07:37 am
کیسے بھول جاؤں عا فیہ کو؟

کیسے بھول جاؤں عا فیہ کو؟

07:37 am

آئینہ دکھائیں تواپنامکروہ چہرہ دیکھ کر پتھر مارنے لگتاہے۔نقاب پوش سماج کوئی مذہبی نقاب  پوش،کوئی ماڈریٹ،کوئی لبرل اورپروگریسونقا ب پہنے ہوئے ہے۔اصل کاتودور دور تک پتہ ہی نہیں چلتا۔ ڈھونڈاکرے کوئی،جعلی،سب کچھ جعلی رشتے بھی، اخلاص بھی،مروت اورایثاربھی۔اورتورہنے دیں عشق اورمحبت بھی اندرچورباہرچوکیدار۔طلب ہی طلب، دیناکچھ نہیں،لیناہی لینا۔اپناچہرہ نہیں سنواریں گے، آئینہ دکھاتوپتھرماریں گے۔سب کچھ بکاہے۔اپنے اپنے دام میں،لے لو جو کچھ لیناہے،بالکل ٹھیک کہہ رہاہوں، پورے یقین کے ساتھ ۔بکا،ہرجذبہ قابل فروخت۔کوئی قرات کے ساتھ گفتگوکرکے خود کو اچھا بتاتاہے اورکوئی؟رہنے دیجئے، بہت  سوں کی پیشانی پربل پڑتے ہیں اورپھرکئی جیبوں سے فتوی اورکئی گردن زنی کے احکام نکل آتے ہیں۔
 
 ہرجاایک کلب ہے۔سب کے سب ایک سا کرتے ہیں،بس لہجہ بدل جاتاہے،لباس بدل جاتا ہے، خدوخال اورحلیہ بدل جاتاہے،اورپھرسب کے سب اپناکھیل کھیلتے ہیں۔ کوئی دیوانہ للکاربیٹھے توبہتان باندھ دیتے ہیں،سب کے سب بلیک میلر۔معصومیت سے کھلواڑکرنے وا لے،کوئی پاگل سامنے آکھڑا ہوتواپنے محل کوزمیں بوس ہوتاہوادیکھ کرسامنانہیں کرتے‘بھاگتے دوڑتے الزامات کی بارش کرتے ہیں اورپھر قرات کرتی گفتگوکرکے پکارتے ہیں:اللہ معاف کرے!
ہاں رب ہے وہ،سمیع بھی بصیربھی،عادل بھی منصف بھی۔اخلاص درکارہے اس کی بارگاہ میں،اصل کاطالب ہے وہ۔جعل سازی نہیں چل سکتی وہاں،خودکو دھوکادیناتودوسری بات ہے۔ایک دن تواس نے متعین کردیاہے ناں توپھرڈرناکیسا!ہوجائے گادودھ کادودھ اورپا نی کاپانی۔یہی توکہتارہتاہوں،یہی تو کرتا رہتا ہوں  اور پتھرکھاتارہتاہوں،یہی تواعزاز ہے۔منافقت کی آنکھ کاپتھراوردل میں کانٹے کی طرح چھبنے والا۔ خوشی ہو تی ہے مجھے یہی ہے کام کرنے کا۔
مظلوموں کے حقوق کیلئے برسرپیکاررہناہی تو زندگی ہے اورہے کیا؟درندوں سے معصومیت کو بچانا، اس سے بڑااورکیاکام کیاہے!رہنے دیجئے بہت مشکل کام ہے،اپنے لئے ایک پل بھی نہیں بچتا۔سب کچھ کھپ جاتاہے اس میں،کارعشق ہے،دیوانوں کاکام۔ہرکس وناکس کے نصیب میں نہیں ہے۔ہاں اپنااپنانصیب ہے،اب کیا کریں۔
کیانہیں بیچاہم نے؟اب اپنامکروہ چہرہ مت چھپائیے۔سامنے آئیے،بات کیجئے،کیانہیں بیچاآپ نے؟ا پنی تہذیب بیچی،دین بیچ ڈالاہم نے،زمینی اثاثوں پرہزاربارلعنت بھیجئے ناں آپ،خودکوبیچ دیا، غیرت بیچ دی،نجانے تھی بھی یانہیں،سب کی سب جعل سازی ۔ٹھیک ہے اپنے تیرنکال لیجئے،پتھرہاتھ میں لے لیجئے اور سنئے ذرا۔ا پنے کان بندکر لینے سے میری چیخیں رکیں گی نہیں۔بہت دم ہے میرے پھیپھڑوں میں،اپنی ماں بیچ ڈالی،بہن بیچ ڈالی اوربالآخر معصوم، قرآن کی حافظہ بیٹی بیچ ڈالی معصوم بچوں سمیت۔2003 ء میں ڈاکٹرعافیہ کواس کے معصوم بچوں سمیت غائب کردیا گیا تھا۔غائب نہیں بیچ دیاتھاہم نے۔یہاں بات کروتوکہہ دیں گے کہ جنگل کاقانون ہے،کبھی دیکھابھی ہے آپ نے جنگل؟ہاں میں نے دیکھاہے،بہت قریب سے نہیں،رہاہوں وہاں میں،اس لئے کہہ رہا ہوں۔ کسی کتاب میں پڑھ کرنہیں کہہ رہابلکہ اپناتجربہ بتارہاہوں۔آپ وہاں کسی سانپ کونہ چھیڑیں،وہ آپ کے پاس سے گزرجائیگا،بالکل خاموشی سے،ایک ہم ہیں کہ ہرکسی کوڈستے رہتے ہیں۔ جانوروں کے بھی اصول ہیں،رب کائنات کے اصول۔ آپ کیوں بدنام کرتے ہیں جنگل کو!یہاں کوئی اصول نہیں ہے،جعل سازی ہی جعل سازی ہے۔برسوں بعد ہمیں ایک مرتبہ پھرڈاکٹرعافیہ اس لئے یادآگئی کہ شائد قدرت کوریاست مدینہ کانعرہ لگانے والوں سے یہ کام لینامقصودہولیکن یہاں توفوزیہ اسلام آبادمیں ملاقات کیلئے دھکے کھاتی رہی اوربالآخروزیرخارجہ سے ملاقات کے چندمنٹ خیرات میں ملے اوروہ بھی انتہائی عجلت کے اظہارمیں مایوسی کے سواکچھ بھی نہیں‘قصر فرعون نے اس پرسات بے بنیاد الزامات لگاکر86 سال کی قیدکی سزاسنادی ہے۔کیااب تک ہم سب سوئے ہوئے تھے؟ اب ایک مرتبہ پھراپنی جان چھڑانے کیلئے میڈیاپرجھوٹ بول رہے ہیں۔اب سب کے پیٹ میں مروڑاٹھ گیا۔یہ جعل سازی نہیں تواورکیاہے؟
عافیہ صدیقی کی امریکی ترجمان نے عالمی میڈیا کے روبرویہ الزام لگایاتھاکہ حکومت پاکستان کی سستی، نااہلی اورسازش کے تحت عافیہ اس حال کوپہنچی۔ کیا ان عقل کے اندھوں کو الزامات لگاتے ہوئے ذرہ بھرشرم نہیں آئی کہ ایک کمزورلڑکی کیلئے کیسے ممکن ہے کہ دہشت گردی کیلئے وہ اپنے تین معصوم بچوں کو لیکرافغانستان قندھارچلی جائے جب کہ اس کاسب سے چھوٹابچہ صرف چندماہ کااس کی گودمیں ہو؟
یہ کیسابے ہودہ الزام ہے کہ عافیہ نے امریکی سپاہی سے بندوق چھین کراس پرگولی چلادی لیکن اس سے شدیدزخمی خودہوگئی؟موقع سے کسی گولی کاکوئی خول یادوسرا کوئی ثبوت بھی نہ مل سکا؟کسی ڈی این اے کی رپورٹ میں ایساکوئی شواہدفراہم نہ ہوسکا؟برطانوی نومسلمہ صحافی ایوان رڈلے نے اپنے ایک کالم میں عافیہ کی چیخوں کی دہائی دی،مسلمانوں کی سوئی ہوئی غیرت کوللکارہ تواس کوامریکہ میں منتقل کردیاگیا۔ فروری 2010ء میں مقدمے کی سماعت شروع کی گئی اور بالآخر سات مہنیوں میں اس کومجرم قراردے کرآئندہ 86سال کیلئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے منتقل کرنے کافرعونی حکم سنادیاگیا۔حسین حقانی نے قدم قدم پرجھوٹ بول کرساری پاکستانی قوم کوکھلے عام دھوکہ دیا،کیاعمران خان نے بارہاپاکستانی قوم سے عافیہ صدیقی کوواپس لانے کا وعدہ  نہیں کیاتھا؟اب کون آپ کی باتوں پریقین کرے گا؟آپ نے اپنی قوم کے یقین کوجھٹلایااورآج عالمی طورپرآپ پرکوئی یقین کرنے کوتیار نہیں؟آپ بھی نمک کی کان(ایوان اقتدار)میں جاکرنمک ہی بن گئے۔ 
اپنے محلات میں گل چھرے اڑانے والے ہم سب۔بس کوئی قرات کے ساتھ بات کرتا ہے اورکوئی ۔الحمد للہ،ما شااللہ،جزاک اللہ کاوردکر نے سے کچھ نہیں ہوتا جناب،جان ہتھیلی پررکھناپڑتی ہے،اورہمیں اپنی جان کے ساتھ اقتداربہت عزیزہے۔یہ ہے وہ زندگی جس کیلئے ہم بہت ہلکان ہوئے پھرتے ہیں۔ ہزاربار لعنت ہواس زندگی پرچلئے سینے سے لگاکررکھئے اس زندگی اوراقتدار کو، خودکوپالئے پوسئے،سانسوں کی آمدورفت کوہم زندگی کہتے ہیں،ضرورکہئے،اپنے جعلی پن کوسنبھال رکھئے ،وہ ہے کارسازوہ ہے مددگار،بس وہی ہے۔ہم ہوگئے برباد، ہم امتحان میں ناکام ہوگئے،عا فیہ کوفراموش کردیجیے، بھول جائیے کشمیرکی مجبورومقہوربیٹیوں اور نوجوان شہدا کو جن کوبھارتی درندے دن رات بھنبھوڑ رہے  ہیں۔ رب ہے مددگار،بس وہی ہے،عا فیہ کورہنے دیجیے،وہ تو ا پنے رب کی عافیت میں چلی گئی،ہم مارے گئے۔اپنی فکرکیجیے۔آخرایک دن وہاں حاضر ہوناہے جہاں زبان پرمہرلگادی جائے گی اورآپ ہی کے اعضاآپ کے خلاف گواہی دیں گے۔

تازہ ترین خبریں