11:56 am
فاٹا! پاکستان کا نیا جمہوری ساتھی!

فاٹا! پاکستان کا نیا جمہوری ساتھی!

11:56 am

٭بہت بڑی خبر، فاٹا کا وسیع علاقہ پاکستان کا باقاعدہ جمہوری حصہ بن گیا۔ لاکھوں لوگوں نے ووٹ ڈالے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی بالکل ناکامO واشنگٹن، عمران خان کی اہم مصروفیات، کمرشل طیارے،ٹرین سے سفر، سفیر کے گھر پر رہائشOایک دن میں چار جلسے، کراچی2، فیصل آباد!، واشنگٹن! O اسمبلی پہلی بار ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے، عمران خان O سینٹ چیئرمین: یکم اگست، عدم اعتماد کے لئے رائے شماریO بہاول پور، سابق خاتون ایم پی اے کے قبضے سے چار من چرس برآمد بیٹا گرفتارo وزیراعظم کا دورہ ناکام بنانے کے لئے قادیانیوں، حسین حقانی، شان تاثیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقاتO عمران خان کا 22 ہزار پاکستانیو ںکے جلسے سے خطاب O کراچی میں پاک سرزمین کا بہت بڑا جلسہ۔
 
٭میں بہت خوش ہوں، زندگی میں وسیع قبائلی علاقے کو پاکستان کا باضابطہ جمہوری حصہ بنتے دیکھ لیا۔ اس کے16 منتخب ارکان صوبائی اسمبلی میں پہنچ گئے۔ ابھی بالواسطہ پانچ خواتین بھی آنی ہیں۔ یوں اس اسمبلی کی تعداد 124 سے بڑھ کر 145 ہو جائے گی۔ حالیہ سات اضلاع سے کامیاب ہونے والی پارٹیو ںکے اعداد و شمار یہ ہیں، آزاد 7، تحریک انصاف 5، جے یو آئی ایف 3، اے این پی 1، جماعت اسلامی ایک! اب اسمبلی کی 145 کی کل تعداد میں تحریک انصاف کی 97 (تین بالواسطہ خواتین سمیت)،ایم ایم اے (جماعت اسلامی+ جے یو آئی) کی 17، اے این پی کی 12 نشستیں ہو جائیں گی۔ پیپلزپارٹی کی پانچ نشستوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ عام طور پر آزاد ارکان ہمیشہ حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ موجودہ کامیاب سات ارکان بھی حکومت سے مل جائیںتو تحریک انصاف کی تعداد 104 ہو جائے گی جو کل تعداد کی2 تہائی (96) سے زیادہ ہو گی۔
٭یہ سارے اعداد و شمار اخبارات میں موجود ہیں۔ یہ انتخابات نہائت پرامن رہے۔ ان میں ہزاروں قبائلی افراد نے بہت جوش و خروش سے حصہ لیا۔ شدید گرمی میں لمبی قطاروں میں کھڑے رہے۔تادم تحریر کسی جگہ دنگا فساد کی کوئی خبر نہیں آئی۔ حیرت انگیز طور پر پہلی بار اس نہائت قدیم روایات والے اس علاقے کی خواتین نے 20 فیصد ووٹ ڈالے اور پھرامیدواروں کی کامیابی پر ڈھول ڈھمکے، رقص، آتش بازی، ہوائی فائرنگ (اس علاقے کی ثقافتی روائت)! زندہ باد و پائندہ باد، میرے نہائت کشادہ دل، کشادہ بازوئوں والے قبائلی بھائیو اور بہنو!آپ لوگوں نے وطن عزیز کے تحفظ میں ہمیشہ پرخلوص ساتھ دیا، عظیم قربانیاں دیں! بہت سی مشکلات برداشت کیں، اور بے حد و حساب حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا۔رب عظیم کا شکر کہ قبائلی علاقوں پر کالے ایف سی آر قوانین کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے! ان قوانین کا سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے۔ کسی ایک شخص کے کسی جرم پر گھر جلا دیا جاتا اور سارا گھرانہ جیل میں۔ کسی سازش کے الزام میں پورا گائو ںنذر آتش، گرفتاریاں، بھاری جرمانے! ہزار بار شکر کہ انگریزوں کا یہ جابرانہ نظام بالآخرختم ہو گیا! بلاشبہ اس عمل میں آصف زرداری اور نوازشریف کی پالیسیوں کا بھی اہم حصہ رہا ہے۔ مجھے خیال آ رہا ہے کہ حالیہ پرامن انتخابات میں ہزاروں قبائلیوں کی پرجوش شرکت پر محمود اچکزئی جیسے ’محب وطن‘ لوگوں کی کیفیت کیا ہو گی؟ محمود اچکزئی نے بار بار دریائے سندھ تک پورے پختونخوا صوبے کو افغانستان کا علاقہ اور پاکستان کے خلاف نعرے لگانے اور اس کا پرچم روندنے والے افراد کو اپنے بچے قرار دیا۔ ایک بھائی کو گورنر بنوا لیا، گھر کے پانچ افراد اسمبلیوں میں پہنچ گئے، ہر قسم کے فوائد سمیٹے، جی بھر کر پاکستاان کا کھاتے پیتے رہے اور بیان جاری کرتے رہے کہ خیبر پختونخوا افغانستان کا علاقہ ہے! محمود اچکزئی اور ہم نوا حواریوں کے لئے یہ منظرنامہ ڈرائونا خواب ثابت ہو گا کہ اب قبائلیوں کے مسائل کسی مسلح جنگ جو تنظیم کے نعروں کا موضوع بننے کی بجائے اسمبلیوں میں معزز قبائلی نمائندے خود حل کریں گے! مگر فاٹا میں ناکامی کا بدلہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکے، 10 افراد شہید، بہت سے زخمی! اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون!
٭وزیراعظم عمران خان کے امریکہ کے دورہ کے بہت سے پہلو ہیں، عرصہ تک بات ہوتی رہے گی۔ وہ کسی بھی ملک کے پہلے حکمران ہیں جو کمرشل طیارے میں ضروری ارکان کے ساتھ امریکہ پہنچے، ہوائی اڈے سے ایک ٹرین میں عام مسافروں کی طرح سفر کیا (افسوس! پورا منہ کھول کر عمران زندہ باد کے نعرے لگانے والی لال حویلی کو ساتھ نہ لیا!) 
کچھ خاص حلقوں نے اس سادہ سفر کو ملک کی تضحیک قرار دیاہے۔ صورتحال جو بھی ہو، معاملہ یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ پورا 747 بڑا طیارہ، درباریوں، حواریوں، خوشامدیوں، لفافہ پرست صحافیوں اورتمام اہل خانہ کے ساتھ بھرا ہوا جاتا تھا۔ ان تمام جی حضوریوں کو روزانہ بھاری الائونس بھی ملتا تھا۔ موصوف کے آخری دورے پرچار لاکھ 60 ہزار ڈالر کے اخراجات ہوئے تھے۔ عمران خاں کے موجودہ دورے پر 60 ہزار ڈالر کے اخراجات بتائے گئے۔ یوں صرف ایک دورے پر چار لاکھ ڈالر (چھ کروڑ 40 لاکھ روپے) بچ گئے ہیں۔ (نوازشریف کے لندن والے علاج پر تین کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے) دوسری اہم بات کہ عمران خان نے واشنگٹن کے سٹیڈیم میں تقریباً 22 ہزار پاکستانیوں سے خطاب کیا۔ اس انتظام کے تمام اخراجات خود پاکستانی افراد نے برداشت کئے، ایک پاکستانی نے آٹھ کروڑ ادا کئے اور اردگرد کے شہروں سے کثیر تعداد میں بسیں بھر کر منگوائیں۔ اسی سٹیڈیم میں بھارتی وزیراعظم مودی نے 18 ہزار بھارتی افراد سے خطاب کیا تھا۔ سارے اخراجات سفارت خانہ نے ادا کئے تھے۔ اخبارات میں، بقول شیخ رشید، اب تک دو ’ٹرمپوں‘ کے درمیان بات چیت ہو گئی ہو گی۔ اس پر پھر بات ہو گی۔ البتہ ایک دلچسپ بات یہ کہ سٹیڈیم میں وزیراعظم پاکستان کے آنے پر پرجوش ڈھول ڈھمکا ہوا۔ پتہ نہیں پاکستانی لوگ دوسرے ملکوں میں ڈھول کہاں سے لے آتے ہیں؟ بیان کر چکا ہوں کہ 79ء میں امرتسر کے سٹیڈیم میں پاک بھارت میچ کے وقت پاکستانی تماشائیوں نے ڈھول کے ساتھ پاکستان زندہ باد کے نعروں اور ہو جمالو، دھمال کا بھرپور مظاہرہ کیا، پورے سٹیڈیم پر سناٹا چھا گیا۔ شارجہ سٹیڈیم میں آخری وکٹ اور آخری بال پر میاں داد نے چھکا مار کر بھارت کو شکست دی تو سٹیڈیم کے باہر ڈھول پر ’ہو جمالو‘ دھمال شروع ہو گئی۔ اسے روکنے کے لئے شُرطے (سپاہی) بھاگتے ہوئے آئے مگر نزدیک پہنچ کرڈھول کی تال پر مست ہو کر خود بھی ناچنے لگے! اب واشنگٹن میں ڈھول! اورڈھول بجانے والا بھی باقاعدہ تربیت یافتہ!
٭بہاول پور: سابق خاتون رکن صوبائی اسمبلی فوزیہ ایوب کے ڈیرے سے کروڑوں کی چار من چرس برآمد! زیر زمین چھپائی ہوئی تھی۔ اس کا اور ایک دوسرے سابق ایم پی اے کا بیٹا گرفتار! ابھی رانا ثناء اللہ کی کئی کلو ہیروئن کا معاملہ چل رہا تھاکہ بہاول پور کی چرس نمودار ہو گئی۔ پولیس نے اتفاقیہ ایک ویگن کو روکا، اس میں سے چرس برآمد ہوئی۔ڈرائیور نے سب کچھ بتا دیا۔کیا وقت آ گیا ہے کہ ارکان اسمبلی کی گاڑیوں سے منشیات کے ذخیرے برآمد ہو رہے ہیں! الامان!
٭عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے! بات ناقابل فہم سی ہے۔ اسمبلی کیا کوئی بجلی گھر ہے جس میں ڈیزل استعمال ہوتا ہے؟ تو کیا اب اسمبلی بجلی سے چل رہی ہے؟ 

تازہ ترین خبریں