کا زیادہ تر حصہ ’’ہل ووڈ اسٹیٹس‘‘ پر مشتمل ہے، 18ہزار ایکڑ کا رقبہ 25برسوں میں تعمیر کیا گیا(جس میں چار کروڑ اسکوائر فٹ پر ترقیاتی کام ہوچکے ہیں)۔ روز پیرٹ جونیئر نے خود کو اپنے باپ کا حقیقی بیٹا ثابت کیا ہے اور وہ اپنے والد کی طرح کاروباری وژن ، دیانت داری، باہمی احترام اور ٹیم ورک جیسی اقدار کا ورثہ آگے بڑھا رہے ہیں۔ 
روز پیرٹ سینئر قسمت کے دھنی ہیں جو انہیں ایسا بیٹا ملا۔ ای ڈبلیو آئی کے لیے روز جونیئر نے جس یکسوئی کے ساتھ تزویراتی منصوبہ بندی کی اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کوئی معمولی شخصیت نہیں۔ اپنے والد جیسا پختہ عزم رکھنے والے روز جونئیر نے (جو کوبرن  کے ساتھ) محض 21برس کی عمر میں 29دنوں میں ہیلی کاپٹر پر پوری دنیا کا چکر لگا کرایک تاریخ رقم کی۔ وینڈربلٹ یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد انہوں نے تقریباً نو برس امریکی فضایہ میں بطور F-4پائلٹ خدمات انجام دیں۔ ہمارے ہاں کتنے ارب پتیوں کے بیٹے فوج میں جا کر ملک کی خدمت کرتے ہیں؟ ہمارے ہاں لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان جیسی مثالیں موجود ہیں ، جو رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ کے گریجویٹ ، ویٹرنز آف پاکستان کے موجودہ صدر ہیں اور پاکستان ایکس سروس مین ایسوسی ایشن سے بھی منسلک ہیں۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے مادر وطن کو بہت کچھ لوٹانے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ آج ہمارے بزنس ٹائیکون اس سے بہت زیادہ کرسکتے ہیں (اور انہیں کرنا چاہیے) جو وہ اس وقت کررہے ہیں۔ روز جونیئر کے بیٹے ہل نے بھی امریکی فضائیہ میں خدمات انجام دی ہیں جس طرح احمد قلی(علی کے چھوٹے بھائی) نے پاک فضائیہ میں سورڈ آف آنر حاصل کرکے قومی فریضے کے لیے خود کو پیش کیا۔ 
گزشتہ کئی برسوں سے میرے لیے ڈیوس میں پاکستان بریک فاسٹ میں روز پیرٹ جونیئر کی شرکت بہت اہم ہوتی ہے۔ وہ2012ء اور 2013ء میں اس تقریب میں شریک تھے جب عمران خان نے پاکستان کے ممتاز سیاسی رہ نما کی حیثیت سے بطور مہمان خصوصی  پاکستان بریک فاسٹ میں شرکت کی تھی۔ روز جونیئر نے اس وقت پیش گوئی کی تھی کہ عمران خان پاکستان کا وزیر اعظم بنے گا، ان کی یہ بات چند ہی برسوں بات درست ثابت ہوئی۔ 2015ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے آخری لمحات میں بریک فاسٹ میں شرکت سے معذرت کی تو روز پیرٹ جونیئر نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ دو برس قبل ہم دونوں کے خاندان کو اردن میں ایسٹ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ کی بورڈ میٹنگ میں یادگار وقت ساتھ گزارنے کا موقعہ ملا۔ روز پیرٹ کے پاکستان میں کاروباری مفادات نہیں لیکن میرے لیے ان کی دوستی اور قربت بتاتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ غیر مشروط وابستگی کی اپنی خاندانی اقدار پر کاربند ہیں۔  
روز پیرٹ سینئر کی موت پر پیرٹ خاندان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بجا طور پر کہا گیا ہے ’’ کاروبار اور زندگی میں روزپیرٹ دیانت داری اور تحرک پر یقین رکھتے تھے۔ وہ  کم یاب بصیرت، اصول اور ہمدردی کا جذبہ رکھنے والیایک محب وطن امریکی  تھے ، انہوں نے جس  استقلال کے ساتھ فوج اور سابق فوجیوں کی خدمت کے لیے فلاحی منصوبوں کی معاونت کی اس سے بے شمار افراد کی زندگی میں بہتری آئی۔‘‘ ٹیکساس کے پیرٹ بلاشبہ امریکہ کے عظیم خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ میں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جانب سے  روز پیرٹ جونیئر کے ساتھ ان کے عظیم والد کے موت سے پہنچنے والے  صدمے پر دلی اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ یہ صرف ان کا نقصان نہیں، میرے لیے بھی ذاتی صدمے کا درجہ رکھتا ہے اور اسی طرح امریکہ سمیت پوری دنیا کے لیے بھی۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 
 

 

تازہ ترین خبریں