07:43 am
مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں

مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں

07:43 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

لیکن مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کے دوسرے رخ پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے اور ارباب فہم و دانش کی ان توقعات اور امیدوں کا مرثیہ بھی پڑھ لیا جائے جن کا خون ناحق ہمارے دینی مدارس کی اجتماعی قیادت کی گردن پر ہے۔ 
 
 یہ وقت کا ایک اہم سوال اور دینی مدارس کی اجتماعی قیادت پر مسلم معاشرہ اور نئی نسل کا ایک قرض ہے جس کا سامنا کیے بغیر ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ فروعی اور جزوی مسائل ہمارے ہاں بنیادی اور کلیدی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور جو امور فکر و اعتقاد کی دنیا میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی ہماری نظر میں کوئی وقعت ہی باقی نہیں رہی۔ ہماری پسند و ناپسند اور وابستگی و لاتعلقی کا معیار جزوی مسائل اور گروہی تعصبات ہیں۔ ایک مثال بظاہر معمولی سی ہے لیکن اس سے ہماری فکری ترجیحات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ ہمارے ایک دوست نے جنہوں نے ہمارے دینی ماحول میں تربیت حاصل کی ہے گزشتہ دنوں ایک بڑے سیاسی لیڈر کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار یوں کیا کہ وہ بہت اچھا اور صحیح العقیدہ لیڈر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں برسیوں اور عرسوں میں شریک ہونے کا قائل نہیں ہوں۔ ان سے عرض کیا گیا کہ وہ سیاسی لیڈر تو سیکولر نظریات کا قائل ہے اور اجتماعی زندگی میں نفاذ اسلام کو ذہنی طور پر قبول نہیں کرتا۔ اس کے جواب میں ہمارے دوست کا کہنا یہ تھا کہ یہ تو سیاسی باتیں ہیں، اصل بات یہ ہے کہ وہ عرسوں اور برسیوں کا مخالف ہے اس لیے وہ ہمارے مسلک کا ہے اور صحیح العقیدہ ہے۔ یعنی اسلام کے اجتماعی زندگی میں نفاذ کا مسئلہ سیاسی ہے اور عرسوں میں شریک ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ اعتقادی ہے۔ آخر یہ سوچ کہاں سے آئی ہے؟ کیا یہ ہمارے دینی مدارس کی غلط فکری ترجیحات کا ثمرہ نہیں ہے؟
 نفاذ اسلام کے علمی و فکری تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہمارے دینی مدارس کا کردار کیا ہے؟ جہاں تک نفاذ اسلام کی اہمیت کا تعلق ہے کوئی مسلمان اس سے انکار نہیں کر سکتا اور علمائے اہلِ سنت نے اسے اہم ترین فرائض میں شمار کیا ہے۔ بلکہ ابن حجر مکی اور دیگرآئمہ نے اس کی تصریح کی ہے کہ نظام اسلام کے نفاذ کے لیے خلافت کا قیام اہم الواجبات ہے جسے حضرات صحابہؓ  کرام نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین پر ترجیح دی اور آنحضرتؐ کی نماز جنازہ اور تدفین سے قبل حضرت ابوبکر ؓکا بطور خلیفہ انتخاب کیا۔ پھر برصغیر میں ہمارے اکابر کی جنگ آزادی کا بنیادی مقصد بھی حصولِ آزادی کے بعد نظامِ اسلام کا غلبہ و نفاذ رہا ہے اور پاکستان کا قیام بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نعرہ پر شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کے لیے عمل میں آیا۔ لیکن اسلام کو ایک اجتماعی نظام کے طور پر ہمارے دینی مدارس میں نہ پڑھایا جا رہا ہے اور نہ طلبہ کی اس انداز میں ذہن سازی کی جا رہی ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ ایک نظام کے طور پر کریں۔ حالانکہ حدیث اور فقہ کی بیشتر کتابیں محدثین اور فقہا نے اس انداز سے لکھی ہیں کہ ان میں اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں کا الگ عنوان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ عقائد، عبادات اور اخلاق کے علاوہ تجارت، خلافت، جہاد، دوسری اقوام سے تعلقات، صنعت، زمینداری، حدود و تعزیرات، نظامِ عمل، نظامِ عدالت، معاشرت اور دیگر اجتماعی شعبوں کے بارے میں حدیث اور فقہ کی کتابوں میں مفصل اور جامع ابواب موجود ہیں جن کے تحت محدثین اور فقہا نے احکام و ہدایات کا بیش بہا ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔ لیکن ان ابواب کی تعلیم میں ہمارے اساتذہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں ہمارے اساتذہ کے علم اور بیان کا سارا زور کتاب الطہارت اور صلو کے جزوی مباحث میں صرف ہو جاتا ہے، جبکہ خلافت و امارت، تجارت و صنعت، جہاد، حدود و تعزیرات اور اجتماعی زندگی سے متعلق دیگر مباحث سے یوں کان لپیٹ کر گزر جاتے ہیں جیسے ان ابواب کا ہماری زندگی سے کوئی واسطہ نہ ہو یا جیسے ان ابواب کی احادیث اور فقہی جزئیات منسوخ ہو چکی ہوں اور اب صرف تبرک کے طور پر انہیں دیکھ لینا کافی ہو۔
حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اجتماعی زندگی سے متعلق ابواب کو زیادہ اہتمام سے پڑھایا جاتا۔ قانون، سیاست، خارجہ پالیسی، جنگ اور معاشرت کے مروجہ افکار و نظریات سے اسلامی تعلیمات کا تقابل کر کے اسلامی احکام کی برتری طلبہ کے ذہنوں میں بٹھائی جاتی اور انہیں اسلامی افکار و نظریات کے دفاع اور اس کی عملی ترویج کے لیے تیار کیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس اہم ترین دینی و قومی ضرورت سے مسلسل صرف نظر کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے علما کی پچانوے فیصد اکثریت خود اسلامی نظام سے ناواقف اور جدید افکار و نظریات کو سمجھنے اور اسلامی احکام کے ساتھ ان کا تقابل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کے اعتراف میں کسی حجاب سے کام نہیں لینا چاہیے اور اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تلافی صورت نکالنی چاہیے۔
(جاری ہے)
آج نفاذ اسلام کی راہ میں ایک بڑی عملی رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اس نظام کو چلانے کے لیے رجال کار کا فقدان ہے۔ اسلامی نظام کو سمجھنے والے اور اسے چلانے کی صلاحیت سے بہرہ ور افراد کا تناسب ضرورت سے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اور یہ خلا آخر کس نے پر کرنا ہے؟ جس نظامِ تعلیم کو ہم لارڈ میکالے کا نظامِ تعلیم کہتے ہیں اس سے تو یہ توقع ہی عبث ہے کہ وہ اسلامی نظام کے لیے کل پرزے فراہم کرے گا۔ اور اگر دینی نظامِ تعلیم اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کردار ادا نہیں کر رہا تو اسلامی نظام کے لیے رجالِ کار کیا آسمان سے اتریں گے؟
دینی مدارس کے اجتماعی کردار کے منفی پہلوئوں کے بارے میں بہت کچھ کہنے کی گنجائش موجود ہے بلکہ بہت کچھ کہنے کی ضرورت ہے لیکن ہم صرف مذکورہ دو اصولی مباحث کے حوالے سے توجہ دلاتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، دینی مدارس کی اجتماعی قیادت بالخصوص وفاق المدارس العربیہ، تنظیم المدارس اور وفاق المدارس السلفیہ کے ارباب حل و عقد سے گزارش کریں گے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور یورپ کے لادینی فلسفہ حیات کو فکری محاذ پر شکست دینے اور نفاذِ اسلام کے لیے رجال کار کی فراہمی کے حوالہ سے اپنے کردار کا ازسرنو تعین کریں۔ ورنہ وہ اپنی موجودہ کارکردگی اور کردار کے حوالہ سے نہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں گے اور نہ ہی مرخ کا قلم ہی ان کے اس طرز عمل کے بارے میں کسی رعایت اور نرمی سے کام لے گا۔

یہ معروضات ربع صدی قبل کی ہیں جنہیں اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے مختلف صورتوں میں مسلسل دہرا رہا ہوں مگر ابھی تک یہ ایک توجہ طلب سوال کا دائرہ کراس نہیں کر پائیں۔ جبکہ اس کے بارے میں جو عملی صورتیں ہو سکتی ہیں ان کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے:
(1) انہیں یکسر نظر انداز کر دیا جائے اور سارے معاملات کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے کسی قسم کی تگ و دو کی ضرورت محسوس نہ کی جائے۔ اس وقت ہمارے دینی مدارس کے عمومی ماحول کا غیر اعلانیہ موقف اور طرز عمل یہی ہے۔ 
(2) دینی تعلیم کے نظام میں ان ضروریات کو شامل کیا جائے جس کے لیے وفاقوں اور ان بڑے جامعات کو، جو اس کے وسائل رکھتے ہیں، مغربی نظام و فلسفہ اور مروجہ عالمی احکام و قوانین سے اساتذہ و طلبہ کی آگاہی بلکہ تربیت کا ماحول قائم کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک اس سلسلہ میں کرنے کا اصل کام یہی ہے۔ 
(3) دینی مدارس کے جو فضلا اس ذوق اور صلاحیت سے بہرہ ور ہیں انہیں اپنے نظم اور تربیت کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک اور یونیورسٹیوں میں اس کے مواقع مہیا کرنے چاہئیں اور یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ سب کچھ مشترکہ ماحول میں صحیح طور پر ہو سکے گا۔ جیسا کہ امام ابوالحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی نے یونانی فلسفہ و منطق پر عبور انہی کے ماحول میں حاصل کیا تھا اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھی نے اپنے دور کے عالمی نظاموں کو سمجھنے کے لیے انہی کے ماحول میں جانے کو ضروری سمجھا تھا۔ 
(4) جبکہ آخری اور اضعف الایمان درجہ کا دائرہ یہ ہے کہ جو باصلاحیت اور باذوق فضلا اپنے شوق و محنت کے ساتھ اس طرف جاتے ہیں اور اپنے ذرائع سے اس کے مواقع تلاش کرتے ہیں انہیں روکنے اور ان کے ہاتھ میں بے اعتمادی کا سرٹیفکیٹ تھما دینے کی بجائے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا جائے، انہیں راہنمائی اور رابطہ کا ماحول فراہم کیا جائے اور انہیں جو سوالات و اشکالات درپیش ہوں ان پر ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے دلیل و منطق کے ساتھ انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ جن نوجوانوں کو کسی حد تک کان نمک میں نمک بننے سے بچایا جا سکتا ہے بچا لیا جائے۔ میں بحمد اللہ تعالی گزشتہ ربع صدی سے اس دائرہ میں پورے شرح صدر کے ساتھ اپنی بساط کی حد تک مصروف کار ہوں اور اسی کو موجودہ حالات میں مناسب تصور کرتا ہوں۔ 



 

تازہ ترین خبریں