11:04 am
ر یکوڈک مقدمہ اور ہماری لاپرواہیاں

ر یکوڈک مقدمہ اور ہماری لاپرواہیاں

11:04 am

گزشتہ ہفتے دو اہم مقدمات میں پاکستان کو عالمی عدالتوں کی جانب سے بھاری جرمانہ عائد کئے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ ایک مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا جس میں لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربٹریشن(LCIA)کے فیصلے کے خلاف پاکستان نے اپیل دائر کر رکھی تھی۔ لیکن ہائی کورٹ نے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے براڈشیٹ کے حق میں پاکستان کو 5.21ارب روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم سنایا ہے۔ براڈشیٹ نامی کمپنی کو جنرل پرویز مشرف کے دور میں 150پاکستانیوں کے بیرون ملک چھپائے گئے اثاثوں کی کھوج کے لئے نیب نے ہائر کیا تھا لیکن 2003ء میں نیب نے ایگریمنٹ ختم کر دیا جس کے خلاف براڈشیٹ نے لندن کی عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا اور دسمبر 2018ء میں عدالت نے نیب اور حکومت پاکستان کو غلط انداز میں ایگریمنٹ ختم کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے 33ملین ڈالرز  کی ادائیگی کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ 22ملین  ڈالرز کی اصل رقم کی ادائیگی کے علاوہ 11ملین ڈالرز لاگت اور نقصانات کی مد میں ہیں۔ پاکستان نے ان مقدمات میں جو نقصان کیا ہے وہ اس کے سوا ہے۔ مارچ 2019ء میں لندن ہائی کورٹ میں جو اپیل کی گئی اور جس کا فیصلہ بروز جمعہ بتاریخ 12جولائی 2019ء کو آیا ہے پر حکومت  پاکستان کے 192000پائونڈز خرچ ہوئے ہیں جن کی پاکستانی روپے میں مالیت 3کروڑ84لاکھ روپے بنتی ہے۔
 
ایسا ہی ایک اور مقدمہ جو اپنے مضمرات کے لحاظ سے درج بالا کیس سے کہیں زیادہ سنگین اور دلدوز ہے ریکوڈک کیس کا ہے۔ 13جولائی2019ء کو عالمی بنک کے انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلنٹ ڈسپیوٹس (اکسڈ) نے ریکوڈک ہرجانہ کیس میں پاکستان پر تقریباً 6ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یعنی جو رقم منتوں ترلوں سے ہم نے آئی ایم ایف سے اگلے تین سالوں میں لینی ہے اس کے برابر رقم پاکستان و چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو ہرجانے کی مد میں ادا کرنی ہے۔ عالمی بنک کے ٹریبونل نے 700صفحات پر مشتمل جو فیصلہ سنایا ہے اس کے پیرا گراف نمبر171میں لکھا ہے کہ معاہدے کو کالعدم قرار دینے والی پاکستان کی سپریم کورٹ بین الاقوامی قوانین سے نابلد تھی۔ 
سابق چیف  جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے ٹیتھیان  کمپنی کے معاہدے کو کالعدم قرار دیا تھا۔ کیا ایسا کرتے وقت انہوں نے ان مضمرات کا جائزہ لیا تھا جن کا سامنا آج پاکستان کو ہے؟ وزیراعظم نے اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے کا درست فیصلہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جاسکے اور انہیں پاکستان کو مصیبت میں دھکیلنے کی قرار واقعی سزا مل سکے۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اعلیٰ مناصب پر بیٹھنے والوں نے ہمیشہ پاکستان سے زیادہ اپنے مفادات کو مقدم رکھا۔ سوشل میڈیا میں لعن طعن تو جاری ہے مگر پاکستان کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے والوں کے لئے محض یہ سزا کافی نہیں ہے۔
ٹیتھیان کاپر کمپنی نے ایک دہائی قبل ریکوڈک پراجیکٹ پر 220ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی لیکن ہرجانے کی مد میں اسے 5.95 بلین ڈالر ادا کرنے کا حکم عالمی بنک کی ثالثی عدالت نے سنایا ہے۔ پاکستان کے مفادات کے ساتھ یہ کتنا بڑا کھلواڑ ہے۔ معاہدات کرتے وقت بھی پاکستانی مفادات کے ساتھ سمجھوتے کئے جاتے ہیں اور انہیں کالعدم قرار دیتے وقت بھی‘ بدقسمتی کے ساتھ پاکستانی مفادات کو مقدم نہیں رکھا جاتا۔
ریکوڈک پراجیکٹ کے علاوہ سینڈک پر ا جیکٹ میں بھی یہی کچھ ہوا۔ سینڈک پراجیکٹ بھی کاپر اور گولڈ کی دریافت کیلئے تھا اور اربوں بلکہ کھربوں ڈالر کے ذخائر کا معمولی داموں  ٹھیکہ غیر ملکی کمپنیوں کو دے دیا گیا۔ تانبے اور سونے کی تین بڑی کانیں سینڈک میں ہیں جن میں سے جنوبی کان خالی ہوچکی ہے جبکہ شمالی کان بیچی جاچکی ہے۔ لے دے کر اب ہمارے پاس صرف مشرقی کان بچی ہے‘ دیکھئے اس کا بھی کیا حال ہوتا ہے۔ جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران‘ جو آجکل نایاب زمینی دھاتوں  پر کام کر رہے ہیں سے گزشتہ دنوں ملاقات رہی۔ انہوں نے ریکوڈک کے بارے میں "Untold Story"کے عنوان سے کچھ مواد جمع کر رکھا ہے جو کسی بھی محب وطن شخص کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ اس ملک میں کیا کچھ ہوتا آیا ہے۔ چین کی میٹالرجیکل کارپوریشن کو سینڈک کی جو کان دس سالہ لیز پر دی گئی ہے اس میں سے ایک اندازے کے مطابق سالانہ 1.5ٹن سونا اور 2.8ٹن چاندی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کان کنی کا معاہدہ کن شرائط پر طے ہوا ہے؟اس معاہدے میں پاکستانی مفادات کو کس حد تک  تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک اہم سوال ہے۔ اکتوبر2018ء میں بلوچستان اسمبلی نے سینڈک پراجیکٹ کی چائنہ کمپنی کو لیز پر دینے کے حوالے سے گیارہ رکنی کمیٹی قائم کی تھی جو وفاقی حکومت کے ساتھ اپنے تحفظات پیش کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے اکتوبر 2017ء میں چینی کمپنی کی لیز مین پانچ سال کی توسیع کی تھی جس پر بلوچستان کے نیشنلسٹ اپنے تحفظ کا اظہار کرتے آرہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت منافع کے 50فیصد چینی کمپنی اور 50فیصدوفاقی حکومت کو جانا ہے جبکہ18ویں  آئینی ترمیم کے تناظر میں بلوچستان سینڈک منصوبے کی مکمل حوالگی چاہتا ہے۔ پاکستان کے منرل پوٹینشل کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا  ہے کہ پاکستان کا سنہرا مستقبل اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے لیکن پچھلی کئی دہائیوں سے منرل مائننگ کے نام پر ہمارے اثاثوں کے ساتھ جو کھلواڑ جاری ہے اس کی تفصیلات ایک ایک کرکے اب ہمارے سامنے آرہی ہیں۔