07:29 am
ریکوڈک کا تلخ سبق

ریکوڈک کا تلخ سبق

07:29 am

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ  انفرااسٹرکچر، تعمیر و ترقی اور تعلیم وغیرہ میں پس ماندہ ترین بھی ہے۔ تاہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں دنیا میں سونے اور تانبے کی سب بڑے ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخائر بلوچستان اور پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ریکوڈک کے نام پر جو ڈراما رچایا گیا  اس کی تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ صوبے میں بد انتظامی اور کرپشن، کم از کم ماضی میں،عروج پر  پہنچ چکی تھی۔ گمان تو نہ جانے کہاں تک جائے لیکن ایسے کرپٹ بھی ہیں جو بڑی مہارت سے پس پردہ رہنے میں کام یاب رہے ہیں۔ عالمی بینک کے ثالثی ٹربیونل نے  ٹی سی سی کی جانب سے 2010ء میں پاکستان کے خلاف دی گئی درخواست پر حال ہی میں فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پر چھ ارب ڈالر ہرجانہ کیا ہے۔  2013ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی زیر سربراہی تین رکنی بینچ نے ’’چاغی ہل ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر‘‘ معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔  آئی سی ایس آئی ڈی کا یہ فیصلہ معاشی مسائل میں گھِرے پاکستان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم کی ادائیگی کیسے ممکن ہوگی جب کہ ہرجانہ ہر صورت ادا کرنا لازم ہے۔ اس معاملے میں اپیل کی بھی گنجائش نہیں، ہمارے قانونی ماہرین کو کوئی راستہ تو نکالنا ہوگا بصورت دیگر اس سے بھی زیادہ رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ رکو ڈک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معاہدات کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ فیصلہ درست معلوم ہوتا ہے۔ حکومتِ بلوچستان نے 2010ء میں ٹی سی سی کو کان کَنی کا لائسنس جاری کرنے سے انکار کردیا حالاں کہ طے شدہ معاہدے میں لائسنس کا اجرا شامل تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ جو معاہدہ ٹی سی سی چاہتی تھی وہ نہ صرف بلوچستان اور پاکستان کے حق میں غیر منافع بخش تھا بلکہ پاکستان کے موجودہ قوانین سے بھی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ بعدازاں معاہدے میں ہونے والی اضافے اور تبدیلیوں سے یہ معاہدہ پاکستان کے لیے مزید بدترین ہوگیا۔ اسے پہلے ہی مرحلے پر تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آج ہم اس نقصان کی ذمے داری کے تعین کے لیے بہت واویلا سن رہے ہیں تاہم  لائسنس جاری نہ کرنے والی اس وقت کی حکومت بلوچستان کو اس کے لیے ذمے دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا   اور نہ ہی 2013ء میں پاکستانی قوانین سے متضاد ہونے کے باعث سپریم کورٹ اور افتخار چودھری کی جانب سے اس کی تنسیخ کو نقصان کا سبب قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں ہی نے ملک کو خسارے کے سودے سے بچانے کی کوشش کی کیوں کہ اس معاہدے میں نہ صرف ایک غیر ملکی کمپنی کو دس کلومیٹر پر محیط رقبے میں ذخائر کی تلاش کا اختیار دیا جارہا تھا بلکہ ہزاروں مربع کلو میٹر زمین اس کے حوالے کی جارہی تھی۔ اس کے علاوہ منافع میں 75فیصد حصہ ٹی ٹی سی اور صرف 25فیصد بلوچستان کے لیے رکھا گیا تھا جب کہ اس دور دراز بے آباد علاقے میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری بھی بلوچستان کے ذمے تھی۔ 
 
اگرچہ اس سطح کے کاروبار میں اخلاق یا اقدار کوئی معنی نہیں رکھتے لیکن یہ معاہدہ ایک ترقی پذیر ملک کے قدرتی وسائل لوٹنے کے مترادف تھا۔سرمایہ لگانے والی کمپنی منافع کمانے کا حق رکھتی ہے لیکن ٹی ٹی سی کے ساتھ ہونے والا معاہدہ یک طرفہ تھا۔ یہ مشکوک معاہدہ کرپٹ اور غیر پیشہ ورانہ نوکر شاہی اور اس فراڈ کے کچھ مشتبہ کرداروں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری عدالتیں صرف قانون اور معاہدات کی عبارتوں پر فیصلے سناتی ہیں اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کی اصل روح کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ مقبول احمد کے  مطابق ذمے داروں کا  تعین کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ کن لوگوں نے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی(بی ڈی اے) قائم کی تھی۔ اسی ادارے نے 1993ء میں  بی ایچ پی منرلز اور امریکی کمپنی ڈیلیور کے ساتھ چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ ایگرمنٹ (چیجوا) کیا تھا۔ مقبول احمد کے مطابق بی ڈی اے کے چیئرمین عطا محمد جعفر 13جولائی 1993ء کو صوبائی سیکریٹیریٹ میں آئے اور  اس معاہدے پر دستخط کے لیے چیف سیکریٹری سے اصرار کیا۔ اس فائل میں جوائنٹ وینچر کے معاہدے کا ڈرافٹ تھا۔ اس کے صرف 16دن بعد  29جولائی کو معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ۔
جب کہ ایڈیشنل سیکریٹری نے ڈرافٹ کے جائزے کے لیے اس پر کارروائی روک  لی تھی اور دیگر تقاضے پورے نہ ہونے کے ساتھ قانون، خزانہ اور منصوبہ بندی کے صوبائی محکموں سے بھی اس کی مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کروائی گئی تھی۔ اس وقت بی ایچ پی منرلز پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہوئی تھی جب کہ یہ  معاہدے کے لیے ضروری تھا۔ 
سوال یہ ہے کہ کس نے ٹی سی سی میں بی ایچ پی بلیٹن کو 75فیصد حصص رکھنے کی رعایت دی اور منافع کا تعین کیا گیا جب کہ ابھی ایک ٹن کچ دھات بھی نہیں نکالی گئی تھی؟ چلّی اور کینیڈا والے اس خطرناک علاقے میں اپنی جان اور سرمایہ کاری داؤ پر لگانے کے لیے کیسے راضی ہوگئے؟ اور سب سے اہم سوال جو کسی معمے سے کم نہیں کہ یہاں  دھاتیں نکالنے کے لیے پلانٹ پاکستان میں لگانے کے بجائے حاصل ہونے والی خام کچ دھات بیرون ملک بھیجنے کی کیا وجہ تھی؟  مقبول احمد نے 1993ء کے بعد ہونے والی کئی اور فریب کاریوں کی تفصیلات جمع کی ہیں  جن کے باعث بلوچستان کے حالات بدترین ہوتے چلے گئے۔ لیکن  جب تک اس کے اصل ذمے داروں کا تعین نہیں ہوگا نہ ہی ہرجانے کی رقم کی ادائیگی کا مسئلہ حل ہوگا، نہ ہی کوئی اور راستہ تلاش کیا جاسکے گا۔  10جولائی 2014ء کو مضمون’’ایک اور ریکوڈک اسکینڈل؟‘‘ میں لکھا تھا ’’متنازعہ طور پر بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کے چیئرمین مقرر ہونے والے (چیف جسٹس افتخار چودھری کے بیٹے)  ارسلان افتخار کا پہلا(اور ممکنہ طور پر آخری) اقدام رکو ڈک کی سونے کی کانوں کے اربوں ڈالر کے ٹھیکے کا اعلان تھا۔ عالمی سطح پر کھولے گئے ٹینڈر میں یہ ٹھیکہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو دیا جانا تھا۔ حکومتِ بلوچستان کے سرکاری ترجمان جان بلیدی نے بڑی ہوشیاری سے تسلیم کیا ’’حکومتِ بلوچستان وفاقی حکومت کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے ٹی سی سی کے ساتھ معاملہ عدالت سے باہر نمٹانے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے ہرجانہ عائد ہونے کی صورت میں اتنا بڑا مالی نقصان برداشت کرنے کے متحمل نہیں۔‘‘ جان بلیدی نے یہ بھی انکشاف کیا’’میرے خیال میں ٹی سی سی کو لائسنس کی بولی میں شرکت سے روکنا بلا جواز تھا۔‘‘ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے ’’کنسلٹنسی آفس‘‘ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ عجیب اتفاق یہ ہوا کہ پہلی مرتبہ اس میں قانونی سقم اس وقت پیدا کیے گئے جب 7جنوری 2013ء کو ارسلان کے والد کی زیر سربراہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 20جولائی 1993ء کو حکومت بلوچستان اور ٹی سی سی کے مابین ہونے والے معاہدے کو ملکی قوانین سے متصادم قرار دیتے ہوئے منسوخ کردیا۔ یہ تنازعہ سامنے آنے کے بعد شدید تنقید ہوئی اور 12دن کے اندر ارسلان افتخار عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ جمہوریت کا حسن بھی اس وقت نکھر کر سامنے آیا جب نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو اور بلوچستان کے دیانت دار وزیر اعلیٰ عبد المالک بلوچ نے تسلیم کیا کہ والد کی سفارش پر ارسلان افتخار کی تقرری بہت بڑی غلطی تھی۔ ارسلان افتخار اس بات پر مُصر رہے کہ اس تقرری سے ان کے والد کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ارسلان افتخار بیرونی سرمایہ کاری لانے کا نہ تو کوئی تجربہ رکھتے تھے اور نہ ہی مہارت۔ اس کے باجود ان کی تقرری کا دفاع کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما مشاہد اﷲ خان نے اس راز کا پردہ چاک کردیا اور اس تقرری کو ’’قومی خدمات کے عوض‘‘ افتخار چوہدری کے لیے ’’انعام‘‘ قرار دیا۔ قوم یا ن لیگ کے لیے اپنے والد کو تنقید کی زد میں لانے والے ارسلان افتخار اجنبی نہیں تھے۔سابق چیف جسٹس پر اپنے اسی بیٹے کو کم نمبر ہونے کے باوجود میڈیکل کالج میں داخلہ دلوانے اور سرکاری نوکری میں خلاف معمول تیزی کے ساتھ ترقی دلوانے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ ارسلان نے میڈیکل کی تعلیم چھوڑ کر ٹیلی کمیونیکیشن کا کاروبار شروع کیا اور بتایا جاتا ہے کہ یہ کاروبار بھی پھل پھول رہا ہے۔ اتفاق کہیں یا کچھ اور بظاہر وفاق کی جانب سے ارسلان افتخار کی تقرری رکو ڈک سے جڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟‘‘
جو ہونا تھا وہ ہوا، سوچنا چاہیے کہ اس سے سبق سیکھ کر مستقبل کا کیا لائحہ عمل ترتیب دیا جاسکتا ہے؟ سب سے پہلے تو طے کرلینا چاہیے کہ حالیہ فیصلے کے بعد اس معاہدے پر عمل درآمد بے سود ہوگا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ٹی سی سی  کو مذاکرات کی پیش کش کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ معاہدے میں بنیادی نوعیت کی نظرِ ثانی کی جائے۔ لیکن اس میں ٹی سی سی کا مفاد نہیں ہے۔ اگر وہ یہ کرنا چاہتے تو بہت پہلے عدالت سے باہر معاملہ طے کرنے کی کاوشوں کا کوئی نتیجہ برآمد ہوجاتا۔ ٹی سی سی کو پہلے ہی حالات اپنے حق میں ساز گار ہونے کی توقع تھی۔ اب پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ کوئی متبادل سرمایہ کار تلاش کیا جائے جس کے ساتھ بہتر شرائط پر معاہدہ ہو اور اس میں ہرجانے کی ادائیگی کی گنجائش پیدا کی جائے۔ توقع ہے کہ حکومت پہلے ہی ان خطوط پر سوچ رہی ہوگی اور اگر ایسا نہیں تو اس جانب بڑھنے کا یہی موزوں ترین وقت ہے۔ کان کَنی کے شعبے میں غیرمعمولی مہارت رکھنے والے امیدوار موجود ہیں جو منافع کمانا چاہتے ہیں تاہم آمدن کی تقسیم میں توازن ہونا چاہیے۔ چین پہلے بلوچستان کی ترقی میں دلچسپی کا اظہار کرچکا ہے۔ روس سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔ کئی اور آپشن بھی ہوسکتے ہیں لیکن رکو ڈک کسی دوسرے کاروباری معاہدے سے مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ اس کے لیے وہی امیدوار موزوں ترین ہوگا جو پاکستان کی تعمیر وترقی میں بھی دلچسپی رکھتا ہو۔ 
اس کے علاوہ ایک اور اہم سبق بھی ہے۔ ایسے اہم امور میں شامل بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور ماہرین کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ مزید یہ  کہ عہدوں اور مناصب پر مطلوبہ مہارت اور تجربے کی بنیاد پر تقرر ہونا چاہیے یعنی فیصلے میرٹ کی بنیاد پر ہونے چاہیے، سفارش کی بنیاد پر نہیں۔ اس معاملے میں میرٹ کو نظر انداز کرنا بنیادی غلطی تھی جسے درست کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں متعلقہ بیوروکریٹس کو کان کَنی کی مہارت اور خصوصی تعلیم کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ اس بدنما معاہدے سے ہمیں ہرجانے کی رقم ادا کرنے کے راستے تلاش کرنے کا سبق بھی سیکھنا ہی ہوگا۔ امید ہے کہ رکو ڈک میں ہونے والے اس نقصان کے ازالے پر غور و فکر کرنے کے لیے قائم کردہ کمیشن یہ سبق نظر انداز نہیں کرے گا۔(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

 

 

تازہ ترین خبریں