08:27 am
c

c

08:27 am

ساڑھے تین سو کلومیٹر کی رفتار سے ہماری ریل کار  بیجنگ سے ہانگ زو  کی طرف جارہی تھی، میری سیٹ کےسامنے  لگی ہوئی ٹرے پر رکھا ہواکافی کا کپ بالکل  ایسے ساکن تھاجیسا زمین پر پڑی میز  پر ،اکثر مسافر کتاب پڑھ رہے تھےیا پھر اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرتے نظر آ رہے تھے۔ٹریک کےاطراف  خوبصورت اور لش گرین گھنے درخت  قطار اندر قطار  پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے۔ شام کاعجیب سہانامنظر تھا ، میں اس  میں کھویا ہوا تھا مجھے جنگل کی شہزادی اور اس کے شاعر جوش ملیح آبادی یاد آ رہے تھے۔پیوست ہے جو دل میں وہ تیر کھینچتاہوں اک ریل کےسفر کی تصویر کھینچتاہوں گاڑی میں گنگناتا مسرور جارہا تھااجمیر کی طرف سے جے پورجارہا تھاتیزی سےجنگلوں میں یوں ریل جا رہی تھی لیلیٰ ستاراپنا  گویا  بجا رہی تھی  میں نے دوسری سیٹ پر بیٹھے مظہر برلاس اور کومل سلیم کو دیکھا،آنکھیں بند کیں اور ایک بار پھر جنگل کی  شہزدی میں کھو گیا۔تھوڑی دیر بعد  آنکھ کھولی  اور ڈاکٹر صغریٰ صدف کومتوجہ کیااور انہیں حضرت جوش اور انکی جنگل کی شہزادی یاد کرائی،پلاک  کی روح رواں صغریٰ صدف خود بہت اچھی شاعر ہیں۔اسی اثنا میں اچانک میرے ساتھ بیٹھے ملک سلمان نے یہ کہ کرمیرے رومانس کا ستیا ناس کر دیا کہ گورایہ صاحب چینی ریلوے ہماری ریلوے سے بہت بہتر کیوں ہے؟ پاکستان ریلوے  کے ساتھ ہی میرے ذہن میں ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید  آگئے۔کہاں جوش ملیح آبادی،جنگل کی شہزادی اور کہاں شیخ رشید کا تصور،میں نےکہا جانےوالی نظروں سے ملک سلمان کو دیکھا ،پھر  میرے ذہن میں  پاکستان ریلوے کےنہایت اچھےسیکرٹری سلطان سکندر راجہ اور ڈائریکٹر منسٹر آفس علی نوازآگئے  اور میں نے پہلا خیال جھٹک کر دونوں ملکوں کی ریلوے کا موازنہ شروع کر دیا ۔
 
            19ویں صدی  کے دوران چین میں ریل کو متعارف کرانے کا آغاز ہواء توعجیب سا تنازع کھڑا ہو گیا،شاہی عدالت نے انجن سے نکلنے والے دھویں کو فصلوں،ماحولیات کیلئے نقصان دہ قرار دیکر اس کی مخالفت کی،ان حالات میں برطانوی کمپنیوں نے مختصر سفر کی آزمائشی ٹرین اپنے خرچ پر چلا کر حکا م اور عوام کی توجہ ریل کی طرف متوجہ کرانے کی کوشش کی جو کامیاب ہوئی،جس کے بعد 1876 میں شنگھائی سے ووسونگ تک ریل کی پٹڑی بچھا کر ٹرین سروس کا آغاز کیا،اس منصوبہ کیلئے امریکہ نے امداد فراہم کی اور ریل منصوبہ برطانوی کمپنی نے مکمل کیا۔بعد ازاں مسافر گاڑیوں کو عام لوگوں میں مقبول بنانے کیلئے شاہی خاندان نے محل سے ڈائننگ ہال تک جانے کیلئے دو کلو میٹر کی ریل سروس شروع کی جس کو دیکھ کر تائیوان کے گورنر نے 107کلو میٹر طویل ریلوے لائن کی لنگ اور تپائی کےدرمیان 1893میں بچھائی،اگر چہ جاپان کے تائیوان پر تسلط کے بعد ریلوے سسٹم کا خاتمہ کردیا گیا مگر  تب تک چینی بادشاہ کو ریلوے کی اہمیت کا احساس ہو چکا تھا،کانوں سے معدنیات نکالنے میں بھی ریل کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے چین میں ریل کا جال بچھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چینی حکومت نے اس منصوبہ میں عام شہریوں کو شامل کیا اورپرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ میں اس نظام کو چلایا جس کے بعد ریلوے نے تیز رفتار ترقی کی راہ اپنائی،بعد ازاں  پبلک پارٹنر شپ ختم کر کے ریلوے کو قومی تحویل میں لے لیاجس کے بعد ریلوے کی تاریخ کا نیا باب شروع ہوا ۔چائینہ ریلوے انٹرنیشنل کمپنی کے بڑے افسروں کا ایک پینل  ایک روز قبل اپنی بریفنگ میں ہمیں بتا رہا تھا  کہ چائینہ میں ریل کی ترقی کا یہ سفر آج بھی ماضی سے زیادہ   تیز رفتاری سے جاری ہے،امریکہ یورپ نے آواز کی رفتار سے تیز سپر سانک جیٹ بنائے تو چین میں ریل گاڑیوں کی رفتار اس کے قریب تر آرہی ہے،ریلوے کا سگنل،کراسنگ،شنٹنگ کا نظام   جدید اور خود کار ہے جس کی وجہ سے حادثات کی تعداد بھی بہت کم ہے،چین   اس وقت  آٹھ سو  کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرین چلانےکےمنصوبہ پر کام کر رہا ہے۔میں نے ریل کار کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو جگمگ کرتی روشنیوں کا ایک خوبصورت نظارہ  شروع  ہو چکاتھا ، شہروں کی بڑی بڑی روشن بلڈنگیں  چکا چوند کررہی تھیں، میاں سیف الرحمان میرے سے اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے انہوں نے آواز لگائی برادر کیا نظارہ ہے ۔چینی ریلوے کےبرعکس جب ہم اپنے ہاں ریلوے نظام کو دیکھتے ہیں تو شرمندگی کے ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے،تقسیم ہند کے بعد ہمیں ملک بھر میں پھیلا ریل کا نظام ملا،بوگیاں انجن،کیرج فیکٹریاں،سلیپر بنانے کے کارخانے ملے،کرشنگ مشینوں سے پتھر لانے  بچھانے کا نظام ملا،تعمیر شدہ ریلوے سٹیشن،سگنل سسٹم،ریلوے کراسنگ کا بنا بنایا نظام ہمیں ملا،چھوٹے گیج کی چھوٹی گاڑیاں صرف کانوں سے معدنیات ہی نہیں لاتی تھیں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں مسافر برداری کے کام بھی آتی تھیں جو اب خواب بن چکی ہیں جبکہ  انگریز ہمیں ہر بڑے چھوٹےشہر سے رابطہ کا نظام دیکر گیا مگر ہم نے اپنی نا اہلی سے اس نظام کو وسعت دینے کی بجائے سکڑنا اور سمیٹنا شروع کر دیا نتیجے میں چھوٹی گاڑیاں تو بند ہو چکی ہیں اور بڑی گاڑیاں سکڑتی سمٹتی جا رہی ہیں ،ہم آج تک سگنل اور کراسنگ سسٹم کو جدید نہیں بناسکے جس کی وجہ سے(باقی صفحہ6بقیہ نمبر2)
 ہمارے ہاں حادثات کا تناسب خطرناک حد تک زیادہ ہے.اب سی پیک کے تحت چین نے ہمارے ریلوے نظام کو جدید ،محفوظ ،تیز ترین بنانے کے منصوبہ پر کام شروع کیا ہے، ہماری حکومت اگر صرف مال گاڑیوں کا نظام ہی ٹھیک کر لیتی تو ریلوے سفید ہاتھی نہ بنتا اور خسارے کا سامنا نہ کر نا پڑتا،کراچی سے پشاور تک مسافر ٹرینوں کیلئے ٹریک ڈبل اور مال گاڑیوں کیلئے الگ ایک ٹریک بچھا لیا جاتا تو آج ٹرین کی رفتار بھی تیز ہوتی کراسنگ میں وقت بھی ضائع نہ  ہوتا اور کراچی بندر گاہ سے آنے جانے والا درآمدی برآمدی سامان بھی بر وقت منزل پر پہنچ پاتا۔ایوب دور میں چین نے ہی ہمیں لاہور سے خانیوال تک،برقی ٹرین چلانے کیلئے مدد فرہم کی چینی انجینئروں نے ٹریک نئی بچھائی،پول تاریں نصب کیں مگر ہم اس کو بھی نہ سنبھال سکے اور کاپر کی ایک انچ موٹی تاریں تو نہ جانے کس  کے کام آگئیں اب پول ایستادہ ہیں دیکھئے ان کے ساتھ کیا رویہ روا رکھا جاتا ہے۔بجلی کی قلت کے باعث یہ ٹرینیں تو بند ہو گئیں مگر برقی انجن بھی کاٹھ کباڑ میں بیچ دئیے گئے،کئی سٹیشن جو کبھی آباد ہوتے تھے آج وہاں الو بول رہے ہیں،قانون ہے ریلوے لائین کے سینٹر سے اطراف میں 90گز تک کسی قسم کی تعمیرات نہیں ہو سکتی مگر تمام بڑے شہروں میں ریلوے لائن سے چند فٹ دور تک قبضہ ہے کچی پکی تعمیرات ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اب جب ریلوے پٹڑی کو سی پیک کے تحت توسیع دیجائے گی تو جگہ خالی کرانے پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو جائے گا ، احتجاج ہو گا کئی ہزار لوگ بے گھر ہوں گے،معاوضہ متبادل جگہ دینے کے مطالبے ہونگے،قبضہ کرنے والوں کو بے گھر کر کے سزا دے دی جائے گی مگر جن افسروں نے قبضہ کرایا ان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں ہو گا اور ہمارے ہاں خرابی کی اصل جڑ ہی اصل ذمہ دار کو سزا نہ ملنا ہے،   آج اگر قبضہ کرانے والے افسروں کو بلا کر باز پرس کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تو آئندہ یہ سلسلہ روکا جا سکتا ہے۔
 
 

تازہ ترین خبریں