07:33 am
ٹرمپ بنام نریندر مودی!

ٹرمپ بنام نریندر مودی!

07:33 am

٭کشمیر پر ثالثی! ’’مودی نے درخواست نہیں کی‘‘ بھارتی ترجمان…ٹرمپ نے جھوٹ نہیں بولا، امریکی ترجمانO صبح دو بجے یوم تشکر: سہ پہر پانچ بجے یوم سیاہ!O بھارت، اسلحہ کی شدیدقلت، چار روز سے زیادہ جنگ نہیں لڑ سکتا، ٹائمز آف انڈیاO لاہور میں ن لیگ کے جلسہ کے لئے 60 ہزار جھنڈےO اسلام آباد، خود حکومت نے دفعہ 144 توڑ دیO رحمان ملک:’’شہباز شریف کی جگہ بلاول کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے۔‘‘ ایاز صادق شدید برہم O وزیراعظم کی واپسی پر استقبال۔
 
٭بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شائد کبھی اتنی ذلت اور رسوائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہو گا!کبھی اتنی بے بھائو کی نہ پڑی ہوں گی! سانپ کے منہ میں چھپکلی والی بات کہ کھائے تو زہر، چھوڑ دے تو پھربھی زہر! نہ کھا سکے نہ چھوڑ سکے! امریکہ کے صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے کھلے عام کہا کہ دو ہفتے پہلے جاپان کی کانفرنس میں نریندر مودی نے مجھ سے کہا کہ میں کشمیر کے تنازعے پر ثالثی کر سکتا ہوں؟ میں نے کہا کہ ضرور کرا سکتا ہوں۔ (پورا مکالمہ چھپ چکا ہے) بھارت کی وزارت خارجہ بلکہ پوری حکومت صدر ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں تعریف و ستائش کی باتوں پر تشویش میں مبتلا تھی، ٹرمپ کے منہ سے ثالثی کی بات نکلتے ہی بھارتی میڈیا اور اس کے ساتھ مودی کے مخالف سیاسی بھڑک اٹھے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان درویش کمار نے فوری طور پر ٹویٹ کیا کہ بھارتی وزیراعظم نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ مگر یہ بات کسی معمولی شخص نے نہیں، دُنیا کے سب سے طاقت ور ملک کے صدر کے منہ سے نکلی تھی۔ کسی نے بھارتی ترجمان کی بات کو تسلیم نہیں کیا۔ بھارت کے اخبارات اور سیاسی حلقے ’پاگل‘ ہو گئے۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان پیار محبت اور ہر قسم کے تعاون کے معاہدے چشم زدن میں ہوا میں اڑ گئے۔ سیاست دان تو نریندر مودی کی جواب طلبی میں مصروف ہو گئے اور بھارتی میڈیا اپنی سنجیدگی اور متانت کی شہرت کو ایک طرف رکھ کر ٹرمپ اور اس کے ساتھ پاکستان کے خلاف ناقابل بیان بدزبانی پر اتر آئے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا (سینٹ) میں ہنگامے، مودی کی جواب دہی، ذلت آمیز نعرے، واک آئوٹ اور وزارت خارجہ کا پھر اصرار کہ مودی نے ثالثی کی بات نہیں کی…مگر ہندی کی مثال کہ ’’بندہ جوڑے پَلی پَلی، رام روڑا دے کُپّا!‘‘ (بندہ بوند بوند جمع کرتا ہے قدرت پورے بھرے پیالے کو الٹا دیتی ہے) بھارتی ترجمان کی بات ادھوری رہ گئی اور واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں بھارتی لابی کے ایک صحافی نے صدر ٹرمپ کے ترجمان ’لیری کِڈلو‘ سے سخت انداز میں کہا کہ نریندر مودی نے ثالثی کی کوئی بات نہیں کہی! یہ من گھڑت بات ہے۔ اس پر امریکی ترجمان کا موڈ خراب ہو گیا، وہ اپنے صدرکے بارے میں توہین آمیز بات نہ سن سکا اور سخت لہجہ میں صحافی کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ ’’یہ انتہائی نامناسب سوال ہے، صدر ٹرمپ نے جو کہہ دیا، سو کہہ دیا، اس کی کوئی بات من گھڑت نہیں ہو سکتی، صدر اپنے پاس سے باتیں نہیں بناتے!‘‘
امریکی ترجمان کے اس جملے نے بھارت میں بھڑکتے ہوئے شعلوں کو مزید ہوا دے دی ہے۔ اسمبلی میں اپوزیشن کانگریس نے واک آئوٹ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے وزیراعظم مودی خود اسمبلی میں آ کر اس بات کی وضاحت کرے! تادم تحریر، مودی نے اپنی زبانی کوئی وضاحت نہیں کی۔ ویسے وضاحت ہو گی بھی کیا؟ کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ ٹرمپ نے جھوٹ بولا ہے؟ مودی کے لئے سانپ کے منہ میں چھپکلی والی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ سچ بولے یا جھوٹ! وہ پھنس گیا ہے۔ مجھے ایک پرانے بھارتی فلمی گانے کے بول یاد آ رہے ہیں کہ ’’جھوٹ بولے، کوا کاٹے، کالے کوّے سے ڈریو‘‘ اب کچھ دوسری باتیں!
٭ٹائمز آف انڈیا کی اس تحقیق نے پورے بھارت میں سنسنی پھیلادی ہے کہ بھارت کے پاس اسلحہ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے وہ موجودہ اسلحہ کے ساتھ صرف چار دن تک جنگ لڑ سکتا ہے اخبار کے مطابق بھارت کا سارا اسلحہ برسوں پرانا ہو چکا ہے، ویسے بھی پاکستان کے علاوہ مشرقی سرحدوں (آسام وغیرہ) پر بے تحاشا استعمال کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورت حال سے بھارت کے دفاعی حلقے سخت پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔
٭وزیراعظم عمران خان امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد واپس آئے تو ان کی خوشی دیکھنے والی تھی جو ایک جملے میں ہی سمٹ گئی کہ ’’یوں لگتا ہے، میں کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت کر آ رہا ہوں!‘‘ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان سخت کشیدہ حالات میں اک دم خوش گوار تبدیلی واقعی غیر معمولی بات ہے جسے اپوزیشن کے بڑے لیڈر بلاول زرداری نے بھی سراہا ہے اور قومی مفاد میں حکومت کا غیر مشروط ساتھ دینے کی بات بھی کی ہے۔
٭ایک اہم قابل توجہ بات! حکومت نے اپوزیشن کے یوم سیاہ کو روکنے کے لئے اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کر کے جلسے، جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی لگا دی مگر خود اس کے وزراء اور ارکان اسمبلی وزیراعظم کے استقبال کے لئے ہوائی اڈے کی جانب ریلیاں لے کر چل پڑے۔ کسی نے سوال اٹھایا کہ دفعہ 144 کی صریح خلاف ورزی ہورہی ہے۔ اس پر کیا جواب دیا اعظم سواتی نے کہ ہم تو وزیراعظم کے استقبال کے لئے جا رہے ہیں، دفعہ 144 تو صرف شر پسندوں پر عائد ہوتی ہے! مجھے وفاقی وزیر کی سطح سے یہ بات سن کر شرم آ رہی ہے، حالانکہ شرم ایسی باتیں کہنے والوں کو آنی چاہئے کہ حکومت کسی قانون کی پابند نہیں ہے۔ میں یہ خبر پڑھنے کا منتظر ہوں کہ ضلعی انتظامیہ نے اس واضح قانون شکنی پر کتنے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے؟
٭ایک دلچسپ بات: برطانیہ کے نئے وزیراعظم بورس جانسن نے شادی کے 25 برس گزارنے کے بعد گزشتہ برس اپنی بیوی مارینہ کو طلاق دے دی۔ ان کے چار بچے بھی ہیں۔ (غالباً جوان ہوں گے!) شاعری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ الہامی قسم کی چیز ہے ورنہ بورس جانسن کے گھر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ظفر اقبال نے بہت پہلے یہ شعر کیسے کہہ دیا کہ ’’ایک بیوی ہے، چاربچے ہیں …عِشق جھوٹا ہے، لوگ سچے ہیں!‘‘
٭ایک چھوٹی سی خبر۔ بھارت میں انگریزی اخبارات کی روزانہ اشاعت: ٹائمز آف انڈیا، روزانہ 27 لاکھ 16 ہزار…ہندوستان ٹائمز 9 لاکھ 93 ہزار…دی ہندو، 12 لاکھ 16 ہزار۔ یہ بات بھی کہ ہندوستان ٹائمز 1838ء ٹائمز آف انڈیا 1838 اور ہندو 1878 سے مسلسل چھپ رہے ہیں۔
٭ایک مثل مشہور ہے کہ بعض مقامات پر ہمسایہ کی خواتین لڑے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ کوئی بات نہ بھی ہو تو خود ایجاد کر لیتی ہیں۔ میں نے نوعمری میں ایسی چند لڑائیاں دیکھی اور سنی ہیں۔ بہت دلچسپ ہوتی ہیں۔ اس کی تفصیل پھر کبھی سہی۔ یہ بات مجھے اس لئے یاد آ گئی کہ پیپلزپارٹی کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک ایک عرصے سے گم نام تھے، ٹیلی ویژنوں پر خاتون جنگ جو خواتین زیادہ دکھائی دے رہی ہیں۔ ایسے میں رحمان ملک نے اچانک بیٹھے بٹھائے ایک نادر مطالبہ کر دیا کہ شہباز شریف کو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدہ سے فارغ کر کے بلاول زرداری کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا جائے! اس پرن لیگ بھڑک اٹھی ہے۔ سابق سپیکر ایاز صادق نے رحمان ملک کو ایسی سنائی ہیں کہ ماحول گرم ہو گیا ہے۔ ایک شعر یاد آ گیا ہے کہ ’’بے کار مباش، کچھ کیا کر…پاجامہ ادھیڑ کر سیا کر…!‘‘