11:48 am
’’ کلبھوشن رہا نہیں ہو گا‘‘

’’ کلبھوشن رہا نہیں ہو گا‘‘

11:48 am

عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس ، دہشت گرد اور سینکڑوں انسانوں کے قاتل سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہاہے کہ وہ رہا نہیں ہو گااس سے متعلق کیس پاکستان میں چلے گا اور پاکستان کے قوانین کے مطابق عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے سے جہاں پاکستان کی عدالتوں بشمول فوجی اور سول کا وقار بلند ہو ا ہے وہیں یہ بات بھی طے پا گئی ہے کہ فوجی عدالت نے کلبھوشن کو جاسوسی اور دہشت گردی کے ارتکاب کے سلسلے میں جو فیصلہ صادر کیا ہے اس پر کسی بھی قسم کا منفی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے باالفاظ دیگر فوجی عدالت کا فیصلہ جو پاکستان آرمی ایکٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے قانون کے مطابق ہے اس طرح عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے پاکستان کو زبردست اخلاقی و قانونی فتح حاصل ہوئی ہے اور بھارت کو منہ کی کھانی پڑی ہے جہاں تک کلبھوشن کو قو نصلر تک ر سائی دینے کا معاملہ ہے پاکستا ن نے اس سے اتفاق کیا ہے تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان نے انسانی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے کلبھوشن کی فیملی کو اس سے ملاقات کرائی تھی پاکستان کے اس کردار کو دنیا بھر کے ماہرین اور دانشوروں نے سراہا تھا ۔
 
واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دو سال تک زیر بحث رہا ۔بھارت نے اس ضمن میں عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا حالانکہ عالمی قوانین کی روشنی میں کلبھوشن کے مقدمہ کا عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنا ایک احمقانہ قدم تھا اب بھارت مقدمہ ہار جانے کے بعد مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے اس کے ساتھ بھارت کا منافق میڈیابھی ساتھ دے رہا ہے اور یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ کیونکہ عالمی عدالت انصاف کا جج مسلمان ہے اس لیے مقدمہ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آیا ہے حالانکہ ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا اس مقدمہ سے متعلق موقف بہت ہی کمزور تھا۔ دوران سماعت یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ بھارت عالمی عدالت انصاف میں ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے لیکن اپنے جاہل عوام کو دھوکا دینے کے لیے اپنے میڈیا کے ذریعے یہ راگ الاپ رہا ہے کہ کلبھوشن کو جلد رہائی مل جائے گی ۔ لیکن بسا آرزو کہ خاک شدی، بھارت کو منہ کی کھانی  پڑی ہے بلکہ ہاتھ ملتا رہ گیا پاکستان کی ٹیم نے غیر معمولی تیاری کرنے کے بعد اس مقدمہ میں پاکستان کا استدلال منطق اور ٹھوس شواہد پر مبنی مقدمہ لڑا گیا ۔ پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ بھارت کی نیوی کا حاضر سروس  یہ کمانڈر بھارتی باشندہ ہے جس کے پاس بھارتی پاسپورٹ اور دیگر کوائف موجود ہیںیہ ایران میں زاہدان کے قریب مبارک حسین پٹیل کے نام سے تاجر کی حیثیت سے روشناس ہو ا ۔
 اس نے ایران اور پاکستان میں تین سال چارماہ قیام کے دوران بلوچستان میں ہندو کمیونٹی کے بعض افراد سے تعلقات استوار کیے حب میں اس کی مدد بی ایل اے نے بھی کی تھی ۔3 مارچ 2016 ء کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے بلوچستان میں اس کو گرفتار کر لیا ۔ 25 مارچ کو کلبھوشن نے پاکستانی احکام کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ بھارت کی نیوی کا ایک سرونگ کمانڈر ہے  ’’را‘‘نے اس کو بلوچستان اور کراچی میں قتل  وغارت کرنے کے چکا تھا۔8 اپریل 2016 ء کو  اس کے خلاف کوئٹہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ۔6 جنوری کو پاکستان نے کلبھوشن کی پاکستان میں دہشت کرنے سے متعلق ایک مکمل دستاویز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کی تھی جس میں بتایا گیا ہے اس جاسوس نے کس طرح بلوچستان کے بعض علاقوں اور کراچی میں بم دھماکوں اورٹارگٹ کلنگ کے ذریعے معصوم لوگوں کا خون بہایا تھا ۔ یہ شخص ’’را‘‘کی ہدایت کے مطابق پاکستان میں  دہشت گردی کا ارتکاب کر کے پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کی سازش میں ملوث تھا ۔10 اپریل 2017 ء پاکستان کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل  نے اس کو سزائے موت سنائی تھی جس پر عمل ہونے سے قبل بھارت عالمی عدالت انصاف واقع ہیگ  جنیوا کنونشن کے ایک آرٹیکل کے حوالے سے اپیل دائر کی تھی کہ کلبھوشن کو قید سے رہائی دلوائی جائے اور اس کو واپس بھارت کے حوالے کیا جائے۔
چنانچہ دونوں طر ف کے دلائل سننے کے بعد عالمی عدالت انصاف نے اپنا فیصلہ پاکستان کے حق میں سنا یا ہے۔ عالمی عدالت نہ صرف اتنا کہا کہ کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی دی جائے ۔ اس طرح پاکستان نے اس مقدمہ میں ہر طرح سے سرخرو ہو ا ہے اور ایسے شخص کے انسانیت سوز جرائم ثابت کرنے میں کامیاب ہو اہے جس نے سینکڑوں پاکستانیوں کا خون بہایا ہے بلکہ  ’’را‘‘ کے اس ایجنٹ نے ایران کو بھی اس کارروائی میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی جس  میں وہ ناکام ہوا تھا ۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ اس مقدمہ کا دوبارہ جائزہ لے کر اس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی ۔ فوجی عدالت کی جانب سے کلبھوشن کو پھانسی دینے کے خلاف فیصلہ بھی برقرار رکھا ہے ۔ بھارت نے ان دو سالوں کے دوران جب یہ مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت تھا کئی ممالک سے مداخلت کرانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام رہا ۔
عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کلبھوشن جو بھارتی باشندہ ہے پاکستان میں دہشت گردی کراتا ہو پکڑا گیا تھا نیز یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ بھارت پاکستا ن کے اندر دہشت گردی کرا رہا ہے ۔ اس کے کئی ایجنٹ اس وقت بھی فعال ہیں جن کو افغانستان میں باقاعد ہ دہشت گردی کی تربیت جارہی ہے جو بعد میں پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردی جیسی مذموم کارروائیاں کرتے ہیں نیز یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جنوبی ایشیاء میں بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرانے کا مرکز بن گیا ہے جبکہ بھارت بھارتی مسلمانوں کی بھی زندگیاں اجیرن کرنے پر تلا ہو ا ہے ۔
اس غیر معمولی مقدمہ میں بیرسٹر خاور قریشی کے ساتھ تیرہ رکنی ٹیم جس کے سربراہ پاکستان کے اٹارنی جنرل انور مقصود کر رہے تھے ۔ پاکستان کے موقف کو کامیابی کامرانی کے ساتھ پیش کر کے قانونی فتح حاصل کی۔پاکستانی قوم اس پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتی ہے ۔جنہوں نے عالمی عدالت انصاف میں اپنی قابلیت اور صلاحیت کو لوہا منوایا اور یہ تاریخی مقدمہ جیت کر قانون کی روشنی بھارت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ۔ بھارت کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنی ابھرتی ہوئی معیشت کے سہارے ہر فورم کو اپنا ہمنوا بنا سکتا ہے ۔ لیکن عالمی عدالت انصاف نے اپنا غیر جانبدرانہ فیصلہ سنا کر بھارت کی اس خوش فہمی کو دور کر دیاہے۔