07:37 am
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

07:37 am

کیاایک مرتبہ پھرکوئی شاہی فرمان جاری ہو گیا ہے؟ اس کی اطلاع مجھے کل ہی ملی تواپنی لاعلمی پرندامت کے سواکوئی جواب نہ تھا۔پیغام کے بعد گویالب بند،قلم بند،زباں بند، مہیب سناٹا، خاموشی، اضطراب اوربے کلی۔ پوری رات یوں ہی گزرگئی۔ پھرسناٹے،خاموشی اوراضطراب کو توڑتی ہوئی ایک آوازبلندہوئی۔رب کی برتری،عظمت اور جلال کی آواز! خانہ خدا کے بلند مینا ر و ں  سے گونجتی ہوئی،جسے کوئی نہیں روک سکتاہاں کوئی بھی نہیں۔رب ذوالجلال کی کبریائی بیان کرتی ہوئی آواز،زمینی خداں کے منہ پرخاک مل دینے والی آواز ، خودساختہ دیوتاؤں کولرزادینے والی آواز،انسانیت کیلئے نوید ِمسر ت، حوصلہ اورامید کانقارہ، نقارہ خداوندی، سربلندوباوقار جلال اورجمال ،سربلندباددوستانِ دیں کی نوید۔
 
ہم بھی عجیب ہیں۔وہ پکارتاہے:آؤتم فلاح چاہتے ہوناں۔توآؤ،اورہم کیاکرتے ہیں؟زمینی خد ا ؤ ں کے آگے بھکاری بن کرکھڑے رہتے ہیں اور دھتکار دیے جاتے ہیں، دھتکارے ہوئے لوگ اورجب ہر طرف  سے، ہردرسے محروم ونامرادلوٹتے ہیں،تب وہ ہمیں یادآتاہے۔ہاں وہ پھربھی ہمیں گلے لگاتاہے۔ پیغامِ مسرت سناتاہے،اصل کی طرف بلاتا ہے۔
بس وہی ہے اورہے کون؟ہم گداگراور بھکا ر ی  بن گئے ہیں۔ہم فقیرکہاں ہیں؟فقیرکی توشان ہی نرالی ہے۔ہم کہاں ایک ہی بابِ طلب تک رہتے ہیں!بے شمارولاتعداد دروں کے محتاج ہوگئے ہیں اوروہ پھربھی ہماری بے وفائی،ہماری غلطیوں،ہماری سیہ کاریوں، ہماری بداعمالیوں، منافقتوں اورہمارے کھوٹ کو نظر انداز کردیتاہے۔آفلاح کی طرف ،بس یہی درِخالص ہے،باقی سب جھوٹ ہے،مکرہے،فریب ہے۔ مکر و فریب کی سہانی دنیابے چینی کاسرچشمہ۔ رات بھرانگاروں پرلوٹتارہا،چشم گریہ سے وضومکمل ہواتوبے کلی ختم کرنے کیلئے  اقبال یاد آگئے:
صد نالہ شب گیرے، صد صبح بلا خیزے
صدآہ شررریزے،یک شعردل آویزے
درعشق وہوس ناکی،دانی کی تفاوت چیست؟
آں تیشہ فرہادے، ایں حیلہ پرویزے
رات بھر کے سینکڑوں نالے،سینکڑوں آفت لانے والی صحبتیں،سینکڑوں شعلے پھینکنے والی آہیں ایک طرف اورایک دل کولبھانے والا شعر ایک طرف۔عشق اورہوس کے درمیان جانتاہے کہ کیافرق ہے؟عشق فرہادکا تیشہ ہے اورہوس پرویزکامکروفریب۔
واصف صاحب مسکراتے ہوئے گویاہوئے ’’ہم سب فرعون کی زندگی اورموسی کی عاقبت چاہتے ہیں۔ایساتونہیں ہوسکتا‘‘۔اورپھرتوتانتابندھ گیا۔یہ جوزمینی خدابن بیٹھے ہیں،ا ور وہ جوگزرگئے،اب تماش بینوں کیلئے سامانِ عبرت بنے ہوئے ہیں۔اس سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔ اندھے،بہرے،خود فریبی کا شکارفرعونِ زمانہ یہ سمجھتے ہیں ہم ہیں پالن ہار ۔ بس ہم۔عجیب سی بات ہے۔یہ لبرل،سیکولراورروشن خیالی کے دعویداراوروہ بھی اصل نہیں بالکل جعلی۔اصل توہربات اچھی لگتی ہے ناں۔ٹھیک ہے اختلاف اپنی جگہ،اصل توہو ناں ۔سراسرجعل سازی کے ماہر۔ منافقت  کے مجسم شاہکارخود فریب۔
پاکستان سے ایک سچی آوازکاشکوہ موصول ہوا کہ کشمیرکی زینب کااشک بھرے احوال میں آپ تحریک غلبہ اسلام کے رہنما،افغان طالبان کے دست راست، ختم نبوت کے محافظ عظیم جنگجوکمانڈرعبدالجبارکی دوہفتے قبل رکھنی بلوچستان کے پہاڑوں سے بڑی بیدردی سے گرائی جانی والی شہادت کوکیوں فراموش کر بیٹھے؟یہ خونِ اتناسستا بھی نہ تھاجواس توہین آمیز اندازمیں رزق خاک کردیاجائے؟راؤانوار، چوہدری اسلم نے بھی ٹی ٹی پی ارکان کوبھی اس طرح نہیں پھینکا جیسے انہیں کاٹ کرپھینک دیاگیا۔دل زخم زخم ہے،ریاستی احترام اور ریاست’’ماںـ‘‘کاراگ الاپنے والے اب نہ جانے کیا منجن بیچیں گے؟اس کابھی کوئی علاج اے چارہ گرہے کہ نہیں؟کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟
پانچ مارچ 2019ء کوساہیوال جیل میں نظربندہوئے اورچارجون کوتین ماہ بعدجیل سے کوئی لے گیااورآج یہ اطلاع ان کے بھائی کوآئی ہے۔ 55سالہ مولاناعبدالجبار کی مظلومانہ شہادت نے لاکھوں دلوں پرقیامت ڈھادی ہے۔اس مجاہدکی شہادت حکو مت  کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔حکومت نے جبری گمشدہ افراد کو گھرواپس بھیجنے کاوعدہ کیاتھا، کیااب وہ اس طرح گھر بھیجیں گے۔  
جولائی2010ء کوبھی ایک فرمانِ شاہی جاری ہواتھاکہ صدرِمملکت،افواج پاکستان،عدلیہ اور ریاست کے قانون سازاداروں کے اراکین کے بارے میں ایساکوئی موادیا گراف وغیرہ شائع نہیں کیاجائے گا جس سے ان کی تضحیک ہوتی ہویاان کامذاق اڑایاگیاہو۔ سرکاری وکیل نے جب ججوں کی یہ کہہ کرتضحیک کی کہ ججز تو پہلے سے ایک ذہن بناکر آتے ہیں جس پرجج کو تنبیہ کرنا پڑگئی کہ زبان کولگام دو۔یہ کوئی نئی بات نہیں جبکہ فاسق کمانڈوکامقرکردہ اٹارنی جنرل جسٹس(ر) ملک قیوم بھی ایسی ہی ہرزہ سرائی کر چکا تھا ’’پی سی او‘‘کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج ہیرونہ بنیں،ان کوعزت ہضم نہیں ہوئی۔’’اب کہاں ہیں (سابقہ) اٹارنی جنرل؟وہ بھی کمانڈوکی طرح ملک سے فرارہیں؟جسے میرارب عزت دے اسے کون بے عزت کرسکتاہے!ذرادیکھئے توخلقِ خداکیاکہتی ہے؟وہ خلقِ خداجسے زمینی خدائوں نے حکم سنایاتھا،بنیادی انسانی حقوق معطل کردئیے گئے تھے۔خبردارکوئی نہیں بولے گا۔اب کچھ اوربھی اسی ڈگرپرچل نکلے ہیں۔مقام عبرت تویہ ہے کہ کوئی عبرت حاصل نہیں کرتا!
جناب من!ہوش میں آئیے،یہ حقوق میرے رب نے دئیے ہیں۔رب کائنات نے۔آپ کون ہوتے ہیں انہیں سلب کر نے والے!میرے مالکِ حقیقی کے عطا کردہ حقوق کیسے سلب کیے جاسکتے ہیں!ہاں خودفریبی کاکیاعلاج۔یہ سمجھتے ہیں نظامِ کائنات یہ خود فریب چلا رہے ہیں۔عقل وفکرکے اندھے۔تاریخ میں انسانیت کے نام پر دھبہ قراردِئیے جاؤگے ۔ ہوش میں آؤ۔تمہارے یہ اعمال تمہیں نہیں بچاسکتے۔کبھی نہیں! اپنے اقتدارکودوام دینے کیلئے ایساتحفہ دیناکیوں ضروری ٹھہرا؟ یادرکھوکہ سر بلند رہے گا سدا میرے رب کا فرمان۔  ہاں اصل فرمان ،تمہیں شوق چرایا ہے تو پوری کرلو اپنی حسرت ،جانا تو ہم سب کو ایک ہی جگہ ہے۔پھر تم اپنی کرنی کر گزرو۔جوہوگا دیکھاجائے گا۔جوچاہے کرو ، بس یادرکھناتم او ر تمہارے آقاخالق ومالک نہیں۔بن ہی نہیں سکتے۔کبھی نہیں۔شہرِ علم کے باب حضرت علی ؓنے فرمایا:’’لوگوں پرایک زمانہ آنے والاہے جب صدقہ کو خسارہ،رحم کرنے کواحسان اورعبادت کوایک دوسرے پربرتری اورسبقت کاذریعہ قرا ر دیا جائے گا۔ایسے وقت میں حکومت عورتوں کے مشورے، بچوں کے اقتداراور خواجہ سرا ئوں کی تدبیرکے سہارے رہ جائے گی‘‘۔بس نام رہے گا اللہ کا۔

تازہ ترین خبریں