08:20 am
5ارب 97کروڑ ڈالر جرمانہ اور تاجروں کی ہڑتال

5ارب 97کروڑ ڈالر جرمانہ اور تاجروں کی ہڑتال

08:20 am

عالمی بینک سے متعلق ایک ثالثی ادارے نے ریکوڈک مقدمے میں پاکستان پر پانچ ارب 97کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا ہے‘ سپریم کورٹ آف پاکستان نے متعلقہ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا جو اس کے بعد ثالثی ٹریبونل میں چلی گئی...سپریم کورٹ کے جس بینچ نے یہ فیصلہ دیا تھا اس کی سربراہی افتخار محمد چوہدری کے ہاتھوں میں تھی اور اس کے بعد پھر یہ ہو اکہ ’’چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘ پاکستان پر پانچ ارب ستانوے کروڑ ڈالر جرمانہ کروانے میں پاکستان کے عوام کا کوئی ہاتھ نہیں‘ اور یہ بات بھی یاد ہے کہ آئی ایم ایف بڑی منتوں اور ترلوں کے بعد ہمارے کشکول گدائی میں جو قرضے کے نام پر بھیک ڈال رہا ہے وہ کل چھ ارب ڈالر ہیں۔
 
ہفتے کے دن تاجروں نے ملکی سطح پر ہڑتال کرکے حکومتی پالیسیوں سے نفرت کا اظہار کیا‘ کہا جاتا ہے کہ اس ہڑتال سے معیشت کو 25ارب کا جھٹکا لگا‘ دکھ کی بات ہے کہ بعض سرکاری دستر خوان کے راتب خور تاجروں کی اس ہڑتال کو ریاست مخالف قرار دیکر نفرتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں‘ اگر سرکاری راتب خوروں کے اس بیانیئے کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ عمران خان حکومت ایسی پالیسیاں ہی کیوں وضع کر رہی ہے کہ جن کی وجہ سے صرف ملک بھر کے تاجر ہی نہیں بلکہ کروڑوں عوام ہی سخت پریشانی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں یا ان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ’’ریاست مخالف‘‘ قرار دینا فکری گمراہی کی بدترین مثال ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ اگر پالیسیاں عوامی مفاد میں ہیں تو پھر عوام ان پالیسیوں کے اس قدر شدید مخالف کیوں ہیں؟ رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے امریکہ کے دبائو پر متنازعہ پالیسیاں بنا کر ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘  والا نعرہ متعارف کروایا تھا‘ پرویز مشرف کو بھی اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر بڑا ناز تھا‘ وہ بھی ٹی وی تقریروں میں قوم کو بڑے سہانے خواب دکھایا کرتا تھا لیکن اب وہ اور اس کے سہانے خواب کدھر چلے گئے؟ کوئی چاروں صوبوں‘ شمالی علاقہ  جات کا  کونہ کونہ چھان کر دیکھ لے؟ اگر کہیں پرویز مشرف نام کا کوئی ڈکٹیٹر ملے تو ہمیں بھی اس کی اطلاع کرے‘ کہیںبھی  نہیں، پاک سرزمین پر اس نام کا کوئی ڈکٹیٹر چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا۔
نئی نئی معاشی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں آج بھی بنائی جارہی ہیں‘ فرق بس اتنا سا ہے کہ پرویز مشرف نے جارج ڈبلیو بش کی غلامی کا طوق پہنا تھا اور عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے ہتھیار پھینک چکے ہیں‘ پرویز مشرف نے امریکہ کے دبائو پر پاکستانی قوم پر مظالم ڈھائے تھے۔ عمران خان آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت اس قوم کو معاشی ظلم کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں‘ کل تک رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی غلامانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے والوںکی  پرویزی دستر خوان کے راتب خور دہشت گرد‘ انتہا پسند اور شدت پسند قرار دیا کرتے تھے‘ جبکہ آج عمران خان کی معاشی پالیسیوں‘ آئی ایم ایف مارکہ ٹیکسز کے ناقدین کو سرکاری دستر خوان کے راتب خور ’’ریاست مخالف‘‘ قرار دینے کی غلطی کر رہے ہیں‘ جس طرح وقت اور حالات نے ثابت کر دیا کہ پرویز مشرف اور اس کی متنازعہ پالیسیاں غلط تھیں‘ پرویز مشرف کا حامی ٹولہ بھی ابن الوقت اور امریکی چھتری تلے پناہ گزین تھا۔
آنے والا وقت اور حالات یہ بات بھی ثابت کر دیں گے کہ عمران خان کی بعض آئی ایم ایف مارکہ پالیسیاں نہ صرف غلط بلکہ عوامی حقوق سے بھی متصادم تھیں‘ مگر اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہوگا‘ اعتماد کے رشتے مجروح ہوچکے ہوںگے‘ آج کے حکمرانوں کو نجانے کس نے بتایا ہے کہ حکمرانوں کا کام صرف ٹیکس وصول کرنا ہی رہ گیا ہے‘ کوئی انہیں بتائے کہ عوام کی زندگی کو آسان بنانا‘ غریب کے چولہے بجھنے نہ دینا‘ عوام کو تھانوں‘کچہریوں‘ عدالتوں‘ سرکاری د فتر و ں ‘ مارکیٹوں‘ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں سہولیات فراہم کرنا بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔
عمران خان کو حکومت سنبھالے گیارہ مہینے ہونے کو ہیں‘ آپ ملک بھر کے تھانوں‘ سرکاری دفتروں اور مارکیٹوں کو تو کھڈے میں ڈال دیں‘ عمران خان صرف اسلام آباد کا ہی کوئی ایک تھانہ‘ ہسپتال‘ دفتر یا مارکیٹ بتائیں کہ جس میں عوام کو  ترجیح دی جاتی ہو‘ عوامی حقوق کی پاسداری کی جاتی ہو؟ مظلوم انسانوں کی اشک شوئی کی جاتی ہو؟ سانحہ ساہیوال میں جن معصوم بچوں کے سامنے ان کے ماں‘ باپ کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا‘ ان بچوں کی مظلومیت پر کوئی پاکستانی ایسا نہیں ہے کہ جس کی آنکھوں سے آنسو نہ ٹپکے ہوں‘ جناب وزیراعظم! بتائیے کہ آپ نے سی ٹی ڈی کے ان درندوں کو کیا سزا دی؟ جس قوم کے تاجروں اور غریبوں نے پیسہ‘ پیسہ جوڑ کر آپ کی جھولی میں اربوں روپے ڈال کر آپ کو شوکت خانم ہسپتال کا مالک بنایا اسی قوم پر شبر زیدی کو مسلط کرکے خون نچوڑنا چاہتے ہیں‘ یہ زیادتی مت کیجئے‘ افہام و تفہیم کے راستے مت بند کیجئے‘ اس ملک میں آئی ایم ایف نے نہیں بلکہ آپ کو شوکت خانم کا مالک بنانے والی عوام نے رہنا ہے‘ ٹیکس لیجئے‘ ضرور لیجئے‘ لیکن عوام کے اعتماد کے ساتھ اور لگے ہاتھوں قوم کو یہ بھی بتائیے کہ آپ نے ان گیارہ مہینوں میں عوام کا خون نچوڑنے کے علاوہ بھی کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے تو وہ کیا ہے؟  شاعر اور ہمارے دوست اطہر ہاشمی نے ’’ٹیکس‘‘ کے عنوان سے جو ایک چھوٹی سی نظم لکھی ہے‘ مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دے گی‘ وہ لکھتے ہیں کہ :
حسن والوں کے یہاں دیدار پر ٹیکس ہے
پھر الفت پیار کے اظہار پر بھی ٹیکس ہے
عاشقوں کے بخت میں تو جیت ہوتی ہی نہیں
ظلم دیکھو عاشقوں کی ہار پر بھی ٹیکس ہے
دل جلوں کے رتجگوں کی کوئی قیمت ہی نہیں
حسن والوں کے درودیوار پر بھی ٹیکس ہے
لگ رہا ہے پھر ہلاکو خان واپس آگیا
جینا ہے دشوار ترگفتار پر بھی ٹیکس ہے
جوش میں کچھ زیادہ ہی تم آگے بڑھ گے ہو مطیع
بھول بیٹھے ہو یہاں اشعار پر بھی ٹیکس ہے

تازہ ترین خبریں