07:43 am
بلاول زرداری کا مدبرانہ بیان!

بلاول زرداری کا مدبرانہ بیان!

07:43 am

٭آج حکومت کا یوم تشکر، اپوزیشن کا یوم سیاہO بلاول زرداری کی حکومت کی غیر مشروط حمائتO برطانیہ، بورس جانسن نئے وزیراعظمO وزیراعظم عمران خان کی مزید تقریریں، بیانات، عافیہ کے بدلے شکیل آفریدیO بھارت: ٹرمپ کی ثالثی پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، سخت بیانات، گالیاںO افغان حکومت، طالبان دونوں ٹرمپ پر برس پڑےO عمرفاروق، محبوبہ مفتی خوش O گورنمنٹ ہائوس مری، فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل۔
 
٭خبریں بہت سی مگر مجھے سب سے اہم خبر بلاول زرداری کا خوش گوار بیان دکھائی دے رہا ہے کہ وہ اور ان کی پارٹی قومی امور پر حکومت کی حمائت کرے گی۔ بلاول نے یہ بیان وزیراعظم عمران خان کے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے نتیجہ میں ٹرمپ اور عمران خان کے بیانات پر دیا ہے۔ ٹرمپ کے واضح الفاظ میں کشمیر کے تنازع میں ثالثی اور پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں معاونت کے اعلان پر بلاول زرداری نے نہائت مثبت سمجھ داری اور حقیقت پسندانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بلاول نے کہا ہے کہ انہیں عمران خان کی حکومت کی متعدد کارروائیوں اور پالیسیوں پر سخت اعتراضات ہیں مگر قومی مفاد پر پوری قوم کو اتحاد اور یک جہتی کا ثبوت دینا چاہئے۔ بلاول کے مطابق حکومت نے حال میں عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران قومی مفادات کے لئے جو اقدامات کئے ہیں۔ میں ان کی غیر مشروط حمائت کرتا ہوں، آئندہ بھی قومی مفاد کے مثبت اقدامات کی حمایت جاری رہے گی۔ عمران خان کی حکومت کے متعدد اقدامات پر مسلسل سخت تنقید کے بعد مدبرانہ بیان میرے لئے بے حد خوش گوار حیرت کا باعث بنا ہے۔ اس سے اپوزیشن کے رہنمائوں کو خاص طور پرمریم نواز، مولانا فضل الرحمان کو اختلاف ہو سکتا ہے، جو ہر حالت میں موجودہ حکومت کو گرانے کے لئے سرگرم عمل ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ اس حکومت کے ہٹ جانے کے بعد کیا نقشہ بنے گا؟ اپوزیشن کے پاس نئی حکومت بنانے کے لئے ارکان اسمبلی کی مطلوبہ تعداد میسر نہیں، حکومت بنانے کے لئے کم از کم 172 ووٹ چاہئیں۔ اپوزیشن کے پاس صرف 138 ووٹ ہیں۔ ان میں سے بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی موجودہ نازک حالات میں حکومت گرانے کے حق میں نہیں مزید یہ کہ ایک سال قبل 2018ء کے انتخابات پر 25 ارب روپے صرف ہوئے تھے، اب صرف ایک سال بعد مزید 25 ارب روپے کہاں سے آئیں گے؟ اور اگر نئے انتخابات بھی قابل قبول نہ ہوئے تو پھرمزید 25 ارب روپے! بات دوسری طرف جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں کہ ملک نہائت حساس صورت حال سے دوچار ہے، بلاول نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے قومی سطح کے مدبر دانش ور ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ شاباش! بے حد مبارکباد!بلاول کے اس بیان پرر مریم نواز نے سخت تنقید کی ہے اور اسے اپوزیشن کے مفاد کے خلاف قرار دیا ہے۔
٭مجھے بھارت کے امریکہ کے خلاف اچانک ابال اور زاروقطار رونے والی کیفیت پر لطف آ رہا ہے مگر وہاں کا میڈیا اور بعض سخت انتہا پسند طبقے جس ناقابل بیان گندے الفاظ اور انداز کے ساتھ پاکستان کے خلاف شعلہ فشانی کر رہے ہیں اس پر سخت غصہ بھی آ رہا ہے۔ یوں لگتا ہے، پورا بھارت پاگل ہو گیا ہے۔ ویسے پاگل ہونے کے اسباب بھی نمایاں ہیں۔ افغانستان کے امن مذاکرات سے اسے باہر نکال دیا گیا، اس نے واشنگٹن میں پاکستان کے وزیراعظم کے دورہ کو ہرحالت میں ناکام بنانے کے لئے ہر حربہ اختیارکیا۔ وہاں کے اخبارات میں اشتہارات اور بیانات چھپوائے۔ ایک بیان کا اقتباس ڈونالڈ ٹرمپ کے یکم جنوری 2019ء والے اس بیان سے لیا گیا جس میںٹرمپ نے صاف صاف کہا کہ پاکستان 15 برسوں میں امریکہ کے تین ارب 50 کروڑ ڈالر کھا گیا مگر فریبی اور جھوٹا نکلا، امریکی حکومتوںکو دھوکا دیتا رہا اور اس نے اپنے ہاں دہشت گردوں کو تحفظ دے رکھا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے پاکستان کی طے شدہ ایک ارب 30 کرور ڈالر کی امداد روکنے کابھی اعلان کیا وغیرہ وغیرہ! نریندر مودی کی بھارتی حکومت نے عمران خان کے دورہ سے تین روز قبل حسین حقانی کے ذریعے ٹرمپ سے یہودی اور قادیانی رہنمائوں کی ملاقات بھی کرائی جس میں پاکستان کے خلاف زہر اگلا گیا مگر اچانک پانسہ پلٹ گیا ہے۔ بھارتی لوک سبھا میںاپوزیشن نے مودی کی ایسی تیسی پھیر دی۔ ایک  کانگریسی رہنما لاجپت نے یہاں تک کہہ دیا کہ مودی اور ٹرمپ دونوں مسخرے ہیں۔ اس نے سوال کیا کہ مودی کو بیک وقت تین تین ملکوں کے طویل دورے کرنے کا بہت شوق ہے۔ ان بے شماردوروں پر اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں مگر حاصل یہ ہوا ہے کہ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کا اعلان کر دیا ہے! بھارت میں اس وقت واقعی دیوانگی جیسا سماں ہے اوپر سے مقبوضہ کشمیر کے رہنمائوں عمر فاروق اور محبوبہ مفتی نے ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا ہے کہ پہلی بار کسی امریکی حکمران نے کشمیر کے مسئلہ کا کھل کر جائزہ لیا ہے۔ اس بیان نے بھارتی انتہا پسندو ںکو مزید مشتعل کر دیا ہے!
٭وزیراعظم عمران خان اور ان کا وفد امریکہ کے دورے کے بعد واپس پاکستان پہنچ چکے ہوں گے! عام طور پر سرکاری محکمے ایسے ہر دورے کو اس کے ختم ہونے سے پہلے ہی نہائت کامیاب قرار دے دیتے ہیں، ایسے بیانات پڑھتے ہوئے عمر گزر گئی۔ مگر میں عمران خان کے دورے کو مختلف پہلوئوں سے واقعی کامیاب دورہ قرار دے رہا ہوں کہ پاکستان کے خلاف نہائت سخت الفاظ استعمال والا امریکی صدر اس کے بالکل برعکس پاکستان کے لئے خوش گوار الفاظ استعمال کر رہا ہے! یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹرمپ نے کشمیر پر جس ثالثی کا اعلان کیا اسے بھارت نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایسا ہونا بھی تھا۔ ثالثی قبول کرنے کے واضح معنی یہی ہیںکہ بھارت واقعی کشمیر کے معاملہ کو تنازع قرار دے رہا ہے اور اسے بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے سے انحراف کر رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
٭باتیں بے ترتیب ہو رہی ہیں۔ وزیراعظم اوور ٹرمپ کی باتیں اپنی جگہ مگر پاک فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی حکام سے اہم ملاقاتیں بھی کم اہم نہیں۔ امریکہ کے میڈیا، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبارات ان باتوں کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔ ویسے بعض باتیں چھوٹی مگر اہم بھی ہیں کہ نوازشریف بطور وزیراعظم واشنگٹن میں وزیرخارجہ سے ملنے کے لئے وزارت خارجہ میں گئے تھے مگر موجودہ وزیرخارجہ پومپیو، پاکستان کے وزیراعظم سے ملنے کے لئے خود پاکستان ہائوس پہنچ گیا۔
٭ ایک خبر: مری میںسطح سمندر سے 7513 فٹ کی بلندی پر واقع قدیم گورنمنٹ ہائوس کو فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کا نام یونیک ہوٹل رکھا گیا ہے۔ اس میں چھ اعلیٰ درجے کے کمرے ہیں۔ اس ہوٹل کے بعض حصے نجی کاروباری اداروں کو کرائے پر دیئے جائیں گے۔ مری کا یہ گورنمنٹ ہائوں نہائت سرسبز خوبصورت ماحول میں واقع ہے۔ اسے پنجاب کے انگریز گورنر کی موسم گرما کی رہائش گاہ کی حیثیت حاصل تھی۔ اس عمارت کو گورنمنٹ ہائوس کے طور پر 1954ء میں نئی شکل دی گئی۔ اس میں اعلیٰ درجے کا کانفرنس ہال اور دوسری اعلیٰ سہولتیں موجود ہیں۔ اس میں مختلف اوقات میں ملکہ برطانیہ پر امریکی صدر جارج بش، افغانستان کے صدر اور دوسرے ممالک کے حکمرانوں کی ضیافتیں ہوتی رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں اہم سرکاری ریسٹ ہائوسوں کو کرایہ پر عوام کے لئے کھول دینے کے احکام جاری کئے تھے۔ ان کی تعمیل میں ابتدا مری کے گورنمنٹ ہائوس سے کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب 29 جولائی کو اس ہوٹل کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔
 ٭برطانیہ میں سابق وزیرخارجہ بورس جانسن نے وزیراعظم کا عہدہ کا حلف اٹھا لیا۔ خاص بات یہ کہ یہ عمل بڑی آسانی اور آرام کے ساتھ طے پا گیا۔ مستعفی ہونے والی وزیراعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ وہ پچھلے بنچوں پر بیٹھ کر حکومت کی حمائت کرتی رہیں گی۔