07:24 am
عمران خان، ہمیں آپ پر فخر ہے! 

عمران خان، ہمیں آپ پر فخر ہے! 

07:24 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
بظاہر یہ لگتا ہے کہ امریکا نے خطے میں سلامتی سے متعلق پاکستان کے تحفظات اور بالخصوص بھارت کی ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردی جیسے خدشات کا ادراک کیا ہے۔ افغانستان میں امن مذاکرات میں پیش رفت کا واحد سبب یہ ہے کہ بھارت کو اس عمل سے دور رکھا گیا۔
80کی دہائی میں بھارت نے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑنے کے لیے روس کا کاندھا استعمال کیا، جانی و مالی نقصان روس کو اٹھانا پڑا اور گزشتہ بیس برسوں میں بھارت امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا۔ جانے کب افغانستان یہ بات سمجھے گا کہ بھارت
نے پاکستان اور فطری مسلم دشمنی میں ان کا ملک تباہ و برباد کردیا؟ کیا وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہیں اور  بھارتی مسلمانوں پر مودی اور بی جی پی کے مظالم سے  لاعلم ہیں؟ 
مئی 2018 میں اپنے ایک مضمون میں ذکر کیا تھا’’ سلامتی سے متعلق روس اور چین کے ساتھ روابط بڑھانے  سے افغانستان میں جاری امن عمل میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ فوج نے حقانیوں اور سوات و فاٹا میں موجود مسلح گروہ کا صفایا کرکے قبائلی علاقوں  میں استحکام قائم کردیا اور اس کے ساتھ غیر قانونی مداخلت کو روکنے کے لیے سرحد پر باڑ بھی لگائی جارہی ہے۔ قبائلی علاقوں کو پاکستان کے ساتھ مکمل طور پر ضم کرنے کے لیے قانونی بنیادیں فراہم کردی گئی ہیں۔‘‘ تاریخ میں پہلی بار فاٹا میں ہونے والے حالیہ انتخابات اس جانب پیش رفت ہے۔ ان انتخابات نے بھارتی فنڈنگ اور اشاروں پر کام کرنے والی پی ٹی ایم کا صفایا کردیا ، جنہیں بین الاقوامی میڈیا میں بلاجواز اہمیت دی جاتی رہی۔ 
جنوری  2017میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر بنے تو پاک امریکا تعلقات میں سرد مہری آچکی تھی۔ صدر بش کے دور کی ’’ڈو مور‘‘ کی رٹ جاری تھی۔ اتحادی ہونے کے باوجود  پاکستان پر افغان طالبان کی معاونت اور دہرا کھیل کھیلنے جیسے الزامات سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے وزیر اعظم کے دورۂ امریکا سے قبل حکومتِ پاکستان نے چند اقدامات کیے۔ کالعدم تنظیموں بالخصوص جماعت الدعوہ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور اس تنظیم کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا، ٹرمپ نے بھی اس اقدام کو سراہا۔ مزید یہ کہ جیش محمد، لشکر طیبہ، اور جماعت الدعوہ سے منسلک فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت سے اثاثے بنانے کے الزامات میں کارروائی کی گئی۔ مسلح گروہوں سے تعلق رکھنے والے مدارس اور اسکول بند کروا دیے گئے، یہ بات ایف اے ٹی ایف کے مطالبات میں بھی شامل تھی۔ عمران خان کے حالیہ دورۂ امریکا کی فضا یکسر مختلف تھی اور حالات گزشتہ دس پندرہ برس میں ان کے پیشرو سربراہان مملکت کے مقابلے میں ان کے لیے زیادہ ساز گار رہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے وزیر اعظم کی وہائٹ ہاؤس آمد کو ’’ تعلقات کی تجدید اور باہمی معاونت کی بنیاد پر دیرپا شراکت داری کے لیے اہم موقعہ‘‘ قرار دیا۔
مئی 2018 میں پاک امریکا تعلقات پر سلسلہ وار چھے مضامین لکھے تھے، اس کے چھٹے مضمون میں اس جانب اشارہ کیا تھا: ’’پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور  مشرق وسطی کے مابین پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔ خطے کے استحکام کے لیے ہماری خارجہ پالیسی ہمارے اس ذمے دارانہ کردار کی عکاس ہونی چاہیے۔پاکستان کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا ہوں گے اور اس کے لیے ہمیں   کسی علاقائی ہمسائے کے بغیر تشکیل پانے والے کسی بھی بلاک میں شمولیت سے گریز کرنا چاہیے۔  یمن جنگ سے فاصلہ اور انسداد دہشت گردی کے لیے سعودی عرب کے بنائے گئے اتحاد میں شمولیت،  پڑوسی ایران اور دیرینہ دوست سعودی عرب سے تعلقات کے مابین توازن کی مثال ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنے دیرینہ اتحادی امریکہ، گہرے دوست چین اور روس کے ساتھ قائم ہونے والے نئے روابط کے مابین توازن قائم کرنا ہوگا۔ سی پیک ہمارے لیے ایک عظیم معاشی محرک ہے، ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ چین کے لیے اسٹرٹیجک ضرورت ہے۔  ہمیں امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے بھی ہرممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا قومی مفاد اسی میں ہے کہ وہ کسی بھی بلاک کا رکن نہ بنے اور سبھی بلاکس کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھے۔‘‘
سفارت کاری امکانات پیدا کرنے کا فن ہے اور اتار چڑھاؤ کا شکار تعلقات کو پٹری پر لانے کا امکان ہمیشہ ہوتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سنیئر رُکن کے مطابق  اگر اسلام آباد ’’دہشت گردی اور عسکریت سے متعلق اپنی پالیسیوںمیں تبدیلی لاتا ہے‘‘  تو دیرپا تعلقات کی بحالی کے لیے  ’’دروازے کھلے ہیں‘‘۔ پاکستان اس سلسلے میں مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عمران خان کا حالیہ کام یاب دورہ دوطرفہ دیرپا تعلقات کی تجدید اور باہمی تعاون میں پیش رفت کی جانب پہلا قدم ثابت ہوگا۔ یقینی طور پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین تعلقات کی بہتری پر کام ہورہا ہے۔ زرداری اور نواز شریف کے برعکس عمران خان کے بیرون ملک اثاثے نہیں جن کے چھن جانے یا کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کھل جانے کے خوف کی تلوار ان کے سرپر لٹک رہی ہو اور اس کے ذریعے ان سے من مانے فیصلے کروائے جاسکیں۔ عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب رہا لیکن  اس کام یابی کی قیمت پاکستان کو بکرا بنا کر یا امریکی احکامات من و عن تسلیم کرکے ادا نہیں کی گئی۔ میرا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں لیکن ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ کہنا چاہتا ہوں ’’عمران خان، ہمیں آپ پر فخر ہے!‘‘ ۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)