04:06 pm
آرمی چیف اور وفاقی وزرا کیساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

آرمی چیف اور وفاقی وزرا کیساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

04:06 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)

دینی مدرس کے وفاقوں کے ساتھ مختلف حکومتوں کے معاہدات موجود ہیں مگر معاہدات میں طے شدہ امور کو نظر انداز کر کے ہر بار نئے سرے سے زیرو پوائنٹ سے بات شروع کی جاتی ہے جو مسائل کے حل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس لیے اب تک ہونے والے معاہدات کو تسلیم کرتے ہوئے طے شدہ امور سے آگے کے معاملات پر گفتگو کی جائے اور ہر بار متفقہ طور پر طے ہو جانے والے امور کو ری اوپن کرنے کا رویہ ترک کیا جائے۔
حکومتوں کی پالیسیاں اور ترجیحات بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ دینی تعلیم کے معاملات کو منسلک کرنے سے دینی تعلیم کا تسلسل اور ماحول عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ چنانچہ دینی مدارس کسی سرکاری مداخلت کے بغیر اپنا تعلیمی نظام آزادانہ ماحول میں جاری رکھنے پر اس لیے بھی مصر ہیں تاکہ بار بار بدلتی ہوئی حکومتی پالیسیاں ان کے نظام کو ڈسٹرب نہ کر سکیں اور وہ دلجمعی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہیں۔
دینی مدارس کے امتحانی نظام کو کسی ایک بورڈ کے ساتھ ملحق کرنے کی بجائے ان کے منظم و مربوط وفاقوں کو تعلیمی بورڈز کی شکل میں تسلیم کیا جائے جیسا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں اور بھی بہت سے تعلیمی بورڈوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور وہ آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
 دینی مدارس عصری مضامین کو خود اپنی ضرورت سمجھتے ہیں اور ہر سطح پر انہیں ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار ہیں بلکہ وہ عملا ًایسا کر بھی رہے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ ان کے تعلیمی نظام کا بنیادی مقصد، ماحول اور نیٹ ورک متاثر نہ ہو اور اس معاملہ میں ان کی طرف سے کسی کمپرومائز کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
 دینی مدارس اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کر رہے ہیں کہ تعلیمی اصلاحات کو مدرسہ تعلیمی اصلاحات کے نام سے متعارف کرا کے تبدیلی کے لیے صرف انہی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، حالانکہ تعلیمی نصاب و نظام میں یکسانیت اور اصلاحی عمل کے لیے ریاستی اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر کے دیگر تعلیمی نظاموں میں بھی بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے مگر ان کے ماحول میں اس قسم کی کوئی تجویز یا سرگرمی سامنے نہیں آرہی، جس سے یہ سارا عمل یکطرفہ دکھائی دیتا ہے۔ اس تاثر کو دور کرنے کے لیے اسے مجموعی تعلیمی نظام میں اصلاحات کا عنوان دیا جائے اور ملک میں رائج تمام تعلیمی نظاموں کو نصاب اور تربیتی و نظریاتی ماحول کے حوالہ سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثر عملی اقدامات کیے جائیں۔
 چیف آف آرمی اسٹاف کی طرف سے طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کی ضمانت اور یقین دہانی بہت خوش آئند امر ہے جو دینی تعلیم اور علما و طلبہ کے ساتھ ان کی ہمدردی کی علامت ہے اور ان کی موجودگی میں اس پر ہم اعتماد رکھتے ہیں، مگر دیگر ریاستی اداروں کی طرح فوج کے محترم اور مقر ادارے کو بھی حکومتوں کی تبدیلیوں اور پالیسیوں کے تغیرات سے محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے صرف اس بنیاد پر ہم دینی مدارس کے نظام اور پالیسیوں میں کسی جوہری تبدیلی کو قرین قیاس نہیں سمجھتے۔
اس موقع پر بعض حضرات کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ دینی مدارس کے نظام پر پانچ وفاقوں کی اجارہ داری ضروری نہیں ہے، دوسرے اداروں کو بھی سامنے آنا چاہیے۔ جس کے جواب میں کہا گیا کہ اجارہ داری کی بات تو تب ہو کہ وفاقوں کی طرف سے مدارس کے الحاق میں کوئی جبر کیا جاتا ہو۔ ایسی کوئی صورت موجود نہیں ہے، کوئی بھی مدرسہ اپنی مرضی کے ساتھ کسی بھی وفاق کے ساتھ اس کی شرائط کے مطابق الحاق کر سکتا ہے اور اسے ایسا نہ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ چنانچہ ملک میں بے شمار ایسے مدارس موجود ہیں جو کسی وفاق کے ساتھ الحاق کے بغیر اپنا کام کر رہے ہیں اور ان پر کسی طرف سے کسی قسم کا دبا موجود نہیں ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ دینی مدارس کے ان وفاقوں سے ہٹ کر سرکاری اور غیر سرکاری دائروں میں بہت سے بورڈ قائم ہوئے ہیں اور انہوں نے دینی مدارس کو اپنے ساتھ جوڑنے کی مسلسل کوشش کی ہے، مگر ملک کا عمومی دینی ماحول انہیں قبول نہیں کر رہا۔ اب اگر دینی مدارس کے پانچ وفاقوں سے ہٹ کر بننے والا کوئی وفاق یا بورڈ طلبہ اور اساتذہ کو اپنے ساتھ مانوس کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تو اسے پانچ وفاقوں کی اجارہ داری قرار دینا بہرحال انصاف کی بات نہیں ہے۔ 
ان سب امور اور دیگر متعلقہ باتوں پر اس اجلاس میں کھل کر بات ہوئی اور تینوں شخصیات جنرل قمر جاوید باجوہ، جناب شفقت محمود اور ڈاکٹر پیر نور الحق قادری نے پورے حوصلہ اور تحمل کے ساتھ سب کی باتیں سنیں، البتہ بعض مواقع پر گرماگرمی اور جذباتیت کی فضا پیدا ہوئی جسے آخر میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری موقع کی مناسبت سے اپنی معتدل گفتگو کے ساتھ پھر سے توازن کی راہ پر لے آئے۔ اور نشست کا اختتام اس اصولی فیصلے پر ہوا کہ وفاقی وزیر تعلیم کے ساتھ وفاقوں کی قیادتوں کی فوری نشست ہونی چاہیے جس میں سابقہ فیصلوں بالخصوص اسی سال  مئی کو طے ہونے والے امور پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے اور ان میں عملی پیشرفت کا اہتمام کیا جائے۔ یہ ملاقات اس سے اگلے روز ہو چکی ہے جس کے فیصلے وفاقی وزیر تعلیم کے حوالہ سے سامنے آگئے ہیں۔ 
مجموعی طور پر یہ ملاقات بہت اچھی اور مفید رہی اور اگر یہ تسلسل اسی طرح جاری رہا تو اس کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع بھی کی جا سکتی ہے۔ البتہ ایک دو باتیں اس دوران مجھے ذاتی طور پر بہت کھٹکیں جن میں سے ایک کا تعلق تو شاید حساس معاملات کے ساتھ سمجھا جائے اس لیے اس کا ذکر نہیں کروں گا، مگر دوسری بات کا تذکرہ میرے خیال میں مناسب ہوگا، وہ یہ کہ مولانا مفتی منیب الرحمان نے پانچوں وفاقوں کی طرف سے جو متفقہ تحریری موقف پڑھ کر سنایا اس کے آخر میں دینی مدرس کو درپیش اس مشکل کا ذکر تھا جو انہیں قربانی کی کھالوں کے حوالہ سے گزشتہ چند سالوں سے درپیش ہے، لیکن اس پر مجلس میں جو ردعمل دیا گیا اسے کم از کم الفاظ میں غیر سنجیدہ ہی کہا جا سکتا ہے جس کی مجھے بہرحال توقع نہیں تھی۔ ملک کے مختلف حصوں کے دینی مدارس کو اس عملی مشکل کا کئی سالوں سے سامنا ہے کہ عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالوں تک ان کی رسائی میں رکاوٹیں بڑھتی جا رہی ہیں جو کہ ان کی آمدنی کا ایک معقول  ذریعہ ہے اور عملی صورتحال یہ ہے کہ ہر سال بہت سے اضلاع میں عید کی چھٹیوں کے باوجود ضلعی انتظامیہ کو الرٹ اور متحرک کر دیا جاتا ہے، چھاپے مارے جاتے ہیں، گرفتاریاں ہوتی ہیں اور  مقدمات درج ہوتے ہیں جس سے خوف و ہراس کا ماحول قائم ہو جاتا ہے۔ جبکہ دینی مدرس کی قیادتوں کی طرف سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ شکایت پیش کرنے پر اسے جس خندہ استہزا کا نشانہ بننا پڑا وہ قطعی طور پر غیر متوقع اور غیر سنجیدہ بات تھی جو میرے جیسے شخص کو بھی ہضم نہیں ہو رہی، اور میں اس وقت سے ورطہ حیرت میں ہوں کہ اگر دینی مدارس کی عملی اور جائز شکایات کو اسی قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا ہے تو ان کے نظام کو بہتر بنانے، انہیں تعاون و سرپرستی فراہم کرنے، ان کو تمام قومی شعبوں میں شریک کرنے اور ان کی مشکلات و مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے دیگر وعدوں اور ضمانتوں کو کس کھاتے میں شمار کیا جائے گا؟

تازہ ترین خبریں

لوئر دیر میں دو فریقین کے درمیان فائرنگ۔۔۔ 6 افراد جاں بحق 17 زخمی 

لوئر دیر میں دو فریقین کے درمیان فائرنگ۔۔۔ 6 افراد جاں بحق 17 زخمی 

کہیں سورج قہر ڈھائے گا۔۔کہیں بادلوں کی گرجیں  برسیں گے۔۔جمعہ کو کون سے شہرکا موسم کیسا ہوگا؟

کہیں سورج قہر ڈھائے گا۔۔کہیں بادلوں کی گرجیں  برسیں گے۔۔جمعہ کو کون سے شہرکا موسم کیسا ہوگا؟

 20 سال سے شریف خاندان کے خلاف دشمن کا پراپیگنڈا ہو رہا ہے شہباز شریف اور نواز شریف ایک ہیں۔مریم نواز

20 سال سے شریف خاندان کے خلاف دشمن کا پراپیگنڈا ہو رہا ہے شہباز شریف اور نواز شریف ایک ہیں۔مریم نواز

کراچی سے ملتان جانے والی ریل گاڑی کو حادثہ پیش آگیا

کراچی سے ملتان جانے والی ریل گاڑی کو حادثہ پیش آگیا

چین سی پیک کر کام سے مطمئن نہیں ہے، حکومت نے اعتراف کر لیا

چین سی پیک کر کام سے مطمئن نہیں ہے، حکومت نے اعتراف کر لیا

 مریم نواز کی شریف خاندان میں اختلافات کی تردید

مریم نواز کی شریف خاندان میں اختلافات کی تردید

لاہور میں مارکیٹیں اب ہفتہ اور اتوار کو بند رہیں گی ، نوٹیفکیشن جاری

لاہور میں مارکیٹیں اب ہفتہ اور اتوار کو بند رہیں گی ، نوٹیفکیشن جاری

یا اللہ عوام پر اپنا خصوصی رحم و کرم فرمانا ، وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی کا بھی نوٹس لے لیا  

یا اللہ عوام پر اپنا خصوصی رحم و کرم فرمانا ، وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی کا بھی نوٹس لے لیا  

کمرتوڑ مہنگائی،پٹرول، آٹا ،بجلی چینی اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ۔۔ جے یو ائی نے احتجاج کا اعلان کردیا

کمرتوڑ مہنگائی،پٹرول، آٹا ،بجلی چینی اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ۔۔ جے یو ائی نے احتجاج کا اعلان کردیا

کراچی میں شدید گرمی کی لہر برقرار؛ تاریخ کی تیسری گرم ترین رات

کراچی میں شدید گرمی کی لہر برقرار؛ تاریخ کی تیسری گرم ترین رات

عمران خان جس چیز میں بھی ہاتھ ڈالے وہ سونا بن جاتی ہے، گھی، چینی، پٹرول کھاد کو ہی دیکھ لیں۔  نواز شریف

عمران خان جس چیز میں بھی ہاتھ ڈالے وہ سونا بن جاتی ہے، گھی، چینی، پٹرول کھاد کو ہی دیکھ لیں۔ نواز شریف

اسے کہتے ہیں اصل خوشخبری ، حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میں ایکساتھ کتنے فیصد اضافہ کر دیا ؟ سب جھوم اٹھے

اسے کہتے ہیں اصل خوشخبری ، حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میں ایکساتھ کتنے فیصد اضافہ کر دیا ؟ سب جھوم اٹھے

پاکستان میں پٹرول 94روپے فی لیٹر ہو گیا

پاکستان میں پٹرول 94روپے فی لیٹر ہو گیا

آرمی چیف سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی ملاقات،باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

آرمی چیف سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی ملاقات،باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال