07:36 am
عمران خان، ہمیں آپ پر فخر ہے!

عمران خان، ہمیں آپ پر فخر ہے!

07:36 am

یوں تو وزیر اعظم عمران کے سبھی غیر ملکی دورے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن امریکا کا حالیہ تین روزہ دورے کا نہ صرف انتظار تھا بلکہ اس کی اہمیت بھی بہت زیادہ تھی۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی اشد ضرورت تھی، کئی اہم مسائل حل طلب تھے  اور دوسری بات یہ کہ ہمیں اس وقت سرمایہ کاری کی بھی شدید ضرورت ہے۔ عمران خان نے ملکی وسائل کی بچت کے لیے دورۂ امریکہ کے لیے اپنا وفد مختصر رکھا اور خصوصی طیارے کے بجائے قطر ایئرویز کی کمرشل فلائٹ پر سفر کیا۔ اس دورے پر 50ہزار ڈالر کے اخراجات آئے جب کہ وزیر اعظم نواز شریف کے گزشتہ دورۂ امریکا پر آنے والے اخراجات 4لاکھ 70ہزار ڈالر بتائے جاتے ہیں۔ عمران خان نے اخراجات میں مزید کمی کے لیے کسی ہوٹل کے بجائے پاکستانی سفیر کے رہائش گاہ میں قیام کیا۔ 
 
ہر اعتبار سے یہ ایک انتہائی کام یاب دورہ رہا۔ واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے  پاکستانی امریکی کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کو مدعو کیا گیا۔ اس ملاقات کے شرکا کو پاکستان میں پائے جانے والے معاشی اور کاروباری مواقع اور خطے میں پاکستان کے اہم محل وقوع کے فوائد حاصل کرنے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ سبھی شرکا  نے پاکستان میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورت حال کو سراہا اور کئی سرمایہ کاروں نے توانائی اور سیاحت جیسے شعبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ یہ ملاقات  انتہائی مثبت رہی۔ وزیر اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ لپٹن سے بھی ملاقات کی اور حالیہ معاشی پیش رفت اور آئی ایم ایف کی معاونت سے جاری ہونے والے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام سمیت مختلف اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے پاکستانی سفارت خانے میں عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپاس سے بھی ایک مختصر ملاقات کی۔ 
21جولائی کو واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل وون ایرینا میں پاکستانی امریکی کمیونٹی کے بہت بڑے اجتماع سے وزیر اعظم کا خطاب غیر معمولی طور پر کامیاب رہا، جس میں 25سے 30ہزار افراد اپنے لیڈر کو سننے کے لیے جمع ہوئے۔ بعض حلقوں کے مطابق ’’یہ تاریخ میں پاکستانی امریکیوں کا سب سے بڑا اجتماع‘‘ تھا۔ یہاں وزیر اعظم نے بتایا کہ کس طرح ’’نیا پاکستان‘‘ بننے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت’’بادشاہت‘‘ میں تبدیل ہوئی، اورجاگیردارانہ نظام نے کس طرح میرٹ کا قتلِ عام کیا۔ انہوں نے پُرجوش سامعین کو بتایا کہ جمہوریت اسی صورت میں آگے بڑھ سکتی ہے جب رہنماؤں اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔ آج سے پہلے پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کے حقیقی احتساب نہیں ہوسکا۔ 
 امریکہ اور پاکستان کے مابین اعتماد کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کی افواج کے مابین (ملٹری ٹو ملٹری) تعلقات  ازسر نو استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بد اعتمادی اس لیے دہرا المیہ ہے کہ پاک فوج نے فاٹا اور سوات جیسے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے مسلح گروہوں کی بیخ کُنی کے لیے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 1950کی دہائی میں سر گیرالڈ ٹیمپلر کی کامیاب ملائین مہم کے بعد کسی بھی فوج کی شرپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف یہ کامیاب ترین کارروائی ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیص حمید بھی وزیراعظم کے وفد میں شامل تھے۔ امریکی صدر سے ملاقات کے موقعے پر  سربراہ مملکت کے ساتھ ملک کے آرمی چیف کی موجودگی بہت کم ہی دیکھنے میں آتی ہے، اس اعتبار سے یہ اقدام بہترین تھا کہ اس سے واشنگٹن(اور پوری دنیا) کو پیغام دیا گیا کہ ماضی کے برخلاف ملک کی سویلین اور عسکری  قیادت ایک صفحے پر ہیں۔ مزید یہ کہ 1947میں قیام پاکستان کے بعد سے دونوں افواج کے باہمی تعلقات ان دونوں ممالک کے تعلق کا بنیادی ستون رہے ہیں۔ ان دو طرفہ تعلقات میں عسکری سطح کے روابط کو بنیادی اہمیت حاصل رہی کیوں کہ امریکی عسکری قیادت اس پُر خطر خطے میں پاکستان کی مضبوط فوج کو استحکام کا ضامن تصور کرتی ہے۔ 22جولائی کو  وزیر اعظم عمران خان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں جنرل قمر باجوہ بھی شریک ہوئے۔ اس کے بعد جنرل قمر باجوہ نے پینٹا گون کے دورے میں قائم مقام سیکریٹری دفاع رچرڈ اسپینسر، چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی  اور دیگر سینیئر حکام سے ملاقات کی۔ افغانستان کی صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس دورے میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ آئندہ کچھ عرصے میں افغانستان  سے  امریکی فوج کے انخلا کے امکانات پر براہ راست گفتگو کا بہترین موقعہ ملا۔ 
(جاری ہے)