07:39 am
پی ٹی ایم نوجوان کے زہریلے سوالات کے تلخ جوابات

پی ٹی ایم نوجوان کے زہریلے سوالات کے تلخ جوابات

07:39 am

کبھی الذوالفقار‘ کبھی ایم کیو ایم‘ کبھی ٹی ٹی پی اور کبھی پی ٹی ایم یہ ہمارے ملک میں ہی کیوں؟ کیا اس ملک کوبھی کبھی سکھ اور چین نصیب ہوگا یا پھر اسی طرح مارا ماری اور دھماچوکڑی کا سلسلہ جلتا رہے گا؟ کالجز اور  یونیورسٹیز کے اندر نوجوان نسل کو تباہ کیا جارہاہے‘ بے حیائی اور فحاشی کا عنصر تو اپنی جگہ موجود ہے ہی ظلم تو یہ ہے کہ پی ٹی ایم مارکہ ذہنیت رکھنے والے بعض پروفیسرز اور سٹوڈنٹ لیڈر فوج کے خلاف  طلباء کے ذہنوں میں زہر بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ خوش آئند  بات یہ ہے کہ پاکستان بھر میں بسنے والے پشتونوں کی اکثریت نے پی ٹی ایم کو مسترد کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود نوجوان نسل کے ذہنوں کو خراب کرنے کی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔
 
گزشتہ روز طارق روڈ کراچی کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک دوست نے دعوت کا اہتمام کیا‘ مجھ سے وقت لیتے ہوئے اس نے پرسرار لہجے میں کہا کہ اگر اجازت ہو تو ایک ایسے نوجوان کو بھی بلوالوں کہ جو آپ سے چند سوالات پوچھنا چاہتا ہے؟ میں نے کہا ضرور‘ ریسٹورنٹ میں ملاقات کے دوران اس  پٹھان نوجوان نے مجھ سے سوالات کی بجائے اپنے دل و دماغ میں بھرا ہوا زہر جو اگلا تو سچی بات ہے کہ اس زہریلے پروپیگنڈے کو سن کر مجھے ذہنی طور پر سخت صدمہ ہوا‘ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ آپ جیسے خوبصورت نوجوان کے خیالات اس قدر سطحی اور بدصورت ہوں گے اس کی مجھے توقع نہ تھی‘ میں کوئی فوج کا ترجمان نہیں ہوں لیکن ایک پاکستانی کی حیثیت سے میری ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک دشمنوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے پاک فوج کے خلاف آپ جیسے نوجوانوں کے ذہنوں میں جو زہر بھرا ہے میں دلائل کے ساتھ اس کی نفی کروں۔
یقینا ریاستی اداروں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں‘ رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں گناہ گار اور بے گناہ کی تمیز کئے بغیر جو آپریشنز کئے گئے ہے وہ بھی انتہائی افسوسناک اور المناک تھے مگر تب تو پی ٹی ایم کی قیادت اور فرحت اللہ بابر سے لے کر افراسیاب خٹک تک ان کے سارے سرپرست ان فوجی آپریشنز اور امریکی ڈرون حملوں کے مکمل حامی تھے۔
پرویز مشرف کے بعد آصف زرداری اور نواز شریف کی جمہوری حکومتوں نے میرانشاہ سے لے کر سوات تک فوجی آپریشنز کی نہ صرف منظوری دی بلکہ وہاں پرچم لہرانے کے بلند و بانگ دعوے بھی کئے۔ اے این پی کے اسفند یارولی سے لے کر افتخار حسین اور غلام احمد بلور تک ان فوجی آپریشنز کے نہ صرف مکمل حامی رہے بلکہ امریکی ڈرون حملوں پر مجرمانہ چشم پوستی بھی اختیار کئے رکھی‘ لیکن آج یہ سارے پی ٹی ایم کے حمایتی اور سرپرست بن بیٹھے‘ مطلب یہ کہ مقتول کی لاش پہ آنسو اور قاتلوں سے رشتہ داری بھی۔
پی ٹی ایم کی منظور پشتین اینڈکمپنی ان نام نہاد سیاست دانوں کی زیرسرپرستی فوج کے خلاف جو پروپیگنڈا کر رہی ہے اس سے واضع ہو جاتا ہے کہ مسئلہ پختونوں پہ مظالم یا حقوق کا نہیں بلکہ ’’را‘‘ ‘ این ڈی ایس اور سی آئی اے کے تفویض کردہ ایجنڈے کا ہے‘ اسفندیار ولی سے لے کر محمود خان اچکزئی اور افراسیاب سے لے کر منظور پشتین تک ہر کسی کو اپنے افغان ہونے پر فخر ہے‘ اچھی بات ہے مجھے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں‘ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ نیٹو اور افغان فورسز نے کتنے بے گناہ عام افغانوں کا خون بہایا‘ صرف گزشتہ دو ماہ میں تین مرتبہ مختلف شہروں میں افغان فورسز نے معصوم بچوں کا قتل عام کیا‘ چند دن قبل برمل کے علاقے میں سویلیز کو گھروں سے نکال کر مارا گیا اور بعض کو اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا۔
افغان فورسز کے چیف نے یہ بات خود تسلیم کی کہ ان کی بیرکس میں افغان چھوٹے بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے‘ دنیا میں سب سے زیادہ بارودی سرنگین افغانستان میں بچھی ہوئی ہیں اور بارودی سرنگوں سے سویلیز کی اموات میں افغانستان میں ہوتی ہیں‘افغانستان کی چیک پوسٹوں پر افغان ملی عسکر کے جوان تلاشی کے بہانے عفت مآب افغان خواتین کی آبروریزی تک کی جاتی ہے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ افغان فورسز کی اکثریت پشتون نہیں بلکہ فارسی بان ہے‘ وہاں کی فارسی بان اسٹیبلشمنٹ امریکی چھتری تلے ہر چیز پر حاوی ہے۔قتل و غارت گری‘ آبروریزی‘ بارودی سرنگیں‘ لاپتہ افراد‘ چیک پوسٹوں پر عوام سے بدسلوکی‘ فارسی بان اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں پشتونوں کا استحصال‘ کون سا ظلم ہے کہ جو افغانستان کے عوام پر ڈھایا نہیں جارہا۔اگر معاملہ پختونوں کے حقوق کا ہوتا تو پی ٹی ایم کو افغانستان کے مظلوم افغانوں کے حق میں بھی آواز اٹھانی چاہیے تھی‘ افغانستان کا کٹھ پتلی صدر اشرف غنی ہو یا افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس وہ پاکستان میں تو پی ٹی ایم کی سرپرستی کرتے ہیں‘ مگر اپنے ملک میں بے گناہ افغان پختونوں پر بے پناہ مظالم ڈھا رہے ہیں‘ محمود اچکزی اور اسفندیار ولی اپنے ’’افغان‘‘ ہونے پر فخر کرتے ہیںمگر اپنے پڑوسی برادر ملک میں افغان عوام پر ہونے والے ظلم کے خلاف  نہ جلوس نکالنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی آواز اٹھانے کے لئے‘ آخر کیوں؟ فنکاریوں اور چرب زبانی کے ذریعے ڈالر تو ہضم کئے جاسکتے ہیں مگر عوام کو مطمئن کیا جاسکتا ہے اور نہ ہم جیسے طالب علموں کو سوال اٹھانے سے روکا جاسکتا ہے۔
نہ پرویز مشرف کا قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کا فیصلہ درست تھا اور نہ ہی زرداری‘ نواز شریف اور اسفند یار ولی کا فوجی آپریشنز کے احکامات دینے اور پھر سینہ پھلا کر ان آپریشنز کا کریڈٹ سمیٹنا صحیح تھا‘ پی ٹی ایم ’’را‘‘ اور این  ڈی ایس سے تیر لے کر اگر پاک فوج کے خلاف چلائے گی تو یہ ملک دشمنی ہوگا۔دوران گفتگو میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان بار‘ بار ناخن چباتے ہوئے پہلو بدلتا رہا‘ جو اس بار کا اظہار تھا کہ اس کے دل و دماغ میں سخت قسم کی کشمکش جاری ہے‘ کھانا ٹیبل پہ لگ چکا تھا‘ لیکن گفتگو کی سنجیدگی میں کھانے کا ہوش کیسے تھا‘ میزبان دوست نے ایک دوبار توجہ دلانے کی کوشش بھی کی‘ لیکن میری اس صحت مند اور سرخ و سپید نوجوان کی ذہنی کیفیت پر زیادہ توجہ تھی‘ جیسے ہی میری گفتگو ختم ہوئی اس نے بڑی گرم جوشی سے میرا ہاتھ دبایا‘ میں نے اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھا تو وہاں نمی تیرتی محسوس ہوئی۔

تازہ ترین خبریں