07:31 am
ٹرمپ کا پاکستان سے نیا رشتہ؟

ٹرمپ کا پاکستان سے نیا رشتہ؟

07:31 am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کافی محولیا قسم کا مزاج پایا ہے‘ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کوپاکستان کا مقبول ترین وزیراعظم قرار دے ڈالا‘ گزشتہ روز اس خاکسار نے اپنے دوست  کے ساتھ کراچی میں لگے ایک بدھ بازار میں جانے کا اتفاق ہوا‘ جہاں بھنڈی توری سو روپے کلو‘ گھیا توری90روپے‘ ٹماٹر50روپے لوکی80روپے‘ پیاز 50روپے خوبانی ڈیرھ سو روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہے تھے۔
 
بدھ بازار میں ایک سندھی نوجوان بڑے دلچسپ انداز میں یہ صدائیں لگا رہا تھا کہ عمران خان کو ووٹ دینے والو کھیرا ساٹھ روپے کلو لے جائو‘ میں اس ریڑھی والے نوجوان کے قریب گیا اور بڑے نرم لہجے میں اس سے پوچھا کہ اس اعلان کا کیا مقصد ہے؟ اس نے کہا سائیں‘ یہی کھیرا کراچی میں بیس‘ تیس روپے کلو تک بکا کرتا تھا‘ پھر ہوا یہ کہ ’’تبدیلی‘‘ آگئی اور ہم اسے ساٹھ روپے کلو بیچنے پر مجبور ہیں‘اس کا ثواب اب تو عمران خان کو ووٹ دینے والوں کو ہی پہنچے گا‘ نا؟
اگر مسٹر ٹرمپ کے نزدیک آسیہ ملعونہ کو جیل سے رہا کروا کے بیرون ملک بھجوانا ’’مقبولیت‘‘ کی علامت ہے پھر تو واقعی عمران خان مقبول ترین وزیراعظم ہیں‘ لیکن اگر مقبولیت کا پیمانہ عوام ہیں تو پھر عوام کی کمر توڑ مہنگائی نے توڑ ڈالی ہے‘ صرف عمران خان ہی نہیں مہنگائی کرنے والا کوئی بھی وزیراعظم کبھی بھی عوام میں اپنی مقبولیت برقرار نہیں رکھ سکتا‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کروانے کی جو بات کی ہے‘ اس پر بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے‘ گو کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ کہہ کر ’’برصغیر میں امن کے لئے امریکی صدر سے کردار ادا کرنے کی درخواست کرتے ہیں‘‘ گیند ٹرمپ کی کورٹ میں ڈال دی ہے‘ آنے والے دنوں میں اندازہ ہو جائے گا کہ ’’ٹرمپ‘‘ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار کیسے ادا کرے گا؟
اپنے ملتان والے شاہ جی کا بھی ایک پھڑکتا بیان سامنے آیا ہے‘ وہ  کہتے ہیں کہ ٹرمپ پاکستان سے ایک نیا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں‘ شاہ محمود قریشی چونکہ وزیر خارجہ بھی ہیں‘ اس لئے انہیں اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے کہ ’’ٹرمپ‘‘ پاکستان کے  ساتھ کس قسم کا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔
رشتہ تو جارج ڈبلیو بش نے بھی پرویز مشرف کے ساتھ قائم کیا تھا۔اس رشتے کے آفٹر شاکس پاکستان آج تک بھگت رہا ہے‘ سب سے پہلے تو قوم کو یہ بتایا جائے کہ امریکہ نے پاکستان سے رشتہ توڑا کیوں تھا؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ پرویز مشرف اور بش کے رومانس کے دوران پاکستانی سرزمین خودکش حملوں کا مرکز بنی رہی اور یہاں ستر ہزار کے لگ بھگ پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے‘ لیکن امریکہ پھر بھی ہر پاکستانی حکومت سے ڈومور کے مطالبے کرتا رہا۔
رسواکن ڈکٹیٹر کے تاریک دور سے  لے کر نواز شریف دور کے دوسرے سال تک امریکہ کی پاکستان میں کھلی مداخلت تھی‘ یہاں ایف بی آئی‘ سی آئی اے اور بلیک واٹر  کے ایجنٹ دندناتے پھرتے تھے‘ زرداری کے سیاہ دور میں امریکہ میں متعین اس وقت کے پاکستانی سفیر اور آج کے غدار حسین حقانی نے امریکی بلیک واٹر کیلئے تھوک کے حساب سے ویزے جاری کرکے انہیں پاکستان بھجوایا‘ رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں امریکی خفیہ اداروں کے ایجنٹوں نے پاکستان میں باقاعدہ اپنا علیحدہ نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا‘ جس میں انہیں ریٹائرڈ پولیس افسران کا اعتماد بھی حاصل تھا‘ جاننے والے جانتے ہیں ہمارے بعض بیورو کریٹ امریکہ کی چاکری میں اس  حد تک آگے بڑھ گئے کہ وہ امریکہ کو مطلوب پاکستانی گھروں سے اٹھا کر  اس مخصوص امریکی نیٹ ورک کے حوالے کر دیتے تھے‘ اگر کسی نے رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی امریکی سے رشتہ داری کی رسوائی اور ذلت دیکھنی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ افغان سفیر ملاضعیف کی کتاب کا مطالعہ کرے‘ یا پھر دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا حشر دیکھ لے۔
اصل میں پاکستانی حکمران جسے ’’رشتہ داری‘‘ سمجھتے ہیں وہ دراصل امریکہ کی بے دام غلامی ہوتی ہے‘ نائن الیون کے بعد پاکستان  نے  وہ کیا تھا کہ جو امریکہ کے لئے نہیں کیا ہوگا؟ وہ ’’القاعدہ‘‘ کہ جو امریکہ کے گلے کی ہڈی بن چکی تھی‘ جس القاعدہ کے خوف سے امریکی نفسیاتی مریض بننا شروع ہوگئے تھے۔ اس القاعدہ کا مقابلہ پاکستان نے کیا اور اب تو امریکی سرزمین پر وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں یہ بات بھی کہہ دی ہے کہ اسامہ بن لادن کی نشاندہی آئی ایس آئی نے کی تھی۔
اسامہ بن لادن  اس قدر غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک انسان تھا کہ جس کو گرفتار کرنے یا مروانے کے لئے امریکہ نے اربوں ڈالرز پھونک ڈالے تھے‘ اس نے امریکی جیسی سپرپاور کو نفسیاتی اور اعصابی جنگ میں  اس انداز میں الجھایا کہ امریکی پاگلوں کی طرح دنیا کے کونے کونے میں اسے تلاش کرنے پر مجبور تھے‘ بلامبالغہ ’’القاعدہ‘‘ امریکہ کے لئے بہت بڑا خطرہ بنی ہوئی تھی اور یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس خطرے سے نجات دلا کر امریکہ کو محفوظ بنانے میں پاکستان کا کردار سب سے نمایاں رہا‘ مگر امریکہ جیسے ہی القاعدہ کے خوف سے باہر آیا تو اس نے پاکستان کو کھلے عام نشانے پر رکھ لیا‘ پاکستان کو امریکی ڈالر کھانے کے طعنے دئیے‘ ڈومور‘ ڈومور کی ایسی رٹ لگائی کہ ایک وقت میں یوں لگتا تھا کہ جیسے پاکستان کوئی خود مختار ملک نہیں بلکہ امریکہ کی کالونی ہو۔
ریمنڈ ڈیوس ٹائپ امریکی ایجنٹوں نے دن دیہاڑے پاکستانی مارے اور پاکستان امریکی دبائو پر اس قاتل کو  پروٹوکول کے ساتھ رہا کرنے پر مجبور ہوا‘ عمران خان  خود تسلیم کرتے ہیں کہ ’’ہم پاکستان میں امریکہ کی جنگ لڑتے رہے‘  لیکن ان سارے احسانات کا بدلہ امریکہ نے یوں چکایا کہ نہ صرف پاکستان کی انتہائی توہین آمیز انداز میں امداد بند کر دی بلکہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی بھی کھل کر سرپرستی شروع کردی۔
آج  ایک دفعہ پھر عمران خان کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سے نیا رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے تو خدا خیر کرے‘ نجانے یہ نئی رشتہ داری پاکستان کو کتنی مہنگی پڑے؟