07:41 am
تاریخی بڑھک

تاریخی بڑھک

07:41 am

وہ کہتے ہیں ناکہ چھوٹا منہ بڑی بات‘ یعنی بالحاظِ عہدہ‘ سماجی و سیاسی قد کاٹھ چھوٹا مگر بڑی بڑی ہانکنا ان کا طرئہ امتیاز مگر یہاں تو معاملہ ہی دوسرا ہے‘ صرف عہدہ ہی نہیں بلکہ منہ بھی بڑا ہے‘ اس لئے یہ جتنی لمبی لمبی بھی چھوڑیں‘ بڑھکیں ماریں یا ہانکتے چلے جائیں سننا تو پڑے گا۔ شاید وزیراعظم عمران خان نے یہی سوچ کر ٹرمپ کی ایک لمبی ہانکی ہوئی بڑھک کو ڈور کے ’’پنے‘‘ کی طرح لپیٹ لیا ہوگا؟
 
آخر کو عمران خان وائٹ ہائوس میں پہنچے ہوئے تھے‘ اس خوشی میں صدر ٹرمپ کی ’’ٹرمپیاں‘‘ تو جاری رہنی چاہیے تھیں‘ چنانچہ انہوں نے اپنی عادت شریفہ کے عین مطابق کئی میلوں لمبی چھوڑتے ہوئے فرمایا کہ ’’اگر میں افغان جنگ جیتنا چاہتا تو افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا تھا اور یہ دس دنوں کا کام ہے لیکن میں نہیں چاہتا کہ وہاں ایک کروڑ لوگ مریں‘ جیئو ڈونلڈ ٹرمپ‘ تم نے ہانکنے کا حق ادا کر دیا‘ اور سلام عمران خان اور میڈیا والوں کو کہ جنہوں نے ٹرمپ کی اس تاریخی ہانک یعنی بڑھک کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرلیا‘ ہم جیسے طالب علموں کا چونکہ ہاضمہ کمزور ہے  اس لئے قلم  کو مجبوراً اس رخ پہ ڈالنا پڑا۔
مسٹر ٹرمپ تک اگر اس خاکسار کی بات پہنچ سکتی تو میں ان کی خدمت میں ضرور عرض کرتا کہ مسٹر ٹرمپ! ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟ گھوڑا بھی حاضرہے اور میدان بھی‘ اگر ایک کروڑ افغان مار کر تم افغان جنگ جیت سکتے تو ضرور جیت چکے ہوتے۔
گوربا چوف سے پوچھ کر دیکھ لو...اس نے تو پندرہ لاکھ افغانوں کو شہید کر دیا تھا مگر انجام کار ہوا یہ کہ کہساروں کے دیس میں افغان تو زندہ رہے‘ ہاں البتہ سوویت یونین کا وجود د نیا کے نقشہ سے ضرور مٹ گیا۔
افغان طالبان نے امریکی اور نیٹو فورسز کی جنگی حکمت عملی اور چھاپہ مار کارروائیوں کے ذریعے جس شاندار انداز میں مہمان نوازی کی اب  وہ تاریخ کا حصہ بن چکی ہے‘ افغانستان کے جن طالبان رہنمائوں کو امریکہ 18سالوں سے دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دیتا چلا آرہا تھا‘ جن طالبان کے لئے گوانتاناموبے کے قید خانے بنائے گئے تھے‘ جن طالبان لیڈروں کے سروں کی قیمتیں امریکہ نے مقرر کر رکھی تھیں۔ پھر انہیں طالبان کو جیلوں اور ٹارچر سیلوں سے رہا کروا کر کبھی دوحہ‘ کبھی قطر اور کبھی بھوربن مری میں مذاکرات کی بھیک مانگنا پڑی‘ انہی سے جنگ بندی کی فریادیں کرنا پڑیں۔
آج بھی اگر عمران خان امریکہ کے دورے پر ہیں تو یہ بھی افغان طالبان ہی کی کرامت ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھی جس پاکستان کے خلاف منہ بگاڑ بگاڑ کر الزام تراشیاں کیا کرتے تھے۔ امداد بند کرنے کی دھمکیاں دیا کرتے تھے‘ جاننے والے جانتے ہیں کہ ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف کی جانے والی ٹرمپیوں کے باوجود امریکہ کو پاکستان کے پائوں پڑنا پڑا۔
جی ہاں! امریکی پٹاری کے دانش فروش الٹے ہوں یا سیدھے لیکن میں امریکہ کا پاکستان کے پائوں پڑنے کے جملے سے دستبردار نہیں ہوں گا‘ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ امریکہ ہر حال میں افغانستان سے امریکی افواج کی باعزت واپسی چاہتا ہے اور یہ واپسی پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔
ایک کروڑ انسانوں کو مار کر دس دن میں افغانستان پر فتح کا پرچم لہرانے کے اعلان کرنے والا ڈونلڈ ٹرمپ جانتا ہے کہ اگر اسے بچے کچھے امریکی فوجیوں کو افغانستان سے زندہ نکالنا ہے تو اسے پاکستان کی حیثیت‘ مرتبے اور مقام کو تسلیم  کرنا پڑے گا‘ پاکستان کا نام سن کر بدکنے کی بجائے‘ لبوں پر مسکراہٹ سجانا پڑے گی۔چنانچہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان سے ’’دوستی‘‘ کے نام پر نئی بساط امریکی فوجیوں کی افغانستان سے باعزت واپسی کی بنیاد پر بچھائی جارہی ہے‘ اور افغان طالبان پاکستان سے یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ 
ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے
عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات کروانے میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام بھی لیا جارہا ہے‘ اب ’’ٹرمپ‘‘ کی ’’ٹرمپیوں‘‘ سے کچھ دیر باہر نکل کر ذرا وزیراعظم عمران خان کے ’’سچ‘‘ کا بھی انتہائی مختصر جائزہ لے لیتے ہیں۔
مثلاً وہ فرماتے ہیں کہ ’’جتنا اقلیتوں کا انہوں نے تحفظ کیا اتنا آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا‘ ہم نے مضبوط مذہبی گروپ کی مخالفت کے باوجود آسیہ بی بی کو جیل سے نکالا اور ملک سے باہر جانے میں مدد کی۔‘‘ امریکہ کی سرزمین پر بولے جانے اس سچ کو سن کر پاکستانی مسلمان ورطہ حیرت میں ڈوب گئے ہیں اور بہت سے پاکستانی تو سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں  باقاعدہ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں‘ میں سمجھتا ہوں کہ یہ زیادتی ہے۔
امریکہ کی سرزمین پر ہی سہی مگر انہوں نے ایک سچائی کا اعتراف کرنے کی ہمت تو کی؟ وگرنہ اس قسم کے نجانے کتنے ’’سچ‘‘ حکمران ’’سینوں‘‘ میں لئے قبروں کے پاتال میں اتر گئے‘ اب پاکستان کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیوبندی‘ بریلوی‘ اہلحدیث فرقوں کے خول سے باہر نکل کر پوری قوم کو ساتھ لے کر اپنے وزیراعظم سے پورے جذبہ ایمانی سے سوال کریں کہ انہوں نے ایک گستاخ ملعونہ کو رہا کروا کر اسے ملک سے باہر بھجوانے کی حرکت کس کے ایماء پر کی؟