07:38 am
کشمیر پر بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا قیام

کشمیر پر بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا قیام

07:38 am

اقوام متحدہ کی دوسری رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔بھارتی اعتراضات نظر انداز کرتے ہوئے رپورٹ کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 41ویں سیشن میں پیش کیاگیا ۔انسانی حقوق کونسل نے رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل اس کا مسودہ حکومت پاکستان کو حقائق پر مبنی آراء کے لئے پیش کیا ۔ اس کے باوجود رپورٹ میں کم از کم 8مقامات پر مقبوضہ جموں و کشمیر یا بھارت کے زیر قبضہ یا انتظام جموں و کشمیر کے بجائے ’’انڈین سٹیٹ آف جموں وکشمیر‘‘ درج ہے۔ پاکستان نے اس اہم نکتے کی جانب توجہ کیوں نہ دی۔اس بارے میں بھی وضاحت درکار ہو گی۔ یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جنیوا میں8جولائی کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میںجاری کردہ رپورٹ میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور فورسز کو حاصل استثنیٰ کے طریقوں کو اجاگر کیا گیا۔  رپورٹ میں بھارت کو 19 سفارشات پیش کی گئیں جن میں زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کے حق خودارادیت سمیت انسانی حقوق کی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا مکمل احترام کرے۔  انسانی حقو ق کونسل نے بھارت سے کہا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جامع، آزادانہ وار بین الاقوامی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری کمیشن کے قیام سمیت اس رپورٹ کی مندرجات پر غور کرے۔ اس سے پہلے بھی دنیا نے متعددبار بھارت سے ایسا کرنے کو کہا مگر بھارت اپنے خلاف ہی کوئی انکوائری کمیشن کیسے قائم کر سکتا ہے۔ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ آزادانہ انکوائری کمیشن قائم کرے۔ 
 
رپورٹ میں بھارت سے مقبوضہ علاقے میں جولائی 2016 ء کے بعد سے شہریوں کے قتل عام کے تمام واقعات کی آزادانہ، غیر جانبدرانہ اور قابل اعتماد تحقیقات کرانے پر بھی زوردیاگیا ۔ بھارت سے کہاگیا کہ وہ  مقبوضہ ریاست میں2016 ء کے بعد سے انٹرنیٹ اور موبائیل ٹیلی فون نیٹ ورکس پر عائد ہر قسم کی پابندیوں کی بھی تحقیقات کرائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں اس طرح کی پابندیاں دوبارہ عائد نہ کی جائیں۔ رپورٹ میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں صحافیوں کی نقل و حرکت پر عائد قدغن اور اخبارات کی اشاعت پر جبری پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیاگیا‘مگر اس رپورٹ کے بعد بھارت نے آزاد میڈیا پر قدغن لگانے کا سلسلہ دراز کر دیا گو کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر نے بھارت سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں رائج کالے قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کو فوری طور پر منسوخ اور پبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے مطابق بنانے کیلئے اس میں ترمیم کرے، مگر بھارت نے روایتی طور پر اس رپورٹ کو ہی مسترد کر دیا۔  یہ رپورٹ مئی 2018ء سے اپریل 2019ء تک کے عرصہ پر محیط ہے۔ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال پراقوام متحدہ کی پہلی رپورٹ جولائی 2016ء سے اپریل 2018ء تک کے بارے میں تھی۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں بالخصوص بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی جس کے باعث معصوم کشمیری شہری قتل، جبری حراست اور انسانی حقوق کی اندھا دھند خلاف ورزیوں کے شکاربنائے جا رہے ہیں۔
دوسری رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارت نے پہلی رپورٹ کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر بھارت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ۔ پاکستان نے رپورٹ کا خیر مقدم کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن آف انکوائری قائم کرنے کی حمایت کی۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ماضی کی اور حال میںانسانی حقوق کی جاری پامالیوں کا حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کشمیری عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں تمام گمنام قبروں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد، غیر جانبدار اور قابل اعتبار تحقیقات کو یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ۔کشمیری اقوام متحدہ کی ان رپورٹس کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں بند کرائی جائیں۔  عالمی برادری کو اس رپورٹ کی روشنی میں حقائق جاننے کیلئے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن مقبوضہ کشمیر روانہ کرنا چاہیے۔
 عالمی برادری نے نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے اور تنازعہ کشمیر کا منصفانہ اور پرامن حل تلاش کیلئے اپنا کردار ادا نہ کیا تو بھارت اور اس جیسے دیگر ممالک دنیا میں معصوم عوام کا جینا حرام کر دیں گے۔ رپورٹ میں جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک سال میں مقبوضہ کشمیر میں 160 شہریوں کو شہید کیاگیا۔ اقوام متحدہ کی اس  رپورٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسلمہ بین الاقوامی ثبوت تسلیم کیا جانا چاہیے کیونکہ بھارتی فورسز ان سنگین پامالیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں