07:39 am
امریکی ثالثی

امریکی ثالثی

07:39 am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر بھارت سخت ردعمل اور پاکستان  زبردست  خیر مقدم کر رہا ہے۔22جولائی کو وائٹ ہائوس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان  کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کے کئی ریمارکس خیر معمولی تھے۔ یہ سب روایت سے ہٹ کر ظاہر کئے گئے۔ ان میں کشمیر پر ریمارکس کا بطور خاص ذکر ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ’’دو ہفتے قبل میری وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ آپ  مصالحت کار یا ثالث بننا چاہیں گے تو میں نے کہا کہ کہاں، جس پر انہوں نے کہا کہ کشمیر، کیونکہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے ہے۔ میں یہ جان کر حیران ہوا کہ یہ مسئلہ طویل عرصہ سے موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ اس کو حل کریں گے اور مجھے ثالث بن کر خوشی ہو گی،اگر میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہوں تو میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا‘‘۔ صدر ٹرمپ کا اشارہ جی 20سربراہ اجلاس میں نریندر مودی سے ملاقات کی جانب تھا۔ یہ ملاقات جاپان کے شہر اوساکا میں 27جون کو ہوئی۔
 
انسداد دہشت گردی پر گفتگو کرتے ہوئے نریندر مودی نے ٹرمپ کو کشمیر سے متعلق بتایا ہو گا۔ پاکستان پر الزامات عائد کئے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ امریکی کردار پر بات ہوئی ہو۔ مودی نے کہا ہو گا کہ امریکہ بھارت کی مدد کرے۔ بھارت کیسی مدد چاہتا ہے۔ وہ کشمیریوں کی جدوجہد کچلنے کے لئے اسرائیل طرز کے آپریشنز پر امریکی رضا مندی چاہتا ہے۔ بھارت آزاد کشمیر پر بھی قبضہ جمانے کے لئے  تعاون کی بات کرتا ہے۔ اگر مودی نے مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی طلب کی ہے تو یہ نئی دہلی کے موقف میں بڑی تبدیلی ہو گی۔ اوساکا میں مودی کی ایک ملاقات جاپانی وزیراعظم شینزو ایبے کی موجودگی میں بھی ہوئی۔ جس کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور مودی عظیم دوست بن چکے ہیں، دونوں ممالک اس سے پہلے اس قدر قریب نہ آئے تھے۔ بھارت میں ٹرمپ کے بیان پر ردعمل کے بعد  افغان صدر اشرف غنی نے ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ 
پاکستان اور بھارت سمیت کشمیر سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں ٹرمپ کی ثالثی والے بیان اور مودی  کے انکار پر کافی بحث ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کے بیان نے بعد میں بھارت میں سیاسی ہلچل مچا دی۔ ٹرمپ نے جب یہ کہا کہ مودی نے ثالثی کرانے کی بات کی ہے تو عمران خان نے کہا کہ ٹرمپ مسئلہ کشمیر حل کرائیں اور ایک ارب عوام کی دعائیں سمیٹ لیں۔ ٹرمپ نے عمران خان کی بہت تعریف کی۔ یہاں تک کہ آئندہ انتخابات میں ان کی انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا۔ اگر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے بعد اس انتخابی مہم کو چلانے پر توجہ دی تو عمران خان کلین سویپ کر سکتے ہیں  ورنہ ٹرمپ کی مہم عمران خان کو ڈبونے کا اعلان ثابت ہو گی۔ بہر حال یہ سب کہنے کی بات ہے کرنے کی نہیں۔ ایک روایتی بیان بازی مگر سچ یہ ہے کہ ٹرمپ نے مودی کے کشمیر کی جنگ بندی لائن کو مستقل سرحد میں تبدیل کرنے کے مشن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہی ثالثی کرنا ہے۔ جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ سب ایک ٹریپ ہو گا۔ پاکستان بھی سپر پاور اورعالمی دبائو کے بہانے ملبہ اپنے سر سے اتار دے گامگر پاکستان ایسا نہیں کر سکتا۔ کشمیر کے  بغیر پاکستان کچھ بھی نہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا۔ کیا پاکستان ایسا کر سکتا ہے۔ جیساکہ طالبان  کے اسلام آباد میں سفیر ضعیف کو پکڑ کر امریکوں کے آگے ڈال دیا۔ یہ سفارتی آداب کی بھی کھلی خلاف ورزی تھی۔ 
امریکہ جنوبی ایشیا میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کا خواش مند ہو گا۔ ایک اڈہ افغانستان اور ایک کشمیر میں قائم کرنے کی اسے ضرورت ہو گی مگر پاکستان یہاں ان امریکی اڈوں کو قائم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ امریکہ یہاں پولیس مین بننا نہیں چاہتا۔ پاکستان چین کو کبھی ناراض نہیں کر سکتا۔ ایسا نہ ہو کہ پاکستان کو امریکہ اور چین کے درمیان سینڈوچ بنانے کا کوئی شعور ی یا غیر شعوری عمل شروع نہ ہو جائے۔ ہاتھیوں کی جنگ اور محبت دونوں صورتوں میں بے چاری گھاس ہی مسل دی جاتی ہے۔ بھارت نے ٹرمپ کے بیان کے فوری بعد اسے مسترد کیا کہ مودی نت ایسی کوئی پیشکش نہیں کی ہے۔ بھارت کوشش کر رہا ہے کہ کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ ہی بنا کر رکھا جائے ۔ اسے عالمی مسائل کی فہرست میں شامل ہونے کی سرگرمی کو ناکام بنا دیا جائے۔ پاکستان جنگ بندی لائن کے آر پار اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی موجودگی کو بھی دنیا میں اپنے موقف کے حق میں مستحکم دلیل کے طور پر پیش کرنے کی جانب توجہ نہیں دے سکا ہے۔ 
عمران خان اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات تین گھنٹے جاری رہی۔ یہی نہیں بلکہ اوول آفس میں بھی پون گھنٹہ کی ون ٹو ون ملاقات بھی کافی اہم ہے۔ امریکی خاتون اول نے عمران خان کے ساتھ گروپ تصویر بنوائی۔ اسے سوشل میڈیا پر بھی خود ہی وائرل کیا۔ عمران خان کے وفد میں پاک آرمی کے چیف اور آئی ایس آئی چیف کی شمولیت نے بھی اس دورہ کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان کا بیانیہ’’ ایڈ نہیں ٹریڈ ‘‘ بھی چھایا رہا۔ دونوں کی ملاقات میں باڈی لینگویج اور بھی منفرد تھی۔ دونوں کا لباس اور اس کا رنگ یکسانیت رکھتا تھا، گو کہ عمران خان شلوار قمیض زیب تن کئے ہوئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے کشمیر کی خوبصورتی کی تعریف جس انداز میں کی اس نے اس خطہ کا نقشہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ عمران خان سے مخاطب ہوتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’’کشمیر دنیا کا خوبصورت ترین حصہ سمجھا جاتا ہے مگر ابھی وہاں ہر جگہ بم ہی بم ہیں۔ کہتے ہیں جہاں آپ جائیں ،آپ بم دیکھیں گے اور یہ خطرناک صورتحال ہے۔ یہ بہت برسوں سے ایسا ہو رہا ہے۔ مجھے بتائیں اس سلسلے میں کیا مدد کر سکتا ہوں۔‘‘ دونوں کے درمیان  بھارت سے متعلق بہت باتیں کرنے کے ٹرمپ کے اعتراف نے نے بھارت کو پریشان کر دیا ہے کہ دو طرفہ بات چیت میں بھارت کا کیسا ذکر، مگر بھارت نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و دوستی کے لئے پاکستان کی کوششوں پر منفی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وہ کشمیریوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ آزاد کشمیر پر گولہ باری کی جا رہی ہے۔ اس لئے دنیا کو اس بارے میں آگاہ کیا جا نا بھی ضروری ہے۔ 
پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کبھی بھی دوطرفہ بات چیت سے حل نہیں ہوئے ہیں۔ سندھ طاس معاہد عالمی بینک کی ثالثی سے طے ہوا۔ رن آف کچھ کا معاہدہ برطانوں وزیراعظم ہیرالڈ ولسن نے کرایا۔ 1965کی پاک بھارت جنگ سویت یونین نے بند کرائی اور پاک بھارت کے درمیان تاشقند معاہدہ ہوا۔ اس لئے کشمیر بھی کسی ثالثی کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔ سٹیٹس کو اس کا حل نہیں۔ رائے شماری بہترین آپشن ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس پر قراردادیں منظور کی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بیان کی بھارتی انکار کے باوجود اہمیت ہے۔ دنیا اب دیکھنا چاہے گی کہ کشمیر کیا ہے اور اس کا حل کیا ہو گا۔