08:19 am
نیٹوکاکڑاامتحان

نیٹوکاکڑاامتحان

08:19 am

اٹلانٹک کے اردگردپھیلے ملکوں کااتحادایک بارپھر اپنایوم پیدائش منارہاہے سردجنگ سے لے کرآج تک ان چالیس سالوں میں اس اتحادنے یورپ میں امن کو یقینی بنایاہے اور سکیولر ازم کوتحفظ فراہم کیاہے سویت یونین جب بکھررہاتھااس وقت نیٹواتحادنے ہی یورپ کومستحکم رکھتے ہوئے بے مثال خوشحالی اورامن کویقینی بنایا۔نیٹوکے سابق برطانوی ایمبیسٹر،لندن تھنک ٹینک اوریورپین لیڈرشپ نیٹورک کے موجودہ ممبرسرآدم تھامس کے مطابق یہ اتحادایک پرعزم ومستحکم ارادے کوظاہرکرتاہے اٹلانٹک ملکوں کایہ اتحادیورپ میں بے مثال امن واستحکام کی وجہ سے مطمئن اورخوش ہے، یورپی ممالک امن وخوشحالی کیلئے نیٹوکے کردارکواہم گردانتے ہیں اورنیٹوکواک نعمت کے طورپرسمجھاجانا چا ہیے۔    یہ اتحاداب پہلے سے زیادہ مضبوط ہے بہت جلد نیٹو کے 30ارکان ہوں گے اوریہ930ملین لوگوں کی سرحدی حفاظت کاذمہ دارہوگا۔نیٹوممالک کے پاس دنیاکی نصف جی ڈی پی ہے جبکہ ان کے دفاعی اخراجات 55فیصدہیں۔پچھلے سال کانفرنس میں نیٹوممالک کے پاس کرنے کے کام کی ایک لمبی لسٹ موجودتھی اوریہ اتحادنئے مراکزکھولنے کیلئے بھی پرجوش ہے۔
 
نیٹو کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نیٹوممالک کایہ اتحادتاریخی طورپرسخت مشکلات کے دورسے گزررہاہے۔نیٹو کے سابق امریکن ایمبسٹر ڈوگلاسلیوٹ اور نکولس برنس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس اتحاد کی پریشانیوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ ہاورڈکنڈے اسکول بلفر سینٹرنے نیٹوکی سترسالہ جدوجہدکاجائزہ لیااس جائزے کے مطابق نیٹونے بہت سی مشکلات اورمسائل کاکامیابی سے مقابلہ کیاہے سب سے بڑامسئلہ نیٹوکی پشت پر ا مر یکی  صدرٹرمپ کی حمایت کی غیرموجودگی ہے۔ٹرمپ کچھ معاملات میں نیٹوکی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ اتحادابھی باقی رہے اوراپنے دفاع کیلئے متحرک رہے ،ٹرمپ کے پاس نیٹوہی اک ایساپلیٹ فارم ہے جہاں وہ جرمنی کامسئلہ اٹھاسکتے ہیں لارڈاسمے کے تازہ ترین بیان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ نیٹواب جرمنی کوآگے لانے میں مددکرے۔
ٹرمپ نیٹوکی خوشی میں رکاوٹ بھی ہیں وہ یورپ کے ملکوں کواس بات پراکساتے بھی ہیں کہ نیٹوکے قیام کے بنیادی مقاصدکااک بارپھرجائزہ لیاجاناچاہیے وہ کانگریس کواپنے دفاع کیلئے آگے آنے کی تجویزدیتے ہیں اوروزیروں کودنیاکیلئے اب ابھی ضروری ہے کہ موضوع پراداریہ لکھنے کامشورہ دیتے ہیں۔ٹرمپ یورپ کے مستقبل کے بارے میں اب فکرمند نہیں ہوتے بلکہ اگر کوئی نیٹو اتحادکی مزید موجودگی یاضرورت پرحیرت کااظہار کرے توٹرمپ اس بات کویقینی بناتے ہیں کہ اس کی بات کوتوجہ دی جاتی رہے۔
یورپ کومحفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ نیٹو امریکہ کے تحفظات کاخیال بھی رکھتاہے نیٹوکے خیرخواہ ٹرمپ کی نیٹوسے متعلق اختلاف کوغلط خیال کرتے ہیں۔ مسٹربرنس یہ رائے دیتے ہیں کہ امریکہ کے اتحادیوں کوامریکاکیلئے مزید کام کرناچاہیے۔اس وقت بھی امریکہ اپنے اتحادیوں کی وجہ سے طاقت،عسکری قوت اوراپنے فوجیوں کیلئے دنیابھرمیں مرکزی جگہیں حاصل کرنے میں کامیاب رہاہے۔ان کی نظرمیں امریکہ کا نیٹوکوچھوڑنابے وقوفی ہے کیوںکہ نیٹو میں امریکہ کے کئی اتحادی موجودہیں جبکہ چین اورروس کے پاس نہیں ہیں اوریہی خوبی امریکہ کو چین اورروس سے ممتازکرتی ہے۔نیٹوکی حمایت کیلئے ٹرمپ کے پاس بس اک یہی وجہ رہ گئی ہے لیکن ٹرمپ کی عرصہ صدارت میں آتے طوفان کسی بھی سیاسی وقت حالات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔اگرنیٹوپہلے کی طرح مضبوط رہناچاہتاہے تواسے بھرپورتیاری کرنی چاہیے اورنئے طریقے اپنانے ہوں گے،تین اطراف میں اسے مزید محنت کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے رابطوں کی رفتاربڑھانی ہوگی اس سے پہلے کے مزیدمشکلات کھڑی ہوں،نیٹوکوتیزی سے تیس ملکوں کواپنے ساتھ رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے اوریہ کام نیٹواتحاد اپنی بیوروکریسی کوفروغ دے کرکرسکتاہے لیکن صرف اتناہی کافی نہیں ہے ان خیالات کااظہارجیمس اسٹیورڈس نے کیاجوکہ اس عظیم اتحاد کے سپریم کمانڈررہ چکے ہیں انھوں نے مزیدکہاکہ اگران کے پاس جادوکی چھڑی ہوتی تووہ اس کے ذریعے شمالی اٹلانٹک کونسل کی 75فیصد حمایت اورووٹ حاصل کرلینے بجائے اس کے سوفیصدحمایت کیلئے انتظارکیا جائے،مناسب حالات اورسوفیصد حمایت کا انتظاررفتار کوبہت سست کردے گا۔شمالی اٹلانٹک کونسل کی اکثریت کی حما یت کیلئے محض تین گھنٹوں کی ضرورت ہے جو نیٹو  اورشمالی اٹلانٹک کونسل کویکجاکرسکتے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں نیٹوکواپنی ترجیحات کاتعین کرناہوگافوری طورپراپنے دفاع کومزیدمضبوط بناتے ہوئے مسئلوں سے نمٹنے کیلئے بہترین منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔مسائل مختلف سمتوں سے نظرآرہے ہیں اس سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے مختلف طریقوں سے نیٹوارکان کی تعدادبڑھانی چاہیے جلدیابدیرانہیں سخت نوعیت کے فیصلے کرنے ہوں گے کون سا طریقہ مسئلوں کوکم کرسکا ہے؟ اہم طریقوں پرکتنی توجہ درکارہے جیسے کہ آرکٹک؟ کیا ممبرشپ اسی طرح سے جاری رہنی چاہیے اورکیا ممبر شپ سے عملی ہدف حاصل ہوسکتاہے؟یہ تمام فیصلے انہیں جلد کرنے ہوں گے۔
تیسراسب سے اہم کام کرنے کایہ ہے کہ نیٹوکوچین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ مطابقت پیدا کرنی ہوگی امریکہ جب اپنی اسٹریٹجک ترجیحات کے ساتھ پسیفک علاقے میں آگے بڑھے گاتواس کہ ٹرانسلانٹک اتحادپرکیااثرات ہوں گے؟یورپ کے اتحادی اس بات سے آگاہ رہناچاہتے ہیں کہ چین اورامریکہ کی رقابت میں چینی5جی ٹیلی کامس ٹیکنالوجی پر کیا اثرات ہوں گے یعنی صدرزی چنگ کے بیلٹ روڈ تعمیری منصوبے کی سرمایہ کاری پرکیااثرات پڑیں گے ضروری نہیں یورپ کاہرملک یہی چاہتاہولیکن اس منصوبے کی مستقبل میں بہت اہمیت ہے۔
وہ قیادت کہاں سے آئے گی جومزدوروں کی نئی تقسیم کیلئے پرعزم ہو۔نیٹو کے تمام کھلاڑی اس وقت مشکل میں ہیں امریکاکوٹرمپ نے مشکل سے دوچارکیا ہے ،برطانیہ بریگزٹ کے ہاتھوں پریشان ہے،فرانس میں احتجاج ختم ہونے کانام نہیں لے رہے،جرمنی میں مارکل کاوقت اب تمام ہواچاہتاہے جبکہ ترکی اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے یورپ سے دورہورہا ہے، ایسے میں نیٹواتحادکاقائم اورمتحرک رہنااگرمشکل نہیں توآسان بھی نہیں ہے۔
ان تمام حقیقتوں کے باوجودنیٹوکی خودکودوبارہ طاقتوربنانے کی اہلیت کوکم سمجھنابے وقوفی ہے۔نیٹواپنی اہلیت کوبہت پہلے ثابت کرچکاہے۔اگرنیٹواتحاد نے اپنی خواہش کے مطابق اسی طرح100سال گزارلیے تویہ70سال اس کے بچپنے میں شمارہوں گے کیونکہ سوسال کی عمرکے بعدنیٹواتحاد اک بھرپورطاقت کے ساتھ عالمی نقشے پرابھرے گا۔ 

تازہ ترین خبریں