07:19 am
پاکستان کے خلاف نئی جارحیت

پاکستان کے خلاف نئی جارحیت

07:19 am

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے میڈیا کو کچلنے اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو خاموش کرنے
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے میڈیا کو کچلنے اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو خاموش کرنے کے لئے از سر نو پروپیگنڈا شروع کر دیاہے۔کشمیری صحافیوں کو آئی ایس آئی کی تخلیق اور جہادی صحافی قرار دے کر عوام پر فوجی جارحیت اور آزاد کشمیر کی آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری تیز کی ہے تا کہ قتل عام کا نیا سلسلہ   شروع کر دیا جائے اس کے لئے جموں خطے کی ہندو آبادی کو تیزی سے مسلح کیا جا رہا ہے۔  چناب ویلی میں ولیج ڈیفنس کمیٹیوں کے بینر تلے ہندو شدت پسندوں کو اسلحہ سے لیس کیا جا رہا ہے  جسے مسلم آبادی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہتی ہے کہ اس کے تباہ کن  نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے جوریاست کے نوجوانوں کے جذبات کو مجروح کر رہی ہے۔بھارت  نے کشمیر میں ہندو  سرکار نواز بندوق برداروں کی فوج تیار کرنے کی حکمت عملی اس لئے تیار کی ہے کہ خطے میں مسلم کشی تیز کی جائے۔ مزید یہ کہ بھارت سے ہندو لا کرمقبوضہ کشمیر میں بسانے کے منصوبوں کو عملی شکل دی جائے۔  سال 1990میں بھی بھارتی حکومت نے شہریوں کو اسلحہ سے لیس کیا  تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حالات خراب ہونے کے ساتھ ساتھ مار دھاڑ کا  نیاسلسلہ شرو ع ہوا جو اب بھی جاری ہے۔ چناب ویلی میںیہ  منصوبہ اپنا کر عملاً کچھ عرصہ کے لئے  ویلج ڈیفنس کمیٹیوں کو غیر فعال کیا  تاہم اب نہ صرف ویلج ڈیفنس کمیٹیوں کوپھر سے متحرک کیا  جا رہا ہے بلکہ بی جے پی اور دیگر ہندو انتہا پسند گروپوں سے وابستہ کارکنوں کو بھی اسلحہ سے لیس کیا جا رہا ہے۔
 بھارت نام نہاد دفاعی کمیٹیوں میں ہندو دہشت گردوں کو بھرتی کر کے مسلمانوں کے خلاف کسی بڑے جارحانہ منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس پر اگر کشمیر کا میڈیا آواز بلند کر ے تو اس کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ بھارت کے ایک بڑے اغباری گروپ ٹائمز آف انڈیا کی ایک حالیہ  رپورٹ میں بھی کشمیری صحافیوں کی کردار کشی کی گئی۔ بھارتی حکومت نے کشمیری نوجوانوں کے خلاف ایک بار پھر جعلی مقدمات قائم کرنے میں بھی تیز ی لائی ہے۔ نوجوانوں کو مجاہدین کی مدد کے الزام میں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف سنگین جرائم کے کیس بنائے جا رہے ہیں۔ بڈگام میں چھ مقامی نوجوانوں کیخلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔بدنام زمانہ این آئی اے کی سرگرمی کے ساتھ بھارت نے فاروڈ کہوٹہ، پونچھ اور راجوری میں حد متارکہ پر شدید گولہ باری شروع کی ہے۔  شدید گولہ بھاری کے نتیجے میں کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ بھارت جارحانہ گولہ باری بند کرنے کے بجائے  پاکستانی رینجرز پر گولہ باری کی آڑ میںمجاہدین کو داخل کرنے کے الزامات عائد کرتا ہے۔ نوشیرا سیکٹرکے بابا کھوری اور کرشنا گھاٹی سیکٹرکے منکوٹ علاقوں میں دونوں طرف کی افواج نے ایک دوسرے کیخلاف ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔گزشتہ دو روز سے گولہ باری جاری رہی۔ مقبوضہ پونچھ اور راجوری میںجنگ بندی لائن  کے نزدیک رہائش پذیر لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ تا ہم آزاد کشمیر کی شہری آبادی نڈر اور بہادر ہے۔ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔
آزاد کشمیر کی وادی نیلم  کے مختلف سیکٹرزسے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ کئی علاقوں میں بھارتی فوج نے اپنی پوزیشنز سے آگے بڑھ کر خیمے نصب کئے ہیں۔ اس کی تفتیش ہونی چاہیئے کہ بھارت کی قابض فوج کو پیچھے دھکیلنے کے بجائے اسے آگے بڑھنے کا موقع کیوں دیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی انکوائری کی جائے تو پتہ چلے گا کہ 1990کے بعد سے بھارتی فوج نے جنگ بندی لائن پر نئی مورچہ بندیا کیں ہیں۔ انہوں نے اپنی پوزیشنز مستحکم کی ہیں۔ بھارت کو تاربندی کی اجازت بھی دی گئی۔ ایک متنازعہ علاقے میںقابض فوج کو پختہ مورچے تعمیر کرنے اور دیواریں لگانے کا موقع دینے کا مطلب خود کشی کے مترادف ہے۔دفاعی  اداروں کو شہری معاملات، سیاست، سفارت، معاشرت میں الجھانے سے دفاع کمزور ہو سکتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر پر قبضہ مضبوط کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔
آج بھی بھارت کا وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اپنے فوجی چیف کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر میں موجود ہے۔ آزاد کشمیر میں پاک فوج کے کسی جوان  نے اپنے وزیر دفاع کی شکل تک نہیں دیکھی ہو گی۔ پاک فوج کے سربراہ اپنے وزیر دفاع کے ہمراہ جنگ بندی لائن کا دورہ کریں۔ خود حالات کا جائزہ لیں۔ بھارتی فوج کی پیش قدمی اور ضیموں کی تنصیب کی تحقیقات کریں۔ پاک فوج نے لیسوا علاقے میں تباہی پر زبردست کام کیا۔ متاثرین کی ہر ممکن مدد کی۔ عوام کی دعائیں سمیٹیں اور بھرپور اعتماد حاصل کیا۔ پاک فوج کو  متعدد چیلنجز کا سامنا ہے ، اسے فروعی معاملات میں نہ الجھایا جائے۔ دشمن چاروں اطراف سے چڑھ دوڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ حالات یہی پتہ دیتے ہیں۔ ایسے میں معمولی اونگھ بھی گہری کھائی میں دھکیل سکتی ہے۔ جب ترقی اور کامیابی کے سفر کی طرف سے توجہ ہٹا کر دوسری طرف لگا دی جائے ، تو ذمہ داری کا یہ ثبوت ہو گا کہ پٹری سے خود کو نہ اترنے دیا جائے۔ جب جان نہ چھوٹے اور کوئی راستہ نہ بچے تو پھر جان نکلنے کی صورت میں کھوتا بھی حلال ہو جاتا ہے، مگر اسے بھی سیر ہو کر کھانے کی اجازت نہیں، بس اتنا کہ جان بچ جائے۔ ورنہ خود کشی حرام ہے۔ حرام گناہ کی سیڑھی ہے۔عظیم قومیں زاتی مفادات یا سیاست یا اقتدار کے لئے انتقام سے کنارہ کشی کرتی ہیں۔ کیوں کہ اس میں نئی نسل کے مستقبل کے تاریک ہونے کے آثار پائے جاتے ہیں۔ بھارت کی سرکاری مشینری اور میڈیا سب مل کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو کچل رہے ہیں۔کشمیری صحافیوں کے خلاف پروپگنڈہ اسی کی ایک کڑی ہے۔ عالمی میڈیا کو بھی بھارتی سنسرشپ اور ریاستی دہشت گردی، آزاد کشمیر کی شہری آبادی کے پر جارحیت کے خلاف  آواز بلند کرنا چاہیے۔

 

تازہ ترین خبریں