08:18 am
 صدر ٹرمپ کا دبائو؟

 صدر ٹرمپ کا دبائو؟

08:18 am

بارک اوباما کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان پر دبائوبڑھا دیا ہے۔ یہ دبائو ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میںہے۔جس پرحکومت پاکستان نے لچک دکھاتے  ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ امریکی نیوز چینل فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں وزیراعظم نے اس کا عندیہ دیا۔ اس سے پہلے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے مشیر طارق فاطمی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان شکیل آفریدی کی رہائی کے معاملے پر امریکہ سے بات کر سکتا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ کیا بات ہو گی۔ قانون کا دائرہ کیا ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے تصدیق کرتے ہیں کہ  ڈاکٹر آفریدی نے امریکی کے لئے جاسوسی کی۔  یہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کون ہے۔ امریکہ کا پیارا کیوں ہے۔ صدر اوباما کے بعدصدر ٹرمپ اسے اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ امریکی کانگریس کا اس سے کیا رشتہ ہے۔جیسے وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی اصل میں امریکاکا جاسوس ہے۔جو 33سال کی جیل کاٹ رہا ہے۔ اس نے 2مئی 2011ء کو ایبٹ آباد آپریشن کی مدد کی۔پہلے کہا جا رہا تھا  کہ ڈاکٹر آفریدی کو عدلیہ سے گزرنا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے کہ اس کیس کو معافی کے لئے صدر کے پاس بھیجنا درست ہے یا نہیں۔لیکن اب عدالت کے فیصلے کی بات نہیںکی جاتی بلکہ اب امریکہ سے بات چیت کا آپشن زیر غور لا یا جا رہا ہے۔یعنی پاکستان پر امریکی دبائو بڑھ رہا ہے۔ ایبٹ آباد میں ڈاکٹر آفریدی کے جعلی پولیو قطرے پلانے کی مہم کی وجہ سے اسامہ بن لادن کا پتہ چلا۔ جس میں امریکی کمانڈوز ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے لڑاکا جہازوں پر آئے۔ 
 
پاکستان کی سرحدی یا فضائی حدود کی ہی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ پاکستان کے اندر تک گھس کرفوجی آپریشن کیا۔ ملک کے وفاقی دارالحکومت کے قریب پہنچ کر اپنے ٹارگٹ کو ایک جنگی کارروائی کے بعد اغوا کر لیا۔ یہ علاقہ بھی انتہائی حساس تھا۔ فوجی چھائونی اور فوجی ٹریننگ سنٹر کا علاقہ کیسا ہونا چاہیئے۔ امریکہ نے پاکستان کے تحفظ اور دفاعی نظام پر سوالیہ نشان ڈال دیئے۔ یہ سب کیا ہوا‘ کون ذمہ دار ہے۔ غفلت کس نے کی ہے۔ کوئی بات نہیں۔ سب کچھ بھلا دیا گیا ہے۔ کوئی ٹھوس انکوائری نہیں ۔ ذمہ داری کا کوئی تعین نہیں۔ عوام پھر اندھیرے میں ہیں‘ ہمیشہ رہیں گے۔جب حکمران خود غافل ہوں تو وہ اپنے ماتحت اداروں سے کیا جواب طلبی کریں گے۔ جب اداروں کے سر براہان یر غمال بنے ہوں۔ چند لوگ انہیں اعتماد دے کر اپنے اشاروں پر نچا رہے ہوں۔ تو وہ ادارے کب تک ڈوبنے سے بچ سکے گا۔ پرویزمشرف نے قوم کے عزت اور وقار کو ڈالروں کے بدلے نیلام کر دیا۔ ان کی وکالت کرنے والے یا ملک میں آپریشن آپریشن کے نعرے لگانے والے ڈالروں اور پائونڈز کے بدلے اپنا ضمیر بیچ چکے تھے۔ تاہم عمران خان آپریشن کے مخالف رہے۔ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے تو ڈاکٹر آفریدی کا معاملہ اتنا طول نہ پکڑتا۔ اس نے ملک کے ساتھ غداری کی ہے۔ ملک کے راز  افشاء کئے۔ سی آئی اے سے ڈالر لے کر کھلی مدد کی ہے۔ ڈالر کے بدلے ملک کی سالمیت اور سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ یہ کام دوسرے لوگ بھی کرتے ہوں گے۔ آخر امریکہ ان کو اس کا بدلہ بھی دیتا ہے۔ کھاتے اس ملک کے ہیں گیت امریکہ کے گاتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا یہ ہو گا کہ اس ملک نے انہیں کیا دیا۔ ڈالر امریکی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہوں گے کہ حکومت امریکہ سے مدد لیتی ہے۔ کوئی گناہ نہیں۔ حکمران ڈالر لے کر اپنی تجوریوں میں جمع کرتے ہیں، کوئی گناہ نہیں، وہ بھی امریکہ سے براہ راست ڈیل کر رہے ہیں تو یہ کیسے گناہ ہو گیا۔ ڈاکٹر آفریدی نے امریکہ سے براہ راست ڈیل کی‘ لیکن پکڑا گیا‘ جو پکڑا گیا وہ چور۔ جو بچ گیا وہ کھلاڑی‘  لیکن جس طرح ٹرائل ہو رہا ہے ، وہ انتہائی دلچسپ ہے۔ آفریدی کو گرفتاری کے بعد ملک کے خلاف سازش کرنے کے الزامات سہنے پڑے۔ اسے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ باڑہ نے 33برس بلا ضمانت قید سنائی ۔ اس سزا کو قبائلی عدالت نے کالعدم قرار دیا ۔ 
کمشنر ایف سی آر نے اس سزا کو اوور ٹرن کر دیا۔ خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کو دوبارہ کیس کی شنوائی کی ہدایت کی گئی۔ آفریدی آج پشاور سنٹرل جیل میں ہے۔ آفریدی کے وکیل قمر ندیم آفریدی نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کو اچھی پیش رفت قرار دیا ۔ یہ پاکستان پر امریکی دبائو کے لئے تھا‘ تا کہ ڈاکٹر آفریدی کو ملک سے غداری کی کوئی سزا نہ ملے اور اسے باعزت رہا کر دیا جائے۔ ریمنڈڈیوس کی طرح۔ریمنڈ ڈیوس نے چند پاکستانیوں کو قتل کیا تھا‘ لیکن امریکہ کا جاسوس تھا۔ امریکہ اسے لے گیا‘ عام شہری کی کیا حیثیت ہے۔ ڈاکٹر عافیہ بھی امریکی جاسوس ہوتیں تو اسے کابل سے ہی باعزت رہا کر دیا جاتا‘ لیکن امریکہ نے اسے بد نام زمانہ انٹروگیشن سنٹر پہنچا دیا۔ امریکی کمانڈوز وہاں اس پاکستان کی بیٹی کے ساتھ درندوںجیسا سلوک کر رہے ہیں۔ اب ان کے بدلے جاسوس کی رہائی کی بات ہو رہی ہے۔
سابق امریکی سفیر رچرڈ اولسن پشاور کا دورہ کرکے ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے لئے ایسے بات کرتے تھے جیسے آفریدی پاکستان کا شہری نہیں  بلکہ ہم نے اسے امریکہ سے اغواء کیا ہوا ہے۔ 
آفریدی کا کیس ایف سی آر کمشنر کی عدالت میں رہا۔ ٹائمنگ دیکھیں جس دن صدر اوباما شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے امریکی امداد کے بل پر دستخط کر رہے تھے اس دن ہی کمشنر کے پاس آفریدی کی پیشی تھی۔ وکیل کو فیس امریکہ دیتا رہا۔ کیا پرواہ ہے۔ وہ کمشنر پر دبائو ڈال رہے تھے کہ ان کے پسند والے دن کیس کی شنوائی کی جائے۔ کمشنر کو یہ کیس فاٹا ٹریبونل نے ریفر کیا ۔  سابق کمشنر صاحبزادہ مہمدانیس کی فوتگی کے بعد سے ان کے احکامات کالعدم قرار دینے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اس لئے شکوک بڑھ رہے تھے کہ سابق کمشنر کی موت قدرتی  نہیںتھی بلکہ اسے قتل کر دیا گیا ۔کیوں کہ وہ کسی سمجھوتے پر راضی نہ تھے۔  ایک غدار کو کیسے رہا کیا جا سکتا ہے۔ آفریدی نے ملک کے تقریباً ا یک لاکھ پولیو زدہ افراد کی ہلاکت کے اسباب پیدا کئے۔ اس نے اور اس کی ایجنٹوں کی ٹیم نے پولیو ورکرزبن کر قوم کو دھوکہ دیا۔ ایک مقدس پیشے کی آڑ لے کر اسے بدنام کیا۔ ڈاکٹری کوجاسوسی اور غداری میں بدل دیا۔ لوگوں کے خدشات ہیں۔ ڈاکٹر آفریدی اس کے ذمہ دار ہیں۔ جو لوگ پولیو کے نام پر تشدد کا نشانہ بنے۔ ان کا قتل ہوا۔ یہ مقدمہ ڈاکٹر آفریدی پر چلنا چاہیئے۔  امریکہ اس کی باعزت رہائی چاہتا ہے۔ اسے یہاں سے لے جانا چاہتا ہے۔ یہ اس ملک کے قانون کے ساتھ ایک اور مذاق ہے۔ اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔

تازہ ترین خبریں