07:30 am
موہن لال سے مودی تک؟

موہن لال سے مودی تک؟

07:30 am

تقریباًدوصدیاں پہلے کشمیر کی خوبصورتی سے متا ثر ہوکرکچھ ہندوپنڈتوںنے مستقل رہنے کی درخواست کی تواس وقت کشمیری مسلمانوں نے اپنے حسن سلوک سے ان کو صدقِ دل سے خوش آمدیدکہااوراس طرح آہستہ آہستہ مزیدہندوافرادبھارت سے کشمیرمیں پہنچناشروع ہوگئے اوراس طرح یہ تمام ہندوافراد کشمیری پنڈت کے نام سے بلائے جانے لگے۔ بدھ سنگھ جوایک لٹاپٹا جاگیر د ا ر تھااس نے بھی اپنے کنبے کے کچھ افرادکے ساتھ کشمیر میں پناہ لی۔ابھی وہ جوان ہی تھاکہ اس نے ایک انگریزافسر مانسٹوٹ کے پاس ملازمت حاصل کرلی اورپھراس کے ساتھ ہی دلی منتقل ہوگیا۔دورانِ ملازمت دلی قیام کے دوران 1812 ء میں اس کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی جس کانام اس نے موہن لال رکھا۔بدھ سنگھ ایک جہاں دیدہ شخص تھالہٰذا جب1828ء میں انگریزنے فارسی کالج دلی میں انگلش کی کلاسیں شروع کیں توبدھ سنگھ نے اپنے بیٹے موہن لال کووہاں داخلہ دلادیاجہاں موہن لال کے نام کے ساتھ کاشمیری کااضافہ کردیاگیا۔
 
یوں موہن لال کاشمیری ہندوستان کے ان چھ نوجوانوں میں شامل ہوگیاجنہوں نے انگریزراج کے شروع میںانگریزی سیکھ لی۔1831ء کووہ فاتح افغانستان سر الیگزینڈربرنس کے پاس ملازم ہوگیا۔ موہن لال فارسی اورانگریزی زبان بولنے اورلکھنے میں کافی ماہرہوگیاتھالہٰذا اسے شروع میں بخاراکی مہم سونپی گئی۔وہ برنس کے ساتھ دہلی سے نکلااور لدھیانہ ،پانی پت،کرنال، لاہور ، پنڈ د ا د ن  خان،جلالپور، راولپنڈی،پشاور،کابل اوربا میا ن  سے ہوتاہوابخارا پہنچا۔برنس اوراس کے انگریزساتھی جیرارڈ مقامی لوگوں کے بھیس میں اس کے ساتھ تھے۔اس مہم کامقصدافغانستان کی دفاعی پوزیشن کاجائزہ لیناتھا۔ موہن لال کاشمیری سفر کے دوران ڈائری لکھتارہا جو مختلف ذریعوں سے انگریزسرکار تک پہنچتی رہی۔موہن لال 1834ء کوواپس پہنچا،انگریزسرکارنے اس کی خدمات کے عوض اسے قندھارمیں اپناپولیٹیکل ایجنٹ لگادیا۔
1838ء کوانگریزنے افغانستان پرقبضے کا فیصلہ کیا،موہن لال کواس مہم کا’’گائیڈ‘‘ مقرر کر دیا گیا۔ موہن لا ل برنس کے ساتھ نکلااورانگریزفوج کو سیدھا کابل لے گیا۔افغانوں سے جنگ ہوئی، افغان  ہارگئے کیونکہ موہن لال اس سے پہلے بہت سے غیرمسلم افغا نیو ں کومال ودولت سے انگریزسرکارکی حمائت کیلئے خریدچکا تھا۔انگریزوں نے شاہ شجاع کو تخت پربٹھادیااوراس کی آڑمیں افغانستان پرحکومت کرنے لگے۔موہن لال اس سارے دورمیں انگریزوں کے مفادات کیلئے کام کرتا رہا۔موہن لال کوقدرت نے سازش، مکر و فریب اور جوڑتوڑکی صلاحیتوں سے نوازرکھاتھا۔وہ بڑی آسانی سے مقامی لوگوں میں رچ بس جاتاتھااورپھران کی جڑیں کاٹ کراپنے آقاانگریزوں کے ہاتھ میں دے دیتاتھا۔ موہن لال1877ء  تک زندہ رہا،اپنی باسٹھ سالہ زندگی میں اس نے برطانیہ کاسفربھی کیا،آخری عمرمیں اس نے دوسفرنامے بھی لکھے جوکسی ہندوستانی باشندے کی انگریزی زبان میں پہلی کتابیں تھیں۔
یہ کتابیں بدقسمتی سے شہرت نہ پاسکیں۔ 1930ء کے آخرمیں نہرولندن کے ایک کباڑیئے کی دکان پرکسی کام سے گئے تووہاں انہوں نے ان کتابوں کو خرید لیا۔ ان کتابوں کاجب مطالعہ کیاتوموہن لال کے مشاہدات اورزبان دانی پرحیران ہوگئے۔نہرو کی تحریک پر بعد ازاں ہری رام گپتانے موہن لال پر پی ایچ ڈی کی۔گپتاکا مقالہ 1943ء  میں شائع ہوا، اس کادیباچہ خودنہرونے لکھالیکن بدقسمتی سے یہ مقالہ بھی کوئی شہرت نہ حاصل کرسکا۔ساٹھ برس بعد یعنی2003ء میں یہ ایک بارپھرشائع ہوا،اس مرتبہ اس نے تہلکہ مچادیا، دنیا موہن لال کاشمیری کے مشاہدات پرحیران رہ گئی۔
موہن لال 1838ء سے1841ء تک کا بل رہاتھا،اس نے انگریزوں کی حکومت بنتے اور پھر بگڑتے دیکھی تھی،وہ افغانوں کامزاج شناس بھی تھا لہٰذاجب اس نے کابل میں انگریزوںکے زوال کی داستا ن لکھی توکمال کردیا۔اس نے لکھاافغان سب کچھ سہہ جاتے ہیں لیکن وہ بیرونی طاقتوں کوبرداشت نہیں کرتے۔افغان شراب اور جنسی بے راہروی کے ساتھ بھی سمجھوتانہیں کرتے۔انگریزاقتدارپرقابض ہوئے توانہوں نے افغانوں کے مزاج کوفراموش کردیا، انہوں نے سارے اختیاراپنے ہاتھ میں لے لئے، بادشاہ محض کٹھ پتلی بن کررہ گیا۔کابل میں شراب خانے کھولے گئے اورانگریزفوج نے سرِعام شراب نوشی شروع کردی۔ انگریزو ں نے بڑے بڑے مکانات اورباغات پرقبضہ کرلیا،وہ وہاں گھڑ د وڑ،کرکٹ اورڈراموں سے لطف اندوزہونے لگے۔  
وہ سردیوں میں کابل میں اسکینگ بھی کرتے تھے،شہربھرمیں قحبہ خانے کھل گئے،انگریزفوجیوں کی دست درازیاں شرفاکے گھروں تک پہنچ گئیں۔انگریز افسراوراہلکارسرداروں کی بہوبیٹیاں اٹھالاتے اوراس زیادتی پرحکومت خاموش رہتی۔انگریزوں نے شہرکے تمام اچھے مکانات ہتھیالئے یاپھرکرائے پرحاصل کر لئے۔اناج،گھاس،گوشت اورسبزیاں بھی انگریز خرید لیتے تھے جس کے نتیجے میں افغانستان قلت اورمہنگائی کاشکارہوگیا۔افغان تین برس تک یہ ظلم سہتے رہے یہاں تک کہ1841 ء ستمبرآن پہنچا۔تمام افغان سرداروں نے قرآن پرحلف لیتے ہوئے ایک معاہدے پردستخط کئے اوراس کے بعدانگریزوں کوچن چن کرقتل کرنا شروع کردیا ۔برنس کواس کے گھرکے سب سے بڑے دروازے پرپھانسی پرلٹکا دیاگیا۔یہ بغاوت7جنور ی 1842ء تک جاری رہی۔تنگ آکرمیجرپاٹنجرنے افغانستان چھوڑنے کااعلان کردیا۔انگریزفوج کابل سے نکلی لیکن افغانوں نے اسے راستے میں گھیر کرقتل کردیا۔اس جنگ میں20ہزارانگریزمارے گئے، صرف ڈاکٹربرائیڈن بچاجوزندگی بھرافغانوں کی بربریت کی داستانیں سناتارہا۔موہن لال بھی اس جنگ میں گرفتارہوا لیکن اس نے انگریزوں کے تمام خفیہ رازاگل دیئے اور بڑی مشکل سے رہائی پائی۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں