07:35 am
وزیر اعظم کا دورہ امریکہ 

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ 

07:35 am

 وزیر اعظم پاکستان عمران خان منتخب ہونے کے بعد پہلی بار رواں ہفتہ کے آخر میں امریکہ کے دورہ پر روانہ ہونگے۔ یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کی نظریں اس دورے پر لگی ہوئی ہیں۔ امریکی دورے سے قبل وزیر اعظم پاکستان چائنہ ، سعودی عرب اور ایران سمیت چند دوست ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے منتخب حکمرانوں کی سب سے بڑی خواہش سب سے پہلے امریکی یاترا کی ہوتی تھی مگر اب کی بار عمران خان نے اس روایت کو بدل دیا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان نے سوچی سمجھی ترکیب کے تحت امریکی دورے کو شروع میں اہمیت کیوں نہ دی۔ افغانستان کی جنگ کے دوران اگر چہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو دوستانہ تعلقات اور سٹرٹیجک پارٹنر کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا مگر مختلف امریکی صدور اور حکام نے پاکستان کے خلاف مختلف اوقات میں غیر ضروری بیان دیکر پاکستان کی مٹی پلید کرنے کی کوشش کی۔
 ایک طرف پاکستان نے روس کے خلاف امریکی جنگ میں چھلانگ لگا کر اپنے آپ کو تباہ کر لیا تو دوسری طرف امریکہ نے ہمیشہ فوجی امداد ہمیں جوتیوں میں رکھ کر دی جو ہمیشہ پاکستان کی تذلیل کا باعث بنتی رہی۔ گزشتہ چار دہائیوں میں کوئی ایک موقع بھی ایسا نہ آیا کہ جب امریکہ نے پاکستان کے جذبہ خیر سگالی ، دوستی اور بطور سٹرٹیجک پارٹنر اس کی تعریف کی ہو یا کم از کم پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم ہی کیا ہو۔ اب ریاست پاکستان نے بے پناہ نقصان اٹھانے کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کو کسی قدر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس کے ساتھ جاری مخاصمت کو پی پی پی کی حکومت کے دوران ختم کرنے کے لیے کوشش شروع کی گئی اور قریب تین دہائیوں کے بعد دونوں ممالک کے حکام کی ملاقاتیں بحال ہوئیں جو رفتہ رفتہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بڑھانے کا باعث بنی۔
 بھارت نے افغانستان میں ہمیشہ اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے درجنوں کو نسل خانے قائم کیئے۔ اربوں ، کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جس کا واحد مقصد یہ تھا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات کو ابھارا جائے۔ قونصل خانوں کے ذریعے ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم اور دیگر شر پسند عناصر کو تگڑا کرنے کے لئے  پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا جس کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی نیوی کے آفیسر کلبھوشن نیٹ ورک کا پکڑا جانا ہے۔
 میری رائے میں ان چند دنوں میں پاکستان نے سفارتی سطح پر دو بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پہلی کامیابی یہ ہے کہ امریکہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا اور دوسری بڑی سفارتی کامیابی بھارت کا افغانستان  کے امن مذاکرات کے عمل سے الگ کیئے جانا ہے پاکستان نے کامیابی سے بھارت کو اس حوالے سے سفارتی سطح پر ناک آئوٹ کیا ہے اور بھارتی میڈیا اس ایشو پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے۔
قارئین محترم!وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا امریکی دورہ خطہ میں رونما ہونے والی سفارتی تبدیلیوں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عندیہ دے چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی خواہش ہو گی کہ ان کے حالیہ عرصہ اقتدار میں افغانستان کا مسئلہ حل ہو جائے اس حوالے سے عمران خان اور ٹرمپ کی ملاقات کے نتیجہ میں کوئی بڑا اعلان بھی متوقع ہے۔
 وزیر اعظم عمران خان نے سادگی اور بچت کے پیش نظر اس دورے کے اخراجات کو محدود کرنے کے لیے اپنا قیام پرتعیش سیون سٹار ہوٹل کی بجائے پاکستان ایمبیسی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دیگر اراکین تھری سٹار ہوٹل میں قیام کریں گے۔ قوم نے اس دورے کی کامیابی کے لیے اچھی توقعات قائم کر رکھی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تین روزہ دورہ پاکستان کے مستقبل کے لیے کتنا مفید ثابت ہو گا؟
قارئین محترم! اس کالم کے چھپنے سے پہلے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف اپنا فیصلہ صادر کر چکی ہو گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انصاف کی عالمی عدالت قانون، واقعات اور حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی خارجی اثر لیے بغیر فیصلہ کرتی ہے یا کہ پاکستان مخالف ایک بڑی ریاست کو محض بڑا ہونے کی وجہ سے ریلیف دے گی۔ سابق تجربات کی بنیاد پر سچی بات یہ ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف سے کسی انصاف کی توقع کم ہی ہے…آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

تازہ ترین خبریں