04:56 pm
خطرناک صف بندیاں 

خطرناک صف بندیاں 

04:56 pm

 1979ء میں سوویت یونین کی جارحیت کے بعد بڑے پیمانے پر افغانستان سے پاکستان نقل مکانی ہوئی ، ان میں جو متمول تھے وہ اپنے ساتھ اتنا سرمایہ بھی لائے جس سے انہوں نے رہایشی مکانات خریدے اور چھوٹی سطح کے کاروبار بھی شروع کیا، زیادہ تر نے ٹرانسپورٹ کا کام کیا۔ ان میں ایک بڑا حصہ کابل سے آنے والی اشرافیہ کے لوگوں کا تھا۔ افغانستان میں یہ جنگ جب مضافات تک پھیلی تو جو لوگ مالی طور پر زیادہ مستحکم نہیں تھے انہوں نے بھی نقل مکانی کا آغاز کیا اور ان میں سے کئی  دوطرفہ فائرنگ کی نذر بھی ہوئے۔ کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں (زیادہ تر پشتون) افغانوں کی ملکیت جائیدادیں اس وقت کے مختلف باغی افغان گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سمجھیے چھٹیاں گزارنے کی  قیام گاہیں تھیں۔ پشاور میں حیات آباد اور نیو یونیورسٹی ٹاون کے علاقے مال دار افغانوں سے بھرے  ہوئے ہیں۔ کرزئی کے خاندان کے کچھ لوگ آج بھی کوئٹہ میں رہتے ہیں اسی طرح  کہا جاتا ہے کہ رشید دوستم کی ایک بیوی اسلام آباد میں مقیم ہے۔
 
اس وقت اپنے پڑوسی سے ہمارے تعلقات جس سطح پر آچکے ہیں، اس کے باجود اگر ہم دوستوں اور دشمنوں کی موجودگی کو نظر انداز کرتے رہے تو یہ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔ اس غفلت کے باعث ہمارے خلاف اس پراپیگنڈے نے زور پکڑا کہ ہم افغانستان میں طالبان کے پشت پناہ ہیں۔ برسر پیکار لیڈر جب اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے آتے ہیں تو ایسی اطلاعات سے کوئٹہ شوری اور کسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے بارے میں امریکی تاثر کو مزید پختگی ملتی ہے۔ اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ ، لاہور، کراچی، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر شہروں میں ایک ایسا ڈیٹا بیس موجود ہے جس میں یہاں قیام پذیر افغانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے کہ ان کا افغانستان کے کس علاقے سے تعلق ہے اور وہاں یا بیرون ملک رہنے والے ان کے رشتے دار کون ہیں۔ امریکی سیٹلائٹ کسی بھی گاڑی کی نمبر پلیٹ پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کسی بھی سرحد پار سرگرمی کی صورت میں محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق معلومات عام کرنے میں کیا بات رکاوٹ ہے؟ جہاں تک قومی سرحدوں کے تقدس کی بات ہے، پاکستان میں مسلح گروہوں پر ہونے والے ڈرون حملوں کا کائی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا، لیکن  دس برسوں سے زائد عرصے میں سرحد پار سے آنے والوں کے ہاتھوں قتل ہونے ہوالے اپنے  سپاہیوں اور شہریوں کے لیے ہم نے کبھی دو آنسو بہائے؟ 
امریکہ اور پاکستان کے مابین باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کی افواج کے رابطوں میں اضافہ ضروری ہے۔ یہ بد اعتمادی دہرا المیہ ہے، اس لیے کہ پاک فوج فاٹا اور سوات سے عسکریت پسندوں کے خاتمے کا مشترکہ مقصد حاصل کرنے کے لیے جی جان کی بازی لگا رہی ہے۔
1950ء کی دہائی میں سر جیرالڈ ٹیمپلر کی ملاین مہم کے بعد ، یہ ہماری فوج ہی کا اعزاز ہے کہ اس نے شورش کے خاتمے اور انسداد دہشت گردی کے خلاف کام یابی سے ایسی شاندارکارروائی کی۔ سیاسی اعتبار سے یہ ایک انتہائی غیر مقبول فیصلہ ہوگا لیکن حالات کے پیش نظر ہمیں وقفے وقفے سے ( اور صرف مختصر مدت کے لیے) فاٹا اور سوات آپریشن میں امریکی فوجی مبصرین کو ساتھ رکھنا چاہیے۔ سیاسی تقسیم کے باعث بعض حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو ملکی سالمیت اور وقار پر حملہ قرار دیا جائے گا، لیکن جب حالات غیر معمولی ہوں تو ملک کی بھلائی کے لیے ایسے غیر مقبول فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔  بھارتی پراپیگنڈے کے زیر اثر امریکہ کی عسکری اور سویلین قیادت کشمیر کے مجاہدین آزادی کو بھی دہشت گرد سمجھتی ہے اور بڑی چالاکی کے ساتھ افغان طالبان کے ساتھ ان کا رابطہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے، اسی بنیاد پر امریکہ پاکستان کو بے وفائی کا طعنہ بھی دیتا ہے۔افغان فوج میں پاکستان سے عناد رکھنے والے تاجک اکثریت میں ہیں اور وہ اس تاثرکو مزید بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے امریکی میڈیا ، سیاست دان، سرکاری ملازمین  کے ساتھ ہمارے فیصلے ساز حلقوں سیاست دانوں، اکادیمیا اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین بھی تبادلہ خیال اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے، اسی  سے رائے عامہ کو سمجھنے اور غلط فہمیاں دور کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اسی طرح اہل علم پاکستانیوں کو امریکی تھنک ٹینکس، کانگریس ارکان، عام لوگوں اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے میل ملاپ رکھنا چاہیے۔ ہمارے سفیر اعزاز پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن کیا پاکستانی سفارت خانے میں سے کسی اور نے زحمت گوراہ کی کہ واشنگٹن میں راقم کے منعقدہ کسی پروگرام پر توجہ فرماتے؟ انھیں اپنے ذاتی مفادات سے فرصت ملے تو وہ سرکاری ذمے داریوں کا رخ کریں۔ 
بھارت امریکہ تعلقات پر پاکستان کو فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، لیکن اس تعلق کی قیمت اگر ہمیں ادا کرنی ہے تو ہمارے خدشات بلاجواز نہیں۔ ہم بھارت کو کس طرح اپنے خلاف افغانستان میں دوسرا محاذ کھولنے دے سکتے ہیں؟ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ کی تعداد پر پاکستان نے امریکہ کو متوجہ کرنا چاہا لیکن وہ اس تعداد کو افسانوی قرار دے کر اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ تو ہم یہ پوچھیں کہ ان مقامات پر کیا بھارتی را کے لوگ تعینات ہیں؟ اور کیوں اکثر ایسے مقامات کی حفاظت کے لیے افغان این ڈی ایس کی بھاری نفری تعینات ہے؟ یہ صرف بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں انتشار اور بے سکونی پھیلانے کے لیے کام کررہے ہیں! بھارتی وزیر اعظم مودی، سابق وزیر دفاع پاریکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال وغیرہ علی الاعلان پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے اور بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے عزائم کا اظہار کرچکے ہیں۔اسی طرح بھارتی تربیتی اداروں میں زیر تربیت افغان فوجیوں کے دل و دماغ میں پاکستان کے خلاف جو زہر گھولا جارہا ہے، یہ بھی کوئی راز نہیں۔ بھارت افغان معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزید اقدامات کرے گا، تو کیا امریکہ افغانستان میں بھارت کو فوجی کردار دینا چاہتا ہے؟
بھارت نے اپنی بری، بحری اور فضائی فوج کا 80فی صد پاکستان کے خلاف اور مشرقی سرحد پر تعینات کررکھا ہے۔ ان کی اور ہماری نفری میں چار ایک اور کہیں پانچ ایک کی نسبت بنتی ہے۔ جب کہ چین کے ساتھ سرحد پر بھی یہ صورت حال نہیں۔ اس حوالے سے ہماری تشویش بجا ہے۔ امریکی قومی سلامتی کمیٹی نے اگر چین کو محدود کرنے کے لیے بھارت کا انتخاب کیا تھا تو افغانستان میں بھارت کے قدم جمانے کی امریکی کاوشیں تو اس سے بھی آگے کی منزل معلوم ہوتی ہے۔ 
کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ نتیجہ خیز مکالمہ ممکن ہی نہیں جو اپنے تصورات کی سچائی پر ایمان رکھتا ہو۔ تاہم صرف ضبط کرکے ہی حالات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں بھارتی کردار پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا نشان ہے، امریکیوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔ کیا افغانستان میں بھارتی کردار امریکہ کو اس قدر عزیز ہے کہ وہ اس خطے سے وابستہ اپنا قومی مفاد ہی خطرے میں ڈال دے گا؟

تازہ ترین خبریں

نئے مون سون سسٹم کی پاکستان میں دھماکے دار انٹری۔۔ کراچی سے خیبر تک بارشیں ہی بارشیں ؟محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا 

نئے مون سون سسٹم کی پاکستان میں دھماکے دار انٹری۔۔ کراچی سے خیبر تک بارشیں ہی بارشیں ؟محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا 

بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ۔۔پاکستان کی بڑی سرکاری یونیورسٹی نے جعلی ڈگریاں جاری کردیں، گندے دھندے میں کون کون ملوث ہے؟والدین اور طلبا یہ ضرور

بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ۔۔پاکستان کی بڑی سرکاری یونیورسٹی نے جعلی ڈگریاں جاری کردیں، گندے دھندے میں کون کون ملوث ہے؟والدین اور طلبا یہ ضرور

ہمیں دور دراز علاقوں میں پٹرول پمپ کی فراہمی  کو یقینی بنانا چاہیے۔عارف علوی

ہمیں دور دراز علاقوں میں پٹرول پمپ کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔عارف علوی

 ماسک صحیح طریقے سے نہ پہننے کامعاملہ ۔۔۔ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کو امریکی ائیرلائن  اتاردیاگیا 

 ماسک صحیح طریقے سے نہ پہننے کامعاملہ ۔۔۔ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کو امریکی ائیرلائن  اتاردیاگیا 

ویلکم ۔۔خوش آمدید۔۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کب پاکستان آ رہے ہیں۔۔؟ دشمنوں کی نیندیں حرام کردینےوالی خبر

ویلکم ۔۔خوش آمدید۔۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کب پاکستان آ رہے ہیں۔۔؟ دشمنوں کی نیندیں حرام کردینےوالی خبر

ظلم کی انتہائی ، بااثرملزمان نے لڑکی کا نازک اعضا کات دیا، افسوسناک واقعہ پاکستان کے کون سے شہر میں پیش آیا؟جانیے

ظلم کی انتہائی ، بااثرملزمان نے لڑکی کا نازک اعضا کات دیا، افسوسناک واقعہ پاکستان کے کون سے شہر میں پیش آیا؟جانیے

شہباز شریف اور بلاول بھٹو ٹھپہ مافیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، فرخ حبیب

شہباز شریف اور بلاول بھٹو ٹھپہ مافیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، فرخ حبیب

 سندھ میں کورونا ویکسینیشن نہ کروانے والوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ

سندھ میں کورونا ویکسینیشن نہ کروانے والوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ

 لاہور  ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے جہاز پر نا معلوم شخص کی جانب سے  لیزر لائٹ  مارنے کا واقعہ،  مقدمہ درج

لاہور ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے جہاز پر نا معلوم شخص کی جانب سے لیزر لائٹ مارنے کا واقعہ، مقدمہ درج

صوابی یونیورسٹی سے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف،یونیورسٹی کے چار اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تصدیق

صوابی یونیورسٹی سے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف،یونیورسٹی کے چار اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تصدیق

خیبر پختونخوامیں کل شام سے بارشوں اور تیز ہواؤں کا نیاسلسلہ شروع ہونے کاامکان

خیبر پختونخوامیں کل شام سے بارشوں اور تیز ہواؤں کا نیاسلسلہ شروع ہونے کاامکان

تحریک انصاف سے لوٹے اور آزاد امیدوار نکا ل دیں توباقی کون بچتاہے؟عظمیٰ بخاری نے ایسی بات کہہ دی جس سے کھلاڑی غصے سے آگ بگولہ ہوگئے

تحریک انصاف سے لوٹے اور آزاد امیدوار نکا ل دیں توباقی کون بچتاہے؟عظمیٰ بخاری نے ایسی بات کہہ دی جس سے کھلاڑی غصے سے آگ بگولہ ہوگئے

 مسلم لیگ (ن) نے  الیکشن کمیشن سے وفاقی وزراء کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن سے وفاقی وزراء کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

 انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا استعمال ناگزیر ہے کوئی ‏بھی الیکشن ہوں دھاندلی کےالزامات لگائےجاتےہیں۔سینیٹر فیصل جاوید 

 انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا استعمال ناگزیر ہے کوئی ‏بھی الیکشن ہوں دھاندلی کےالزامات لگائےجاتےہیں۔سینیٹر فیصل جاوید