08:24 am
وادی نیلم پر قیامت!

وادی نیلم پر قیامت!

08:24 am

٭وادی نیلم پر قیامت، لاکھوں من پانی اچانک برس پڑا، 28 سے زیادہ افراد جاں بحق، بے شمار مکانات، دکانیں، مساجد، گاڑیاں، موٹر سائیکل، مویشی بہہ گئے!O شہبازشریف کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہO پنجاب اسمبلی، سوا گھنٹہ ہنگامہ کے بعد اجلاس ختم۔ ایک کروڑ9 لاکھ کے اخراجات O نوشی گیلانی اور مریم نواز میں مذاکرہ O تھر کے صحرا میں مٹی کا طوفان، بستیاں گرد میں چھپ گئیں۔
 
٭آزاد کشمیر میں وادی نیلم پر اچانک قیامت برس گئی۔ فضا میں تقریباً 15 کلو میٹر کی بلندی سے پھولے ہوئے غبارے کی مانند تقریباً 25 ہزار ٹن (70 لاکھ من) پانی کا گولا اچانک پھٹا اور یسوا کے سیاحتی مقام پرچند کلو میٹر کے رقبہ میں قیامت خیز تباہی مچا دی۔ ایک قاری حافظ نصیر الدین مغل کے مطابق کئی فٹ بلند پانی کے زبردست ریلے سے 24 افراد جاں بحق، متعدد لاپتہ،25 دکانیں، 150  سے زیادہ گھر، تین مساجد، بہت سے مویشی، پانچ گاڑیاں 13 موٹر سائیکل بہہ گئے۔ ان اعداد وشمار میں اضافہ کا امکان ہے۔ پاک فوج حسب معمول امدادی کارروائیوں میںمصروف ہے۔ اس المناک سانحہ میں فیصل آباد اور لاہور کے تبلیغی جماعت کے 11 ارکان، دو فوجی جوان اور متعدد سیاح بھی زد میں آ گئے۔ (اتنا بڑا قیامت خیز سانحہ اور بڑے ’قومی‘ اخبار نے بہت نیچے معمولی خبر لگائی ہے)
٭اچانک لاکھوں ٹن پانی کی بارش کوکلائوڈ برسٹ(Cloud Burst) یعنی بادل کے پھٹنے یا آسمان گرنے (Sky Fall) کا واقعہ کہا جاتا ہے۔ یہ ہولناک حادثہ بہت کم ہوتا ہے، مگر جب واقعہ ہوتا ہے تو قیامت برپا ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی مقام پر غیر معمولی گرمی کی بنا پر ہوا شدید گرمی کے باعث ہلکی ہو کر گرم بگولوں کی شکل میں اوپر آسمان کی طرف اٹھتی ہے اور بہت اوپر جا کر انتہائی سرد یخ بستہ فضا میں داخل ہو کر اک دم سخت سرد ہو جاتی ہے اوربم کے گولے کی طرح طوفانی انداز میں ایک کلو میٹر سے لے کر دس کلو میٹر تک کے حلقہ میں پانی کے بہت بڑے غبارہ کی مانند برس پڑتی ہے۔ اچانک انتہائی تیز بارش اور ژالہ باری سے اس کی کئی فٹ بلند لہروں کی زد میں آ کر عمارتیں، مکانات، دکانیں، ہر چیز بہہ جاتی ہے۔ کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ وادی نیلم میں یسرا کے مقام پراچانک یہ قیامت نازل ہوئی تو وہاں کثیر تعداد میں سیاح بھی موجود تھے۔ اس سانحہ کی تفصیل بیان کرنے کی ہمت نہیں پڑ رہی، سر چکرانے لگتا ہے۔ ہر طرح کی سائنسی ترقی کے باوجود ایسے اچانک واقعات کی پیش گوئی ممکن نہیں۔ یہ واقعات بہت کم ہوتے ہیں مگر دنیا بھر میں گرمی میں غیر معمولی اضافہ سے اب عام ہونے لگے ہیں۔ عام طور پر ایسی بارش دوتین گھنٹے کے بعد رک جاتی ہے مگر یہ زیادہ دیر بھی لے لیتی ہے۔ عام طور پر لگاتار چار انچ سے اوپر کی بارش کو غیرمعمولی اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ ڈھاکہ میں گیارہ جون 2009 کو مسلسل 24 گھنٹے 17 انچ بارش ہوئی۔ ڈھاکہ میں ہی جنوری 1966ء میں 92 انچ بارش ہوئی، نصف شہر ڈوب گیا۔ بنگلہ دیش میں ویسے ہی بارہ، تیرہ انچ بارش عام بات سمجھی جاتی ہے۔ انڈیا میں کلائوڈز برسٹ کے واقعات کثرت سے ہوتے ہیں۔ 26 جولائی 2005ء کو ممبئی میں 10 گھنٹے مسلسل 57 انچ بارش ہوئی۔ بے شمار عمارتیں ڈوب گئیں۔ شمالی بھارتی علاقہ میں 26 ستمبر2008ء کو خوفناک بارش سے دریائے موسیٰ (Mosi) میں 12 فٹ بلند پانی کی لہریں بلند ہوئیں، 15 ہزار افراد، 80 ہزار گھر ڈوب گئے۔ معذرت خواہ! یہ داستان یہیں ختم۔ خدا تعالیٰ پاکستان کو یہ مصیبت سے محفوظ رکھے!
٭اخبارات کی لیڈ سٹوری! شہباز شریف کے اربوں کے بڑے قیمتی اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثوں کی تحقیقات کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے ان میں ماڈل ٹائون لاہور میں بڑی کوٹھی، ڈونگا گلی میں بنگلہ پر پختونخوا میں گھر اور قیمتی گاڑیاں شامل ہیں۔ کسی اثاثے کو منجمد کرنے  سے وہ بدستور اس کے مالک کے استعمال میں تو رہ سکتا ہے مگر اسے فروخت یا کسی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا البتہ کوئی اثاثہ ضبط ہو جائے تو اس ملکیت سے سرکار کے نام منتقل ہو جاتی ہے۔ مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی۔ ایف بی آر نے مریم نواز سے ان کی دولت پر چھ لاکھ 57 ہزار روپے ٹیکس کی 23 جولائی تک ادائیگی کے نوٹس بھیج دیئے ہیں۔ اس میں 57 ہزار روپے تو انکم ٹیکس ہے اور باقی عدم ادائیگی پر چھ لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ 2013ء میں ان کی املاک کی قیمت 13 کروڑ 14 لاکھ روپے لگائی گئی ہے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز سے بھی 90 ہزار روپے کے انکم ٹیکس کی 23 جولائی تک ادائیگی کا نوٹس جاری کیا گیا۔ مقررہ تاریخ تک عدم ادائیگی پر ان دونوں خواتین کے اکائونٹس منجمد کر دیئے جائیں گے۔
٭اب کچھ دوسری باتیں! خواتین کی لڑائیاں اور ان میں نکتہ آفرینی بہت معنی خیز ہوتی ہے۔ بہاول پور سے تعلق رکھنے والی نوشی گیلانی پاکستان کی مشہور شاعرہ ہیں۔ ایک عرصے سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ حال ہی میں مدینہ منورہ میں نوازشریف کے بیٹے حسین نواز کی طرف سے اپنے حق میں فیصلہ کے لئے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد کو 50 کروڑ رشوت اور دوسری سہولتوں کی پیش کش کی خبریں سامنے آئیںتو نوشی گیلانی نے ایک ٹویٹ کیا کہ استغفراللہ! آنحضور نبی اکرمؐ کے روضہ اقدس کے زیر سایہ مدینہ شہر میںعمرہ کے نام پر حرام مال کی سودا بازی کرنے والے کرپٹ سیاستدانوں، بیٹے وغیرہ کے کیا دل نہ کانپ اٹھے ہوں گے! اس ٹویٹ کا فوری طور پر خود مریم نواز نے جواب دیا کہ مدینہ شہر میں ایسا کوئی واقعہ ہی نہیں ہو تو حرام و حلال کیسا! اس خبر پر نوشی گیلانی کا ٹویٹ واقعی بہت اہم ہے۔ مدینہ منورہ، محض ایک شہر ہی نہیں، پورے عالم اسلام کے لئے مکہ معظمہ کی طرح مقدس ترین شہر قرار پاتا ہے۔ مجھے ذاتی تجربہ رہا ہے کہ جتنے روز اس شہر میں رہا، سر جھکائے رہا سراٹھانے کی ہمت ہی نہیں پڑتی تھی۔ جب کہ مکہ معظمہ میں کعبۃ اللہ کی ہر وقت زیارت کے لئے سر اٹھانا پڑتا ہے۔ ان دونوں شہروں میں جا کر دل سوز عبادت اور مکمل حضوری کی بجائے کرپشن، رشوت کی سودا بازی؟ استغفار! یہ باتیں تو جج محمد ارشد نے ہائی کورٹ میں تحریری طور پر داخل کی ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی جا سکتی ہیں! انہیں آسانی سے کیسے جھٹلایا جا سکے گا؟ ان باتوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر جج محمد ارشد کو جِس سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
٭لاہور میں میٹرک کے اعلیٰ نمبروں والے طلبا نے وکیل بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر یا انجینئر بننے کی خواہش کا اظہار ہوتا تھا اس لئے کہ ان دونوں پیشوں میں بے حد و حساب دولت ملتی ہے مگر اب نوکریاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔  انجینئر بننے کا عالم یہ ہے کہ لاہور کی پرانی انجینئرنگ یونیورسٹی کی چند سو نشستوں میں داخلہ کے لئے گیارہ مقامات پر 46 ہزار امیدواروں نے ٹیسٹ دیا ہے۔ مگر وکیل بننے کی خواہش بھی عجیب ہے! اس وقت ملک بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ وکیل ہیں جو ضرورت سے زیادہ ہیں۔ شائد انعام یافتہ طلبا شائد اس لئے وکیل بننا چاہتے ہیں کہ وکیل بن کر ججوںکو مارنے میں بہت مزا آتا ہے!

تازہ ترین خبریں