08:19 am
منہ کالا کروانے کا شوق؟

منہ کالا کروانے کا شوق؟

08:19 am

ممتاز محقق کالم نگار ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں کہ ’’قائداعظم‘‘ نے اپنی تقاریر میں چند بار فلاحی اور کئی بار جمہوری پاکستان کا تصور پیش کیا‘ لیکن انہوں نے قیام پاکستان سے قبل سو بار سے زیادہ اور قیام پاکستان کے بعد بحیثیت گورنر جنرل کوئی چودہ بار یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری بنائیں گے۔
 
وہ کہتے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ قائداعظم کی تقریروں سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ ہٹا کر فقط فلاحی‘ جمہوری ریاست کو ان کی منسوب کرنے والے ’’بیچارے‘‘ اسلام سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں؟ لبرل  اور سیکولر شدت پسندوں کا یہی المیہ ہے کہ وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تقریروں سے ’’اسلام‘‘ ہٹا کر اور لاکھوں شہداء پاکستان کے پرجوش نعروں سے لاالہ الا اللہ نکال کر  پاکستان کو ایک لادین ریاست بنانا چاہتے ہیں۔
پاکستان کو لادین ریاست بنانے کا گھنائونا ایجنڈا پاکستانی سیکولرز کو امریکی‘ یہودی‘ طاغوتی طاقتوں نے سونپا ہوا ہے‘ پاکستان کے حکمران ہوں‘ سیکولر سیاسی جماعتیں ہوں‘ یا سنسر شپ کا رونا رونے والا مخصوص میڈیا یہ سب اسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں کہ جس طرح سے بھی ممکن ہو پاکستان کو سیکولر ریاست ڈکلیئر کر دیا جائے‘ پاکستان کے عوام میں اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں  پایا جاتا‘ پاکستان کے مسلمان عوام کو اسلام سے پیار بھی ہے اور وہ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ بھی دیکھنا چاہتی ہے۔
جب ایلیٹ کلاس طبقہ بکے ہوئے دانش ور‘ مخصوص میڈیا‘ سیاست دان اور حکمران زور‘ زبردستی اور سازشوں کے ذریعے نصاب تعلیم سے لے کر آئین پاکستان تک‘ اسلام کی جگہ سیکولر لادینیت کو مسلط کرنے کی کوشش کریں گے تو ملک میں بے چینی بڑھتے بڑھتے انارکی اور فساد میں تبدیل ہو جانے کے اندیشے موجود رہیں گے‘ پاکستان کو اس کی اسلامی اور فلاحی منزل سے دور کرنے میں سب سے اہم کردار اس کے سیکولر حکمرانوں‘ سیکولر سیاست دانوں اور  سیکولر میڈیا کا ہے۔
اسلام اور اسلامی احکامات کے خلاف اٹھنے والا فتنہ قادیانی ہو یا غامدی‘ ان سب فتنوں کو میڈیا ہاتھوں ہاتھ لیتاہے‘ انہیں خوب پذیرائی بخشتا ہے‘ سیکولر انتہا پسندوں کی ان فتنوں کے ساتھ ہمدردیاں چھپائے نہیں چھپتیں‘ جو مذہب اسلام کے احکامات کا باغی‘ دینی مدارس اور علماء کرام کا جتنا بڑا مخالف ہوگا‘ وہ اسی قدر زیادہ قادیانیوں اور غامدی اینڈ کمپنی کا حامی ہوگا۔
یہ اقلیتوں کے حقوق کے نام پر شور شراپا کرنے والے لنڈے کے لبرلز کو ’’اقلیتوں‘‘ سے نہ کوئی ہمدردی ہے اور نہ واسطہ‘ ان بے چاروں کو اقلیتوں کے حقوق کے نعرے کی آڑ میں  پلنے والوں کو ڈالروں سے پیار ہے‘ بڑی معذرت کے ساتھ  اب یہ ڈالر صرف ’’سیکولرز‘‘ ہی کی وراثت نہیں رہے بلکہ مذہب کی طرف منسوب بعض مکروہ چہرے  بھی ان ڈالروں سے مستفید ہونا شروع ہوچکے ہیں‘ میں یہ جملہ اس سے قبل بھی لکھ چکا ہوں کہ ’’ڈالر‘‘ نہ یہودی ہوتے ہیں‘ نہ عیسائی اور نہ مسلمان...ہاں البتہ ’’ڈالر‘‘ پاکستان کے مسلمانوں سے روح محمدﷺ کھینچے میں بڑی بے دردی سے استعمال ہو رہے ہیں۔
سینئر کالم نگار برادرم آصف محمود نے اس حوالے سے سوال اٹھا کر گیند مذہب پسندوں کی کورٹ میں پھینک دی ہے وہ لکھتے ہیں کہ ’’مدرسہ ڈسکورسز کے نام پر جاری فکری مشق ستم کا حاصل ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارے  تہذیبی اداروں کی فکری تشکیل نو‘ کیا اب نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی سرپرستی میں ہوگی؟ وہ یونیورسٹی جس کا تعارف محض مسیحی یونیورسٹی ہونا نہیں بلکہ کیتھولک کی فرقہ وارانہ شناخت بھی جس کے ہمراہ ہے۔‘‘
غامدی سکول آف تھاٹ کے ترجمان عمار خان ناصر کے ’’کھیسے‘‘ سے اگر اس کے سربلند دادا اور عزت مآب باپ کا نام نکال دیا جائے تو پیچھے رہ ہی کیا جاتا ہے؟ جب جاویدغامدی کی پاکستان کے مسلمانوں میں حیثیت دو ٹکے کی نہیں تو اس کے فکر کے ترجمان کی حیثیت اور پہنچان کیا ہوگی؟
’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ ٹائپ ڈھکوسلوں کی ضرورت اسے ہوتی ہے جس کی نہ کوئی بنیاد ہو اور نہ  ماضی‘ مسلمانوں کی بنیاد تو  قرآن و سنت کی محکم اور روشن تعلیمات پر قائم  ہے‘ مسلمانوں کا ماضی  تو خلفاء راشدینؓ کے سنہرے دور سے جڑا ہوا ہے‘ نومڑمے ڈم یونیورسٹی کی بنیاد 1842ء میں ایڈورڈسورن نے رکھی تھی‘ ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ عمار خان ناصر اس کیتھولک یونیورسٹی کے ساتھ مل کر پاکستان یا دنیا میں کون سے ’’اسلام‘‘ کوسربلند کرنا چاہتے ہیں۔
میں مدرسہ ڈسکورسز ڈھکوسلوں کی باریکیوں میں پڑے بغیر وفاق المدارس‘ تنظیمات مدارس اور علماء حق کی دیگر جماعتوں کے اکابرین کی خدمت میں چند سوالات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں‘ امید ہے کہ وہ ان سوالوں کے جواب ضرور عنایت فرمائیں گے؟
کیا امریکی پروجیکٹ کے تحت عیسائی یونیورسٹیوں کے الحاق کے ساتھ مدارس کے فارغ التحصیل فضلاء کو استعمال کرکے اسلام کے کسی شعبے کی خدمت کی جاسکتی ہے؟
جس شدت کے ساتھ علماء اور مذہبی حلقے سیکولر لادینیت کی نفی کرتے ہیں‘ اسی شدت کے  ساتھ علماء کرام یا دینی مدارس کی صفوں میں گھس کر  نقب لگانے والے گمراہ صاحبزادوں کی ’’نفی‘‘ کیوں نہیں کی جاتی؟
پاکستان میں کون سے اسلام کی ضرورت ہے؟ جس کی جڑیں مکہ اور مدینہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں یا پھر امریکہ اور امریکی فکر کے ساتھ؟امریکی پروجیکٹ‘ امریکی پروگرام یا امریکی این جی او میں لبرل گھس کر جب امریکی فکر کو پروان چڑھائیں  تو حرام...لیکن اگر مدرسے کا کوئی مولوی یا کسی بڑے مولوی یا کسی بڑے مولوی کا صاحبزادہ امریکی پروگرام اور امریکی غامدی فکرکو پروان چڑھائے تو وہ حلال کیسے ہوگیا؟
اسلام کو اس کے شاندار ماضی سے کاٹ کر لنڈورہ اور اپاہنج بنانے کی کوششیں کرنے والے ’’بونوں‘‘ کو کوئی بتائے‘ نہ تم سے پہلے ایسی کوششیں کرنے والے کامیاب ہوئے اور نہ تم کبھی ان کوششوں میں کامیابی حاصل کر سکوں گے‘ ہاں البتہ اگر انہیں منہ کالا کروانے کا شوق ہے تو اپنا یہ شوق ضرور پورا کرلو!

تازہ ترین خبریں