08:21 am
ٹرمپ کی ثالثی، بھارت کا واویلا!

ٹرمپ کی ثالثی، بھارت کا واویلا!

08:21 am

٭گڑ بڑ ہو رہی ہے کہ پہلے کس خبر کی تفصیل دی جائے؟ کشمیر میں ٹرمپ کی ثالثی کی دھماکہ خیز پیش کش یا بھارت میں ہونے والے ماتم نما واویلا اور چیخ و پکار کی؟ ٹرمپ کی ثالثی اور مبارکبادوں کی تفصیل تو اخبارات میں موجود ہے مگر بھارت کے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں برپا کہرام کی باتیں کم سامنے آئی ہیں۔کیسی کیسی گالیاں ٹرمپ کو دی جا رہی ہیں۔ ’’بدعہد…بے ایمان…دھوکے باز… Stupid… نابالغ، احسان فراموش!‘‘ گالیوں کے ساتھ آتش فشانی تبصرے۔ ’’ٹرمپ نے جھوٹ بولا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے اس سے ثالثی کی بات کی تھی…ٹرمپ نے بھارت سے پہلے بھی دغا بازی کی، افغانستان کے مذاکرات سے بھارت کو خارج کر کے اسے مذاکرات کی بس کے نیچے پھینک دیا ہے…انتہائی ناقابل اعتبار انسان، خود امریکی وزارت خارجہ بدحواس ہو گئی ہے…ثالثی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چین کے صدر کی پیش کش بھی نامنظور کر دی تھی…پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ کیسا گھل مل گیا، ٹائمز آف انڈیا…مودی کو خود تردید کرنی چاہئے۔ بھارتی کانگریس کا مطالبہ… بھارت کو نظرانداز کر کے پاکستان کو سر پر سوار کر لیا ہے۔‘‘
 
٭بھارتی واویلے کی یہ چندمختصر باتیں ہیں۔ وہاں کے اخبارات اور سیاسی و سماجی حلقے سب کچھ پس پشت ڈال کر ٹرمپ کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ بات نئی یا اچانک نہیں ہوئی۔ بھارتی سیاست دانوں اور مبصرین کو اسی روز امریکہ کے بھارت کے بارے میں رُخ بدلنے کا اندازہ ہو گیا تھا جب امریکہ نے افغان امن مذاکرات میں بھارت کو باہر دھکیل کر پاکستان کو سرکردہ اہمیت دے دی تھی۔اس کے بعد پاکستان سے بلوچستان کی علیحدگی کی سرگرم تنظیم ’بی ایل اے‘ کی ایک عرصہ تک حوصلہ افزائی کے بعد اچانک اسے دہشت گرد قرار دے کر پاکستان کو ممنون بنا لیا تھا! امریکہ نے افغانستان میں بھارتی اربوں کھربوں کی معاونت کو نظر انداز کر دیا اور دوحہ کے ساتھ پاکستان میں بھی امن مذاکرات شروع کرا دیئے! ٹرمپ جان بوجھ کر بھول گیا کہ نے پاکستان کی فوجی امداد بند کرتے وقت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے کیسے سخت الزامات لگائے تھے اور اس کی امداد بند کر دی تھی! وہ یہ بھی بھول گیا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے اس عہدے کا حلف اٹھا کر امریکہ کو کیسی بے نقط سنائی تھیں؟‘‘ بھارتی میڈیا نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ امریکہ بھارت کے خلاف اس لئے بھی سیخ پا ہے کہ اس نے امریکہ سے دفاعی معاہدہ کر کے اربوں ڈالر کا اسلحہ روس سے خرید لیا ہے۔
٭بھارتی میڈیا ’ٹائمز آف انڈیا‘ ہندوستان ٹائمز، انڈین ایکسپریس، ہندو وغیرہ نے متعدد سابق بھارتی و امریکی سفارت کاروں اور سیاست دانوں کے تبصرے بھی دیئے ہیں۔ بھارت میں امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ وارما کا تبصرہ کہ ٹرمپ کے اس بیان سے امریکہ اور بھارت کے دوستانہ تعلقات کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق خود امریکہ کی وزارت خارجہ بھی بہت پریشان ہے اس کی ایک ترجمان الیسا آئرز نے قرار دیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے غالباً مذاکرات کے لئے پوری تیاری نہیں کی تھی۔ بھارتی میڈیا امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے بیان کو بھی اہمیت دے رہا ہے کہ ٹرمپ نے ثالثی کا بیان دے کر خود کو سخت مشکل میں پھنسا لیا ہے اور یہ کہ خود امریکہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لئے ٹرمپ کے بیان کی وضاحت مشکل ہو رہی ہے۔ ایک اخبار نے لکھا ہے کہ امریکہ پوری طرح پاکستان کے پیچھے کھڑا ہو گیا ہے۔ اس نے پاکستان میں پاکستان کی ضبط شدہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد بحال کرنے کا بھی یقین دلا دیا ہے، ان باتوں کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آگ کا طوفان FireStorm قرار دے رہا ہے۔
٭یہ تو ہوئیں بھارت کی باتیں، اب ذرا اپنی باتیں! عمران خان کی کارکردگی پر عجیب وغریب تبصرے ہو رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے جاپان کے وزیراعظم کے ساتھ 19 سیکنڈ کا مصافحہ کیا تھا، عمران خان کے ساتھ صرف دو تین سیکنڈ کے مصافحہ کے بعد ہاتھ چھوڑ دیا! جب کہ مسلمہ سفارتی آداب کے مطابق مصافحہ طویل نہیں ہونا چاہئے۔ ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ عمران خان نے ٹرمپ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ کیوں رکھ لی؟ ایک حلقے کو ٹرمپ کی یہ حرکت بھی قابل اعتراض دکھائی دی کہ عمران خان کے استقبال کے بعد ون ٹو ون ملاقات والے کمرہ میں ٹرمپ پہلے خود داخل ہوا پھر عمران خان کو داخل کیا جب کہ سفارتی آداب کے مطابق پہلے عمران خان کو داخل کرنا چاہئے تھا۔ وغیرہ وغیرہ!!
٭میں بھارت کی تلملاہٹ میں زیادہ الجھ گیا حالانکہ پہلے ٹرمپ کی طرف سے پاکستان، خاص طور پر عمران خان پر واری صدقے کے منظر کو بیان کرنا چاہئے تھا۔ خاص طور پر ان باتوں کو کہ ’’عمران خان پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے! پاکستان کی امداد بحال ہو سکتی ہے، پاکستان کے ساتھ تجارت 20 گنا بڑھ سکتی ہے، دعوت ملنے پر پاکستان کا دورہ کر سکتا ہوں۔ مودی نے کشمیر کے بارے میں ثالثی کا کہا تھا، میں تیار ہوں، وغیرہ وغیرہ!‘‘ قارئین کرام! ایک عرصے سے ٹرمپ کی ’منہ پھٹ‘ قسم کی باتیں سنتے رہنے کے بعد خبر آئی کہ ٹرمپ عمران خان کا استقبال کریں گے۔ اس پر مجھے علامہ اقبال کی مشہور نظم ’ایک مکڑا اور مکھی‘ یاد آ گئی ایک مکھی مکڑے (مکڑی کانر) کے جالے کے پاس سے گزرتی ہے مکڑا آواز دیتا ہے کہ محترمہ! کبھی ہمارے ہاں بھی تشریف لائیں آپ کا شاندار استقبال کریںگے، خوبصورت محل، باغات کی سیر آرام دہ بچھو نے، آئینے اور عمدہ کھانا ملے گا۔ مکھی ہنس پڑتی ہے کہ تمہاری مکاری اور فریب کو خوب سمجھتی ہوں، میرے آنے کی امید نہ رکھنا! اس پر مکڑا بات کا رُخ بدلتا ہے کہ’’ ان باتوں کو چھوڑ دیں، میں تو آپ کے حسن کی تعریف کرنا چاہتا تھا! کیسی خوبصورت پوشاک پہن رکھی ہے چمکیلے پَر، ہیرے کی طرح چمکتی آنکھیں، سر پر خوبصورت کلغی اور پھر اک قیامت، آپ کا اڑتے ہوئے ترنم خیز گانا! آپ کے بے پناہ حسن کو دیکھ کر دیوانہ ہو رہا ہوں، کاش آپ کی کچھ دیر رفاقت نصیب ہو جاتی!‘‘ حسن کی تعریف تو پتھروں کو موم کر دیتی ہے۔ مکھی بھی مَست ہو کر مکڑے کے پاس چلی گئی۔ پھر جو ہونا تھا ہوا! میں اس نظم کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک چونکا دینے والی خبریں آنے لگیں، ’شاندار استقبال اور ٹرمپ کی خوش گوار باتیں! ’’پاکستان عظیم، اس کے لوگ بھی عظیم ہیں، کیا شاندار قوم ہے! دہشت گردی کا کیسے خاتمہ کیا ہے! آپ پاکستان کے عظیم اور مقبول ترین لیڈر ہیں، پاکستان نے افغانستان میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے، دعوت ملی تو ضرور پاکستان کا دورہ کروں گا۔‘‘ میں ٹرمپ کی اتنی خوش کن باتیں سن کر مکڑے اور مکھی کی کہانی بھول گیا تھا مگر پتہ نہیں نارمل ہونے پر کیوں بار بار یاد آ رہی ہے! البتہ عمران خان کی حکومت مزید مضبوط ہو گئی۔ چین، عرب ممالک، ترکی، ملائیشیا، افغانستان، روس اور اب امریکہ، سب کے ساتھ اچھے تعلقات! وَیل ڈن عمران خان! صرف یہ کہ خان صاحب آئندہ زبانی کی بجائے لکھی ہوئی تقریر پڑھا کریں! اشارہ کافی ہے!
٭محترم کرم فرما قارئین کی معاونت سے گھروں میں کام کرنے اور ایک کمرے میں رہنے والی کچھ بیوہ خواتین اور دوسرے بے حد غریب گھرانوں میں رمضان المبارک کا پورا مہینے کا راشن اور پھر عید الفطر پر بچوںکے لئے کپڑوں اور جوتوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ اب بڑی عید کے موقع پر بھی ایسے کچھ گھرانوںکے بچوںکے لئے کپڑوں و جوتوں کی اپیل آئی ہے۔ مجھ سے رابطہ کر کے  ان کی معاونت کی جا سکتی ہے۔