11:14 am
مقبوضہ کشمیر کی دم توڑتی ایک اہم گھریلو صنعت

مقبوضہ کشمیر کی دم توڑتی ایک اہم گھریلو صنعت

11:14 am

آخر ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنی اس عظیم وراثت اور معاشی خوش حالی کی ضمانت کو دوسروں کے ہاتھوں میں یرغمال بنا نا چاہتے ہیں؟ ہم خود اپنے پائوں پر کلہاڑی کیوں ماررہے ہیں ؟ قبل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے بعض حکمرانوں نے سیاسی مفاد کے پیش نظر کشمیر میں گھریلوسطح پر پشمینہ سازی کو فروغ دینے کی بجائے کچھ ایسی  بے ہودہ اسکیمیں اپنائیں جن کی وجہ سے کشمیر کی خواتین نے پشمینہ کتائی بند کر دی اور اسی کے ساتھ پشمینہ صنعت کا گویا انتقالِ پر ملال ہوا ۔ یہ ساری ا سکیمیں مرکزی سرکار کی دی ہوئی ہیں جن کو آنکھ بند کے ہماری ریاست میں لاگو کیا گیا ۔  سوال یہ ہے کہ ہماری وادی میں ان سکیموں کی ضرورت ہی کیا تھی ۔یہ ا سکیمیں ہیں آنگن واڈی سنٹر، آشا وغیرہ جن سے ہماری پشتینی پشمینہ صنعت سے وابستہ خواتین الگ ہو کر ر ہ گئیں۔ 
 

 آج ہمیں اس دست کاری کی سوختہ حالی کے دن دیکھنے پڑتے ہیں ۔ پشمینہ صنعت سے پوری دنیا میں وادی کشمیر کو شہرت  ہی نہ تھی بلکہ ا س سے ہماری انفردایت اور تشخص قائم تھی جواب بہر حال ہے نہیں! فتح کدل سری نگرکے عبدالقیوم شاہ کشمیر عظمیٰ میں اپنے ایک مضمون میں رقمطراز ہیںکہ  تاریخ  کشمیر کے تابندہ ستارے ،مبلغ اسلام اور محسن کشمیر حضرت میر سید علی ہمدانی  جب وادی کشمیر میں تشریف لائے توان کے ساتھ بہت سارے ہنر مندکاری گر اور ماہرفنون بہ نفس نفیس موجودتھے۔یہ ساداتِ کرام دین و تبلیغ کے ساتھ مختلف دست کاریوں میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے جن میں قالین بافی، پیپر ماشی، شال بافی وغیرہ شامل تھی۔ یہ سارے کاری گر خاکِ ایران سے تعلق رکھنے والے تھے اور کشمیر میں قدم رنجہ ہوکرپہلے ضلع کپوارہ میں رہایش پذیر ہوئے، یہاں پہاڑوں کی آغوش میںقیام کر تے ہوئے انہوں نے نومسلم کشمیریوں کو نہ صرف دین اسلام کی تعلیم دی بلکہ لوگوں کو ہنرمندیوں اور دست کاریوں کی تربیت دی ۔ انہی قدسی روح اور پاک نفوس پر مشتمل خانوادہ  بافندہ بھی شامل تھا ۔اس قبیلے کا سر پرست سید احد شاہ بافند ہ تھے ، یہ شال بافی میں قابل قدر مہارت رکھتے تھے ۔  یہ وہ دور تھا جب وادی میں غریبی اور بے روزگاری عروج پر تھی۔ دینی تبلیغ کے ساتھ ساتھ با فندہ خاندان نے یہاں کے لوگوں کو آذوقہ کمانے کے لئے دست کاری کی طرف راغب کرنا شروع کیا۔ واضح رہے ضلع کپواڑہ پہاڑی علاقہ ہے، ان ایام میں یہاں کے لوگ مال مویشی اور بھیڑ بکریاں پال کر گزر اقات کر تے تھے۔ یہ پہاڑی لوگ اکثریت میں مسلمان تھے اور میدانی لوگ پنڈت تھے۔ 
با فندہ خاندان نے سب سے پہلے شال بافی میں درکار ساز سامان بنانے کا کام شروع کیا۔ اس میں یندر، پرژ، یرن تل، ڈغر، ساز، شم، ہر، وچہ کانی، ڈولہِ وغیرہ شامل تھے ۔ یہ سارا سامان لکڑی سے بنتا تھا۔ آہستہ آہستہ پہاڑی مسلم آبادی میدانی علاقوں میں رہنے لگی۔ سب سے پہلے بھیڑ بکریوں سے اون لے کر اس کی کتائی کا کام شروع کیا جس کی شروعات یہاں کے ہندو خواتین نے کی۔ سید احد شاہ بافند ہ کی زیر نگرانی یہاں کے مردو زن نے باریک چادریں بنانے کا کام شروع کیا، جس کا نام بعد میں دسہِ رکھا گیا۔ یہ ساڑھے گیارہ گز طویل ہوتااور اِس کے کناروں میں سبز ماول ہوا کرتا تھا۔ یہ عوام وخواص میں بہت ہی مشہورا ور مقبول ہوا ۔ دوسہ کو پوری وادی میں لوگوں نے پسند ہی نہ کیا بلکہ یہ ضروریاتِ زندگی کا حصہ بن گیا۔ اس سلسلے میں بافندہ خاندان کے ارکان نے خام مواد لانے کے لئے لداخ، راجوری، ڈوڈہ، بسو ہلی کا رخ کیا ۔ یہاں بھی انہوں نے دین و تبلیغ کے ساتھ ساتھ دست کاری کا کام شدومد سے شروع کیا۔ ادھرسید احد شاہ بافندہ کا بڑا فرزند سید محمد شاہ با فندہ شہر سرینگر کی طرف آگئے اور شہر خاص بر بر شاہ میں رہایش پذیر ہوئے اور یہاں کی خواتین کو اون کی کتائی سکھانے کا کام شروع کیا۔ اس وقت بھی یہاں کی پنڈت خواتین نے اس کام کی شروعات کیں اور آہستہ آہستہ پورے شہر خاص سرینگر میں مسلم خواتین نے بھی کتائی کے فن وہنر میں دلچسپی دکھائی۔
  پشمینہ صنعت کے حوالے سے یہ گزارشات ماضی قریب کا احاطہ کر تی ہیں ، جب کہ اس صنعت کا حال بہت ہی ناگفتہ بہ ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر میں وقت کے حکمرانوں نے پشمینہ صنعت کو فروغ دینے اور اسے بچانے کے لئے کوئی کار گر اقدام نہ کئے اورحضرت میر سید علی ہمدانی  کے لائے اس تحفے کو مقامی معیشت کا ایک اہم جز بنانے میں کوئی دلچسپی نہ لی بلکہ انہوں نے اس صنعت کی دانستہ یانادانستہ حوصلہ شکنیاں کیں۔غور کیجئے،پشمینہ صنعت وادی کشمیر کے لوگوں کی میراث تھی جس کو زندہ وپایندہ رکھنے میں معاشی خوش حالی کا راز ہی مضمر نہ تھا بلکہ یہ صنعت ہماری تہذیب اور روایات کا آئینہ دار تھی ، یہ حلال روزی کی ضمانت اور پاک آرزوں کی امانت دار تھی ۔ اگر اب بھی اس نفع بخش صنعت کی محبت دل کے کسی گوشے میں موجود ہے تو آپ کو پشمینہ صنعت کی موجودہ تباہ کن صورت حال ضرور بے چین کرے گی۔ اس صنعت کی ہماری روحانی ، معاشی اور سماجی تاریخ میں بڑی اہمیت رہی ہے ۔ اس سے بڑ ھ کر اس دست کاری کی اور کیا زینت ہوسکتی ہے کہ اسے بزرگان ِ دین نے یہاں متعارف کر ایا ،اس پیشے کو دعوت و تبلیغ کا جز لاینفک بنایا اور بہ حسن ِ سعی حضرت میر سید علی ہمدانی  کشمیر کو دست کاریوں کو دنیا بھر میں چار چاند لگ گئے ۔ گھر سے میت اٹھے تو وز وان، شادی بیاہ ہو تو فضول خرچیوں کا اہتمام مگر جن دست کاریوں کی بدولت ہماری تہذیب ودین کی سربلندی کا پرچم  لہر اتاتھا ، جو کام ہمیں دنیوی خوش حالی اور اخروی فلاح سے ہمکنار کر ے وہ ہماری ترجیحات میں کہیں موجود نہیں ۔