07:20 am
مسٹروزیراعظم! ایک نظر ایل ڈی اے پر بھی

مسٹروزیراعظم! ایک نظر ایل ڈی اے پر بھی

07:20 am

میری بائیس برس کی صحافتی زندگی سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی خاک چھانتے گزری ہے۔
میری بائیس برس کی صحافتی زندگی سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی خاک چھانتے گزری ہے۔ قرطاس و قلم سے یہ سلسلہ ربطِ بہم جاری و ساری ہے۔ اچھی بُری خبروں کے لباس میں ملبوس یہ پیراہن جو بھی اوڑھ لیتا ہے پھر مرتے دم تک اتارنے سے قاصر رہتا ہے، ایک دور تھا جب صحافیوں کو علمائے صحافت کہا جاتا تھا۔ آج معاشرے میں صرف علمائے دین دِکھائی دیتے ہیں۔ علمائے طب اور علمائے صحافت نے اب اپنا مقام کھو دیا ہے۔ امرِ واقعہ بھی یہی ہے کہ معاشرے کا ہر وہ کردار جب کردار کی اہمیت بُھول جائے تو وہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔ ویسے تو ہم معاشرتی اور اخلاقی طور پر سب کچھ ہی کھو چکے ہیں۔ اب تو حالات اِس قدر گھمبیرتا ہو گئے ہیں کہ کچھ کھونے کو بھی باقی نہیں بچا یہ حقیقت تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ معاشروں کے عروج و زوال میں اداروں کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہی اداروں میں سے ایک ادارہ زندہ دِلوں کے شہر لاہور میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ اِسے مختصراً ایل ڈی اے کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ انگریزی زبان پر کامل دسترس رکھنے والے بعض مترجمین اِس کا اُردو ترجمہ کرتے ہوئے اِسے ادارۂ ترقیاتِ لاہور کے نام سے بھی متعارف کرواتے ہیں۔ یہ ادارہ کیا ہے؟ یہ اپنی ذات میں ایک ریاست ہے۔ میں اِسے اسلامی جمہوریہ ایل ڈی اے کے طور پر جانتا ہوں۔ یقین جانئے پوری دنیا میں اُتنا پاکستان نہیں جانا جاتا جتنا ایل ڈی اے پہچانا جاتا ہے۔ اِس ریاست کے رئیس احد چیمہ جیسے افسران بھی رہے ہیں۔ جن کے بارے میں سابق وزیراعلیٰ گزشتہ روز اپنی ایک پریس کانفرنس میں یہ فرما رہے تھے کہ احد چیمہ عظیم پاکستانی ہیں۔ میں میاں شہباز شریف کے اِس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہو سکتا ہے اُن کے نزدیک عظمت کا معیار یہی ہو کہ جو قومی احتساب بیورو کا جتنا بڑا ملزم ہے وہ اتنا ہی بڑا عظیم شخص بھی بن جاتا ہے۔ آج کل تو ساری حزب اختلاف ہی عظیم تر بنی ہوئی ہے۔ میں اُن کی عظمت کو سلام ہی پیش کر سکتا ہوں۔
 اگر حکومت کے اُردو زبان کے ماہرین کے پاس تھوڑا وقت ہو تو وہ عظمت کی تعریف کا معاملہ بھی حل فرما دیںاور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے اِس تعریف کا اظہار بھی کر دیں تا کہ قوم جان سکے کہ عظمت کی تعریف کیا ہوتی ہے؟ احد چیمہ جیسے عظیم لوگ ایل ڈی اے میں کچھ زیادہ ہی پائے جاتے ہیں۔ مرض دائمی ہو جائے تو اُس کا علاج بھی لمبا عرصہ کرنا پڑتا ہے۔ حاد امراض تو جلد قابو میں آ جاتے ہیں۔ مزمن امراض کے لئے مریض کی صحت اور قوت مدافعت کے مطابق علاج کرنا پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے دو فیصلے نہائت ہی اچھے کئے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی بصیرت نے ایس ایم عمران کو وائس چیئرمین ایل ڈی اے کا قلمدان تھما کر ایک ایسا مستحسن فیصلہ کیا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ دوسرا فیصلہ حکومتِ پنجاب کا انتہائی قابل تحسین ہے کہ حکومت پنجاب کے ایک نیک نام آفیسر عثمان معظم کو ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا منصب تفویض کیا ہے۔ وائس چیئرمین ایک انتہائی پڑھے لکھے۔ دوراندیش اور محب وطن اِنسان ہیں اور اُن کی ڈی جی ایل ڈی اے کے ساتھ ایک بہترین ورکنگ ریلیشن شپ بھی چل رہی ہے۔ یہ دونوں حضرات ادارے سے بھی مخلص ہیں اور پاکستان سے بھی۔
 اگر میاں شہباز شریف کو بُرا نہ لگے اور وہ میری اِس گستاخی کو معاف فرما دیں تو میرے نزدیک مذکورہ بالا دونوں اشخاص عظمت کے معیار پر پُورا اُترتے ہیں۔ مگر یہ دونوں بیچارے کیا کریں؟ ماضی کا مزمن مرض اتنی جلدی ٹھیک ہو نے والا نہیں ہے۔ میں نے گزشتہ سوموار کے روز نیب کے حوالے سے ایک کالم لکھا تھا جس میں ایل ڈی اے کا بھی تذکرہ تھا۔ اِس پر میرے انتہائی واجب الاحترام عزت مآب جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب چیئرمین نیب نے مجھے خود فون کیا اور نہ صرف میرے کالم کو سراہا بلکہ میں نے اُس کالم میں جن امراض کی طرف اُن کی توجہ مبذول کروائی تھی اُس پر فوری ایکشن لیا۔ اور مجھے کہا کہ مبشر صاحب آپ اطمینان رکھیں نیب سے کسی کو شکائت کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ تو نیب کا معاملہ تھا۔ میں چیئرمین نیب عزت مآب جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا ممنونِ احسان ہو ںکہ اُنہوں نے مجھ سے خود رابطہ کیا اور میری گزارشات پر توجہ فرمائی۔ مگر آج میں وزیراعظم پاکستان عمران خان  سے یہ التجا کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایل ڈی اے پر توجہ فرمائیں۔ ایل ڈی اے کا حال بالکل پاکستان جیسا ہے۔ جیسے حالات پاکستان کے ہیں ویسے ہی حالات ایل ڈی اے کے ہیں۔ اگر کسی نے پورے پاکستان کا مطلب جاننا ہو وہ صرف ایل ڈی اے کا بغور مطالعہ کرلے۔ اُسے پاکستان کی سمجھ آ جائے گی۔
 ایل ڈی اے میں دو قسم کے عظیم لوگ کام کرتے ہیں ایک وہ عظیم جو میاں شہباز شریف کے نزدیک عظمت کے معیار پر پورا اُترتے ہیں اور ایک وہ عظیم جو حقیقت میں عظیم کہلانے کے حق دار ہیں۔ یہ دونوں قسم کی عظمتیں اپنی جگہ پر بجا مگر ادارے کا انفراسٹرکچر بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سٹاف کی کمی کے باعث اتنے بڑے ادارے کو فعال نہیں کیا جا سکتا۔ روزانہ ہزاروں لوگ ایل ڈی اے کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ اُن کو اندر سے اُس وقت ہی صدا ملے گی جب مکمل سٹاف موجود ہو گا۔ ایل ڈی اے کی عددی ضرورت کے پیشِ نظر اِس میں نئی بھرتیوں کی ضرورت ہے۔ اِس کے ساتھ سٹاف کی تربیت کا کوئی نظام دِکھائی نہیں دیتا۔ اکیلے ایس ایم عمران اور عثمان معظم سارے ایل ڈی اے کا بوجھ اپنے شانوں پر نہیں اٹھا سکتے۔ ایل ڈی اے میں کرپشن کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ عوام کے رگ و پے میں یہ بات خون کی طرح رچ بس گئی ہے کہ ایل ڈی اے میں ہمارا کام اُس وقت تک نہیں ہو گا جب تک ہم پیسہ نہیں لگائیں گے۔ اِس تاثر نے کرپشن کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ دراصل اداروں کا کام سائلوں کو ریلیف دینا، عوام کے لئے سہولیات پیدا کرنا ہوتا ہے مگر ایل ڈی اے ایک خوف کی علامت ہے، کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے کے تذبذب میں پھنسے سائل رشوت دے کر کام کروانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان اپنی بے پناہ مصروفیات سے وقت نکال کر ایل ڈی اے کے لئے کوئی ایسا لائحہ عمل بنائیں جس سے عوام کے درمیان پھیلا ہوا خوف و ہراس  ختم ہو سکے۔ تجاوزات کے نام پر مسماری آپریشن عوام اور حکومت کے درمیان نفرت کے الائو بھڑکاتا ہے۔ بالکل اِسی طرح پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیز کے خلاف مسماری آپریشن کو بند کیا جائے۔ اور اِس کے لئے متبادل پالیسی اپنائی جائے، اُنہیں سب سے پہلے ایجوکیٹ کیا جائے۔ ایسا کرنے سے ایل ڈی اے کی مشینری بھی استعمال نہیں ہو گی اور ایک طرف جرمانوں کی مد میں ایل ڈی اے کو ریونیو اکٹھا ہو گا تو دوسری طرف عوام اپنا پیسہ بچانے کے لئے تجاوزات کرنے سے گریز کریں گے۔

 

تازہ ترین خبریں