07:30 am
عقیدہ ختم نبوت

عقیدہ ختم نبوت

07:30 am

پاکستان میںمسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے  خوبصورت کانفرنسیں منعقد کرکے اپنا مذہبی فریضہ پورا کیا ہے اور اپنے وقت کی ایک اہم ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے عشق رسولؐ کے تقاضوں پر لبیک کہی ہے۔
انسانی رہنمائی کا مسئلہ: قافلہ انسانیت ہمیشہ اپنے مادی مسائل کے حل اور روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے رہبری اور رہنمائی کا محتاج رہا ہے۔ تاریخ اس بات پر عدال کے ساتھ گواہی مہیا کرتی ہے کہ انسانوں کی درست، صحیح ، بروقت اور نجات آفریں رہبر ی ہمیشہ رسولوں اور نبیوں نے فرمائی ہے۔ ان مقدس ہستیوں سے ہٹ کر کاروان آدمیت نے جب بھی حقیقی اور روحانی منزل  تلاش کرنے کی کوشش کی، گمراہی کے گہرے کھڈوں اور کھائیوں میں جاگرے۔
 
نبی کون ہوتا ہے: عربانی زبان میں نباء کے معنی خبر دینا ہوتا ہے ا س مادہ کے اعتبار سے خبریں دینے والا نبی ہوگا۔ ابن منظور اور زبیدی حنفی نے لکھا کہ ہر خبر دینے والا نبی نہیں ہوتا بلکہ غیب کی خبر دینے والا نبی وہتا ہے۔ اس معنی کو مصطفوی نے التحقیق میں نقل کیا ہے کہ اگر نبی لفظ کا مادہ ون، با اور وائو ہو تو اس کا معنی مقام بلند ہوتاہے اس اعتبار سے نبی اس منتخب ذات کو کہتے ہیں جو علم انسانی کی سطح سے بلند مقام پر فائز ہو۔ مسامرہ وغیرہ کتب نے نبی کا معنی ہجرت کرنے والا  کیا ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق نبوت ایک منصب ہے جس پر فائز ہستی کی طرف وحی کی جاتی ہے وحی چونکہ انسانی علم سے بلند ایک مقام کا نام ہے اسی لئے ہر نبی کو نزول وحی دوسرے افراد سے ممتاز کر دیتا ہے۔ لفظ وحی چونکہ نعتہ بعض مقامات پر قرآن حکیم نے فطری الہام کے معنوں میں بھی استعمال کیا ہے جیسے کہ شہد کی مکھی کی طرح وحی کے کلمہ کا انتساب ہے اس لئے ائمہ تفسیر نے نبی کی تعریف کو مزید بلیغ اور فصیح کرنے کے لئے کہا کہ نبی اس ذات کا نام ہے جو صاحب معجزہ ہوتی ہے۔
رسول کون ہوتا ہے؟ نبوت کی طرح رسالت بھی ایک اصطفائی منصب ہے۔ علمائے قدیم میں سے ایک طبقہ کی تحقیق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے وحی دونوں کے لئے ضروری ہوتی ہے یہ بھی لکھا گیا جو صاحب کتاب نہ ہو وہ نبی ہوتا ہے جو صاحب کتاب ہو وہ رسول ہوتا ہے جبکہ علمائے تحقیق کا دوسرا طبقہ یہ کہتاہے کہ جو نبی ہوتا ہے وہ رسول بھی ہوتاہے گویا ہر نبی صاحب کتاب ہوتا ہے اور یونہی ہر رسول صاحب کتاب ہوتا ہے ان کا استدلال قرآن حکیم کی اس آیت میں ہے۔(ترجمہ) ’’بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ اتاری کتاب‘‘25/57) )
نزول وحی کے ساتھ نبوت اور رسالت کی تعریف کے لئے قرآن حکیم کی یہ آیت ملاحظہ ہو۔
(ترجمہ)’’بے شک ہم نے آپ کو وحی سے نوازا جیسے کہ ہم نے وحی بھیجی نوح اور ان کے بعد سارے نبیوں پر‘‘(163/4 )
جب زمانہ محدود تھا: یہ ہماری دنیا اپنی بوقلمونیوں کے ساتھ بے شمار مدت سے آباد ہے۔ اس میں رہنے والے مختلف قوموں میں بٹے ہوئے ہیں۔ یہ تقسیم در تقسیم کے سلسلے ماضی میں بہت گھمبیر تھے۔ لوگ ایک دوسرے سے بے گانہ تھے، ملتوی کا وجود فگار تھا۔ سوچوں کے جزیرے محدود تھے۔ رسل رسائل کے سلسلے دشوار تھے۔ ہر ملک اور ہر قبیلہ خود ہی کو سب کچھ سمجھتا تھا۔ افہام و تفہیم اورتعلیم و تعلم کے ماحول محدود تھے اللہ تعالیٰ نے سب پر کرم فرمایا سب کو نوازا اور ان کی رہنمائی کے لئے قبیلوں اور قوموں میں الگ الگ رسول بھیجے جنہوں نے کمال دردمندی کے ساتھ انہیں پیغام اصلاح دیا ان کے سامنے دساتیر ہدایت رکھے کہ وہ بھٹکنے اور گمراہ ہونے سے بچ جائیں اسی کی طرح قرآن حکیم نے اشارہ فرمایا: ’’اور ہر قوم کے لئے راہ راست پر ڈالنے والے ہیں۔‘‘
جب محدود لامحدود ہوگیا: ڈاکٹر اقبال کائنات کو ناتمام تصور کرتے ہیں کہا جاسکتا ہے کہ دنیا اپنی انتہا کو چھونے کی طرف  بے تابانہ دوڑ رہی ہے۔ دنیا کی عمر پہلے سفر کی ابتدا میں تھی اب انتہا کی طرف مرحلہ در مرحلہ گامزن ہے۔ ساری تہذیبیں ایک ہی تہذیب، سارے تمدن ایک ہی تمدن سبھی شناختیں ایک یہ شناخت میں ڈھلنے کے لئے محو پرواز ہیں۔ انسان میں یہ سکت پیدا ہونے لگی ہے کہ  وہ اپنے خیموں میں بیٹھ کر سیاروں اور ستاروں یک نظام میں جھانک رہا ہے اور محدود تصور لامحدود فضائوں میں سانس لینے کے لئے پرتول رہے ہیں۔ یہ بات  بذات خود سب انسانوں کی ضرورت بن گئی کہ ان کی انگلی پکڑنے والا کسی ایک قوم کا امام نہ ہو۔ اس کی دعوت سے لے کر اس کے ہر انقلاب تک جہاں تہاں ہرمو جود کے لئے  پیغام تعمیر موجود ہو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی یہ ضرورت حضور ختمی مرتبت محمدﷺ کی صورت میں پوری فرمائی۔
قرآن کا اعلان: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’محمد تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے بھی باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سب کے سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔‘‘ 33,40) )
اللہ تعالیٰ نے صاف صاف اور واشگاف اعلان فرما دیا کہ حضرت محمدﷺ خاتم النبین ہیں۔ ختم کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو چھپا دینا ابن منظو ر نے اس لفظ کا یہی معنی لکھا ہے کہ ختم ڈھانپ دینے  کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ کسی چیز کو بند کرکے اس طرح محفوظ کر دینا کہ اندر سے کوئی چیز باہر نہ آسکے یہ ختم ہے۔ ابن فارس نے لکھا کہ عرب کہتے ہیں اس  کا مطلب ہوتا ہے زمین نرم کرنے کے بعد اس میں بیج ڈال کر اس کو پہلی مرتبہ پانی دینا چونکہ بیج زمین میں محفوظ ہو جاتاہے اس لئے ختم کا مادہ استعمال کیا جاتاہے۔ زبیدی حنفی نے لکھا کسی چیز کے آخری سرے تک پہنچ جانا ختم ہے۔ شہد کی مکھیاں جب شہد کو چھتے میں محفوظ کر دیں تو بھی اسے ختم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ابن فارس نے اس کا معنی مہر لگانا بھی لکھا کہ اس کی حقیقت بھی بند کرنے، روک دینے او رختم کردینے ہی کی ہے۔خاتم القوم کسی بھی قوم کا آخری شخص ہوتا ہے اور خاتم النبین نبیوں میں آخری نبی ہوگا اور ظاہر ہے وہ محمد ﷺ ہی ہیں۔        (جا ری ہے)