11:03 am
موہن لال سے مودی تک؟

موہن لال سے مودی تک؟

11:03 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

مجھے گزشتہ دنوں میرے ایک مربی نے ان کشمیری پنڈتوں کی تاریخ پڑھنے کوکہاتومیرے ہاتھ موہن لال کاشمیری کی آب بیتی،گلوب اینڈ میل کی ایک پرانی رپورٹ اورکرسٹینالیمب کا2004ء میں لکھا ہواکالم اکٹھے پڑھنے کااتفاق ہوا،گلوب اینڈمیل نے انکشاف کیا’’کابل شہرگناہوں کی دلدل بن چکاہے، شہرمیں جسم فروشی کے سینکڑوں مراکزکھل چکے ہیں، وزیر اکبرخان اورشہرنوکے جدیدعلاقوں میں درجنوں نائٹ کلب ہیں۔افغا ن قانون کے مطابق شراب نوشی جرم ہے لیکن شہرمیں شراب عام ہے‘‘۔کرسٹینالیمب نیویارک ٹائمزمیں اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ’’کابل شہرمیں ایک سابق افغان عمرنے دولاکھ ڈالرسے’’پی کاک‘‘کے نام سے ریستوران کھولاجس کاسوئمنگ پول مارٹینی شراب کے گلاس کی مانند ہے ،اس ریستوران میں شراب کے ساتھ حرام گوشت بھی ملتاہے،پی کاک کے علاوہ وہاں برطانیہ کے  باشندوں نے ایلبوروم کے نام سے کاک ٹیل باراورتھائی ریستوران بھی کھولا ہے۔پورے شہرمیں شراب اورعورت عام ہے جسے افغان پسندیدگی سے نہیں دیکھ رہے،حالت یہ ہے طالبان کے مخالف بھی آج ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں،کیاامریکہ نے یہ جنگ اس لئے لڑی تھی کہ وہ یہاں شراب خانے،ریستوران اوررقص گاہیں تعمیرکرسکے‘‘۔
 
میں نے موہن لال کی آب بیتی کوایک طرف رکھااورٹھنڈاسانس بھرکرسوچا’’کیا1841ء اور 2019ء میں کوئی فرق ہے؟‘‘کرسٹینالیمب کے اسی کالم کے آخرمیں اس کاجواب مل جاتاہے کہ’’ہاں ہے، 1841ء میں افغانستان میں انگریزتھا اورآج وہاں امریکی ہیں‘‘۔میں نے سوچا’’کیا تاریخ خودکودہرائے گی؟‘‘تو اس کے جواب میں کرسٹینالیمب یوں جواب دیتی ہے کہ ’’ ہاں جلدہی کیونکہ غلطیوں کے بیج سے ہمیشہ غلطیوں کے پودے نکلتے ہیں‘‘۔میراوجدان مجھے فوری طورپراس طرف لے گیاکہ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیرکی تحریک آزادی نے بہت زورپکڑلیاہے اوربھارتی خفیہ ایجنسی کشمیر کی تحریک آزادی کوبدنام کرنے کیلئے ویسے ہی اوچھے ہتھکنڈوں پراترآئی ہے جس طرح امریکی صدر کلنٹن کے بھارتی دورے کے دران بھارتی فوج کے خفیہ ادارے’’را‘‘نے 20مارچ 2000 ء کو کشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے چھتی سنگھ پورہ اننت ناگ میں بڑے بہیمانہ اندازمیں وہاں کے مقامی گردوارہ میں34سکھوں کو قتل کردیا تھااور اس کی ساری ذمہ داری کشمیری مسلمانوں پرڈال دی تھی لیکن بعد میں خود بھارتی تین رکنی تحقیقاتی کمیشن نے بھارتی سیکورٹی فورسزکواس کاذمہ دارٹھہراتے ہوئے بھارتی بنئے کی اس خوفناک سازش کابھانڈہ پھوڑدیاتھا۔مودی دورحکومت میں بھی کبھی پٹھانکوٹ اورکبھی پلوامہ میں ایسے ہی ڈرامے دہرائے جارہے ہیں اس طرح بہت سے موہن لال اپنے گھناؤنے کردارکے ساتھ بے نقاب ہورہے ہیں اوردوسری طرف کشمیری پنڈتوں کواستعمال کرتے ہوئے من گھڑت واقعات سے دنیاکوگمراہ کررہا ہے جس کوبھارت کا میڈیاخوب اچھالتاہے۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ان پنڈتوں کاانخلااس لئے بھی مقصودتھاکہ مسلمانوں کے خلاف بھارتی فوج کے ظالمانہ آپریشن میں ان کو فری ہینڈ مل سکے۔
بھارت جودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کادعویٰ کرتاہے آخروہ دنیاکے پریس اورکیمرے کووہاں جانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا؟اگرچند منٹ کیلئے بڑی ناگواری کے ساتھ فرض کرلیا جائے کہ کشمیر بھارت کاحصہ ہے تووہ کون ساقانون ہے جس کے تحت بھارت نے اپنے ہی ایک لاکھ سے زائد بے گناہ شہریوں کوکشمیر میں بیدردی سے قتل کردیاہے؟ اور نہروجوبھارت کابڑامحبوب لیڈرتھااس نے اقوام متحدہ میں عالمی طاقتوں کوضامن بناکرجس تحریرپردستخط کئے تھے اس قراردادکشمیرپر70سال سے کیوں عملدرآمدنہیں ہوا؟اس کا کوئی جواب ہے کسی کے پاس؟؟کیاموہن لال اورمودی ایک ہی سکے کے دورخ ہیں؟

تازہ ترین خبریں