08:18 am
 سفارتی دکھاوے اور بھارتی عزائم 

 سفارتی دکھاوے اور بھارتی عزائم 

08:18 am

    کیا ہونے جا رہا ہے ؟ یہ سوال اکثر احباب پوچھتے ہیں ! بھارت سے تعلقات کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے یہ کسی گھن چکر سے کم نہیں ۔ دو خبریں شائع ہوئی ہیں ۔ دونوں مختلف رنگ اور تاثر قائم کر رہی ہیں۔ پہلی خبر مثبت ہے کہ کرتار پور راہداری پر پاک بھارت مذاکرات کامیابی سے  منعقد ہوئے۔ لگتا ہے کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہو گی اور امن کی فضا بنے گی ۔ کہاں الیکشن سے پہلے بھارتی حکومت پر جنگ کا جنون طاری تھا ۔ لگتا تھا کہ پردھان منتری مودی کا جنگجو جتھہ الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔ پلوامہ حملے سے بالا کوٹ سرجیکل سٹر ا ئیک  اور دو طیاروں کی تباہی تک کی کہانی دہرانے کی ضرورت نہیں ۔ جنگ کے میدان میں منہ توڑ جواب وصول فرما کر مودی سرکار کی طبیعت تو صاف ہوئی لیکن نیت کا کھوٹ اور بڑھ گیا ۔ زبانی کلامی جنگ سے وہ باز نہیں آئے ۔ ہر جلسے ، ریلی اور انٹرویو میں پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دی۔ عوام کے ذہنوں میں پاکستان کا ہوا کھڑا کر کے شریمان مودی کو بھارت کا  بہادر جنگجو بنا کے پیش کیا گیا ۔ 
 
بھارت کے میڈیا نے بھی ثابت کیا کہ اگر دام اچھے ملیں تو پھر وہ چوہے کو شیر ، پاگل کو دانشور ، درندوں کو انسان  اور شدت پسندوں کو امن پسند بنا کر پیش کر سکتے ہیں ۔ بی جے پی نے دام اچھے لگائے ! میڈیا کا جادو چلا اور بھارتی عوام نے مودی ، امیت شاہ اور یوگی ادیتیا ناتھ جیسے نیتائوں کے خونی جتھے کو منتخب کر کے اپنے پاگل پن کا ناقابل تردید ثبوت پیش کیا ۔  بھارت میں شدت پسندی کی عریانیت کو ڈھانپنے کے لیے انڈین نیشنل ازم کا لفظی پردہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب اس لفظ کا ترجمہ آپ بھارتی قوم پرستی کر لیجیے یا بھارتی وطن پرستی لیکن دراصل یہ  ہندو شدت پسندی ہی رہے گی۔
 ہمارے یہاں بھارت سے مرعوب رہنے والے دانشوروں کا گروہ اپنے تجزیوں اور تحریروں میں بی جے پی کی بدترین شدت پسندی اور مذہبی تعصب پر مبنی فکر کو انڈین نیشنل ازم کہتے ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا ۔ یہ بحث کسی اور وقت پر اٹھا رکھیے ! اصل بات کی طرف لوٹتے ہیں کہ جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار اب جو الیکشن جیتنے کے بعد رفتہ رفتہ پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات کی طرف لوٹتی دکھائی دے رہی ہے  تو اس کا کیا مطلب لیا جائے؟ کیا مودی کی قیادت میں بھارت اب پاکستان کے ساتھ پرامن انداز میں جینے کو راضی ہے یا کرتار پور راہداری پر پیش رفت محض ایک سیاسی اور سفارتی دائو ہے؟ کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی حالیہ گیدڑ بھبھکیاں پڑھ لیجیے! گذشتہ چند روز سے بھارتی سینا پتی پر کچھ ایسا ہی جنگی جنون دوبارہ طاری ہوا ہے جیسا کہ مودی سرکار پر الیکشن سے پہلے طاری ہوا تھا ۔ بپن راوت پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور بیک وقت کثیرالجہتی جنگ لڑنے کے لیے بھارتی سینا کو تیار رہنے کی ہدایات بھی دے رہے ہیں ۔ پاکستان اور چین سے بیک وقت جنگ لڑنے کی پرانی خواہش بھی دوبارہ اُن کے لبوں پر مچل اُٹھی ہے۔ ان بیانات کے بعد یہ سوچنا غلط نہ ہو گا کہ پاکستان کے بارے بھارت کی نیت میں کھوٹ ابھی تک ختم نہیں ہوا ۔ 
ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ۔ موجودہ حالات میں یہ طرز عمل سفارتی اعلان جنگ نہیں تو اور کیا ہے؟ بھارت کے سفارتی دکھاوے پر صدقے واری ہونے کے بجائے ٹھوس زمینی حقائق کو پیش نظر رکھا جانا ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو روایتی اور غیر روایتی تصادم سے گریز کرنا چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ بھارت اور اُس کے اتحادیوں کی کھلم کھلا جارحیت اور تخریب کاری پر آنکھیں بند کر لی جائیں ۔ بھارتی آرمی چیف کے دھمکی آمیز بیانات ، ایف اے ٹی ایف کے فورم پر مودی سرکار کا اعلان جنگ ، پاکستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی ہی  بھارت کی اصل پالیسی ہے۔ مٹھی بھر  نام نہاد لبرل ٹوڈ ی خود رو گھاس کی طرح اگنے والی نیوز  ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر دن رات پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں ۔ غیر محسوس انداز میں گھما پھرا کے یہ تاثر قائم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں علیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں اور پاک فوج حکمرانوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرتی رہتی ہے۔ اس بھارتی جھوٹ کا پرچار کرنے والے لبرل ٹوڈیوں سے جب یہ پوچھا جائے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں پر اُن کی کیا رائے ہے؟ پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی بی ایل اے کی ڈوریں کون ہلا رہا ہے؟ 
اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم پر جاری کی جانے والی رپورٹ پر قلم کیوں نہیں چل رہا ؟ بھارتی دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافے سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہونے اور طاقت کا توازن بگڑنے پر کوئی پریشانی کیوں نہیں ؟ بھارت کے دفاعی اخراجات سے علاقائی ترقی کا پہیہ رکنے کا کوئی غم کیوں نہیں ؟  تو یقین مانیے ایسے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ہمارے نام نہاد لبرل دا نشو ر و ں کی زبانوں کو لقوہ مار جاتا ہے ۔ تیوریوں پر بل پڑ جا تے ہیں اور قلم اٹھانے والا ہاتھ وقتی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔ 
خشمگیں مجھ پر ہوا اک بار پھر وہ اے ظفر
پھر اُسے میرے سوالوں کا جواب آیا نہیں 

تازہ ترین خبریں