11:49 am
عقیدہ ختم نبوتؐ!مسلمان عوام کے شکوے اور شکائتیں

عقیدہ ختم نبوتؐ!مسلمان عوام کے شکوے اور شکائتیں

11:49 am

دنیا جان لے کہ عقیدہ ختم نبوتؐ کا تحفظ ہمیشہ جانوں کے نذرانے پیش کرکے کیا جاتا رہا اور اب بھی اگر کسی طاغوتی طاقت کو عشاق رسول ﷺ کا امتحان مقصود ہے تو وہ اس مسئلے کو چھیڑ کر دیکھ لے … مسلم نوجوان سروں کی فصل کٹا کر ثابت کریں گے کہ خاتم الانبیاء ﷺ کا عشق ہی ان کی زندگی کی حیات ہے، وہ انسان بھی بھلا کوئی انسان ہے جس کا دل محبت رسولﷺ سے خالی ہے؟
 
وہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے کہ جس زندگی میں ختم نبوتؐ پر ایمان نہ ہو؟ عقیدہ ختم نبوتؐ پر ایمان لائے بغیر تو زندگی مجہول ہے… ختم نبوتؐ کو تسلیم کئے بغیر تو ’’انسانیت‘‘ ہی مشکوک ہے، پھر ایسے بدبودار شخص کو مسلمان کیسے تسلیم کرلیا جائے؟
اگر ’’ٹرمپ‘‘ یا کسی اور کو مرزا قادیانی محبوب ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ مرزا قادیانی کو عیسائیوں، یہودیوں یا ہندوئوں کا پیشوا تسلیم کرلیں، چودہ سو سالوں سے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ختم نبوتؐ کے تاجدار ﷺ کے بعد اگر کوئی دعویٰ نبوت کرے گا تو وہ دجال اور کذاب ہوگا، ہم  کسی دجال اور کذاب کو مسلمانوں کی صفوں میں شامل نہیں ہونے دیں گے۔
اسلام ایک مکمل اور واضح دین حیات ہے، اسلام نہ مشکوک بات کرتا ہے اور نہ مجہول تعلیم دیتا ہے، قرآن مقدس میں بڑے واضح اور کھلے الفاظ میں آقاء مولیٰﷺ کو آخری نبی قرار دیا ہے۔
عقیدہ ختم نبوتؐ کسی نے حلوے کی پلیٹ میں رکھ کر ہمیں پیش نہیں کیا بلکہ ختم نبوتؐ کے تحفظ کے لئے ، مسلمان مائوں نے اپنے  بیٹے قربان کئے، بہنوں نے اپنے بھائی نچھاور کئے ، بیویوں نے  اپنے شوہر قربان کئے، ختم نبوتؐ کے تحفظ کے لئے بارہ سو صحابہ کرامؓ نے اپنی جانیں نچھاور کرکے شہادتوں کے جام نوش فرمائے، جھوٹے مدعیان نبوت مسلیمہ کذاب،اسود و عنسی کے لشکروں کے لشکر کاٹ کر رکھ دیئے، گولڑہ کے تاجدار ولی کامل حضرت پیر مہر علی شاہؒ جب مرزا قادیانی ملعون کا مقابلہ کرنے کے لئے گولڑہ سے چلے تو ان سے محبت کرنے والا ایک اہلکار کہ جو انگریز کی سی آئی ڈی میں تھا ، کہنے لگا کہ حضرت! انگریز فیصلہ کرچکا ہے ، یا آپ کو مروا دے گا یا پھر ملک بدر کر دے گا، بابا جی مہر علی شاہؒ نے اپنا سر مبارک اٹھایا، آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا انگریزوں نے مجھے کیا نکالنا ہے، لوح محفوظ پر تو کچھ اور ہی لکھا ہوا ہے، حضرت پیر مہر علی شاہؒ لکھتے ہیں کہ ’’بعض قریبی احباب نے اخلاص سے مشورہ دیا پر وہ اخلاص کا معنی نہ جانتے تھے یہ کون سا اخلاص ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی ختم نبوتؐ کا مسئلہ ہو اور مہر علیؒ گولڑہ میں بیٹھا رہے گا، جب انگریز کی حکمرانی کا سورج برصغیر میں نصف انہار پر تھا، انگریز کا خود کاشتہ پودا مرزا غلام قادیانی بھی زندہ تھا، مسلمان اکابر علماء نے تب اسے دجال اور کذاب کہا تھا۔
1953 ء میں لاہور کی سڑکوں پر دس ہزار سے زائد عشاق رسولﷺ گولیوں سے چھلنی کر دیئے گئے  ، دس ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کرکے بھی وہ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کو مسلمانوں کی صفوں میں شامل نہ کرواسکے۔مسلمانوں نے لاشوں کے انبار تو لگا دیئے لیکن عقیدہ ختم نبوتؐ پر کمپرومائز کرنا گوارا نہ کیا، ختم نبوتؐ کے باغی قادیانی جسے عزیز ہیں اسے چاہیے کہ وہ انہیں اپنے گھر لے جائے، روس لے جائو، امریکہ لے جائو، برطانیہ لے جائو، اسرائیل لے جائو، اگر تمہیں اپنے خود کاشتہ پودوں سے اتنا ہی پیار ہے تو مرزے لعنتی کو اپنا مقتداء مان لو، پیشوا مان لو، انہیں عیسائیت میں شامل کرلو، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
لیکن خبردار! اسلام یا مسلمانوں میں انہیں زور زبردستی یا کسی سازش کے ذریعے شامل کرنے کی کوئی بھی کوشش ’’امن‘‘ کو آ گ لگانے کے مترادف ہوگی۔
ہر سچے مسلمان کا پہلا پیار بھی آقا ء مولیٰﷺ کے ساتھ ہوتا ہے اور آخری پیار بھی۔
7 ستمبر1974 ء کو مسلسل22روز کی جرح کے بعد قادیانی آئین پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے، جرح کے دوران انہیں اپنا موقف پیش کرنے کی مکمل آزادی حاصل تھی  اور قومی اسمبلی نے ان کا کفر جاننے کے بعد ہی بغیر کسی مسلکی و سیاسی وابستگی کے انہیں غیر مسلم قرار دیا، اسمبلی کے کسی رکن نے اس فیصلہ سے اختلاف نہیں کیا۔چنانچہ قادیانیوں کو آئین پاکستان کے تحت وہ تمام حقوق و آزادی حاصل ہے جو غیر مسلم اقلیتوں کا حق ہے، آئین ، پاکستان میں قادیانیوں کی جان و مال، عزت و آبرو کا ضامن ہے، پاکستان میں بسنے والے 98 فیصد اکثریتی مسلمان آبادی کو شکوہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی کرتے ہیں، پاکستان کی اکثریتی مسلمان  آبادی کو شکوہ ہے کہ قادیانی بیرونی دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔
قادیانی ایک اسلامی نظریاتی ایٹمی ملک کے آئین کی سرعام دھجیاں اڑانے سے دریغ نہیں کرتے، مسلمانوں کو شکایت ہے کہ قادیانی ان کے پاکیزہ نبی ﷺ کی شان میں نعوذ باللہ گستاخیوں کا ارتکاب کرتے ہیں، مسلمانوں کی مقدس شخصیات کا مذاق اڑاتے ہیں، مسلمانوں کو شکایت ہے کہ قادیانی مسجدوں کی طرز پر  اپنے معبد خانے تعمیر کرتے ہیں جس کی قانون بھی انہیں اجازت نہیں دیتا، مسلمان عوام کو شکایت ہے کہ قادیانی مسلمانوں والی ’’اذان‘‘ دے کر سرعام قانون کی خلاف وزری کرتے ہیں، مسلمان عوام کا یہ شکوہ بھی ہے کہ قادیانی جان بوجھ کر مسلمانوں والا کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں، مرزا قادیانی کے پیروکار کافر ہوکر جب مسلمانوں میں گھسنے کی کوشش کریں گے تو اس سے فساد پھیلے گا اور اس فساد کو روکنا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔