11:04 am
ٹیکسوں کے بوجھ تلے ڈوبتی عوام کو بچائیں

ٹیکسوں کے بوجھ تلے ڈوبتی عوام کو بچائیں

11:04 am

دریائے کنارے کھڑے چند لوگوں کو کسی شرپسند نے دھکا دیا اور بھاگ گیا۔ دریا میں گرنے والے افراط غوطہ کھانے لگے۔ خود کو ڈوبنے سے بچانے اور زندہ رہنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہے تھے۔ لوگوں کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں مگر لوگ دھکا دینے والا کا پیچھا کررہے ہیں اس شرپسند کو پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اسے سزا دے سکیں جبکہ ڈوبنے والے کی خبر کوئی بھی لینے کو تیار نہیں۔ ڈوبنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ آپ اسے کیا کہیں گے ؟ دانشمندی یا بے وقوفی؟ یقینا عقل کا تقاضا ہے کہ پہلے زندگی بچائی جائے، ڈوبنے والوں کو بچایا جائے اور پھر دھکا دینے والوں سے نمٹ لیا جائے۔
 
حکومت عوام کے ساتھ یہی کچھ کررہی ہے۔ عوام ڈوب رہے ہیں، غربت اور مہنگائی نے تباہ حال کر دیا ہے، عوام مر رہی ہے ، دہائی دے رہے ہیں۔ غربت کے مارے بچائو بچائو اور مدد کے لئے پکار رہے ہیں مگر حکومت مصر ہے کہ پہلے ان مجرموں کو پکڑا جائے جنہوں نے عوام کو دریا میں دھکا دیا ہے۔ عوام کو مزید ٹیکسوں کے ذریعے بدحال کر دیا ہے مگر حکومت کا خیال ہے کہ مجرم پکڑے گئے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نئے نئے ٹیکس عائد کیے جارہے ہیں۔ مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔ روپیہ بے قدر ہو رہا ہے۔ عوام کی آمدنی سکڑ رہی ہے۔ جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ غریب کے لئے دو وقت کی روٹی کھانا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی مختصر آمدنی میں ناممکن ہو رہی ہے، مگر حکومت بضد ہے کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے، پہلے ان مجرموں کو پکڑنے دیں جنہوں نے عوام کو ا س حال تک پہنچایا ہے۔سابق حکمرانوں یا بڑے تاجروں نے تو عوام کے ساتھ جو سلوک کیا ہے یا  ان کا جو حشر کیا ہے وہ ایک طرف، مگر اب حکومت کیا کررہی ہے؟ ایسی نادان حکومت ہے کہ جسے عام اور غریب آدمی کے ڈوبنے کا احساس تک نہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کی سبیل کی جاتی۔ ایسے راستے تلاش کیے جاتے جن کے ذریعے عوام آدمی کو وقتی طور پر افاقہ ملتا کیونکہ موجودہ  وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے محروم طبقے کو ایسے سہانے خواب دکھائے تھے جن کی تعبیر اقتدار کے حصول کے فوری بعد برآمد ہونے والی تھی مگر مسند اقتدار پر بیٹھنے کے بعد عوام کو ایسی کاری ضربیں لگائی گئیں کہ ان کا جینا حرام ہوچکا ہے ۔ گزشتہ ایک سال سے کم عرصے کے دوران بجلی کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ ہوچکا ہے ۔ گیس کی قیمت لگ بھگ پچاس فیصد بڑھ چکی ہے۔ تیل کی قیمتیں کتنی بڑھ چکی ہیں؟ ہم سب کے سامنے ہے۔ روپے کی بے قدری اور ڈالر میں اضافے نے معیشت کو ادھ مواء کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض ابھی ملنا باقی ہے مگر شرائط پر عمل کرکے زندگی کو مشکل ترین بنا دیا گیا ہے۔
کیا ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ اقتدار کے پہلے سال ڈوبتی عوام کو بچانے کی کوشش کی جاتی۔ ٹیکس عائد کرنے سے گریز کیا جاتا۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ ایک سال کے لئے موخر کر دیا جاتا ، تاکہ ان کی سخت شرائط پر عملدرآمد سے بچا جاسکتا۔ بے شک وزیر اعظم ایک یا دو سال تک کے لئے ترقیاتی فنڈز کے اجراء کو روک لیتے۔ اضافی اخراجات کو کنٹرول کرتے۔ معاشی ایمرجنسی نافذ کر دیتے۔ لوگوں کو فی کس آمدنی بڑھانے کی فکر کرتے اور پھر تاجر وں اور سیاسی لٹیروں کی طرف رجوع کرتے۔ ان چوروں، لٹیروں اور عوام کا خون چوسنے والوں کے گرد ایسا گھیرا تنگ کرتے کہ وہ خود مجبور ہوکر لوٹی ہوئی رقم واپس کرتے۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ سیاسی قیدیوں کو جیلوں میں گھر جیسی آرام دہ سہولیات میسر ہیں۔ ان حالات میں بھلا وہ کیوں رقم واپس کریں گے؟
تاجروں کی صورتحال یہ ہے کہ ہول سیل کا کاروبار کرنے والا بظاہر عام تاجر اربوں روپے کا مالک ہوتا ہے، مگر ٹیکس نہیں دیتا۔ وزیراعظم کو اپنے ارد گرد بیٹھے مصاحبین کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہیے۔ اربوں روپے کے مالک ہیں جن کے ذمہ کروڑوں کا ٹیکس واجب الادا ہے مگر چند ہزار روپے ٹیکس دے کر قوم پر احسان جتاتے ہیں۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اپنی پارٹی کے تمام پارلیمنٹرینز کی ٹیکس ادائیگی کی رسید عوام کے سامنے پیش کرکے عملی نمونہ پیش کریں۔ ڈوبتی ہوئی عوام کو سہارا دیں۔ ان کی زندگیاں بچائیں۔ پی ٹی آئی حکومت پر ان کی امیدوں کے دیے روشن رکھیں۔ دریا میں دھکا دینے والوں کو ضرور پکڑیں مگر پہلے ڈوبنے والوںکی فکر کریں۔

تازہ ترین خبریں