08:37 am
 ختم نبوت ؐ کے خلاف سازشوں کے سدباب کا لائحہ عمل 

 ختم نبوت ؐ کے خلاف سازشوں کے سدباب کا لائحہ عمل 

08:37 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
 دستوری ترمیم ہی نے یہ طے کر دیا ہے کہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو گا،خواہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے ۔چنانچہ ان الفاظ کے ساتھ اس سزا کے اطلاق میں دشواری کا سامنا ہو گا۔لہٰذا تعزیرات پاکستان میں اس مجوزہ ترمیم کو واضح اور غیر مبہم بنانے اور اس کے مقصد تنفیذ کو آسان بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک مسلمان(A Muslim)کی بجائے ایک مدعی اسلام کیاجائے ۔تاکہ کوئی فرد بشر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ و مفہوم کے خلاف کسی قوم و عمل کا اظہار نہ کر سکے ۔
۲۔نیشنل اسمبلی کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کچھ مزید قانون سازی بھی بالکل  ناگزیر ہے ۔مثال کے طور پر انتخابی قوانین میں ایسی ترمیم ہونی چاہیے ،جس کے مطابق ووٹروں کے فارم میں نام درج کراتے وقت ہر لاہوری اور ربوی مرزائی پر یہ قانوناً لازم قرار دیاجائے کہ وہ اپنے آپ کو غیر مسلموں کے خانے میں مرزائی یا احمدی لکھوائے اور ان دونوں گروہوں کا اپنے آپ کو مسلم لکھوانا جرم ہو گا جس کی کم سے کم سزا حق رائے دہی سے محرومی ہو گی ۔رجسٹریشن ایکٹ جس کے تحت شناختی کارڈ بن رہے ہیں ،ان میں بھی ترمیم ہونی چاہیے جس کی رو سے کارڈ میں بھی ایسی تصریح لازم اور غلط بیانی موجب سزا ہو ۔
۳۔اسی طرح ہر ملازم حکومت پر بھی یہ لازم ہوناچاہیے کہ اگر وہ قادیانیوں کے ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتا ہے تو وہ اس کی باقاعدہ اطلاع اپنے محکمے کے توسط سے حکومت کو دے اور جو ایسا نہ کرے یا غلط اطلاع دے ،اسے ملازمت کے لئے نااہل قرار دیاجائے ۔
پاسپورٹ میں بھی اسی قسم کا اندراج اور اس کی خلاف ورزی پر سزا ازروئے قانون لازم ہونی چاہیے ۔معلوم ہواہے کہ حکومت کے بعض محکموںمیں قادیانیوں کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں ،لیکن ان میںبعض قادیانیوں کا نام درج نہیں ہو رہا یا اندراج ہوجانے کے بعد اسے حذف کرا دیاگیا ہے ،لیکن اس پر کسی قادیانی کے خلاف کوئی باز پرس یا تادیبی کارروائی نہیں ہو رہی ،کیونکہ قانون اور قواعد و ضوابط میں ایسی گنجائش موجود نہیں ہے ۔
۴۔قادیانیوں نے سول اور بالخصوص فوجی ملازمتوں میں مسلمانوں کے حقوق پر جس طرح غاصبانہ اور ناروا قبضہ کر رکھا ہے ،اس کا تدارک اور تلافی بھی ضروری ہے ۔جس طرح صدارت اور وزارت عظمیٰ کے لیے مسلمان ہونا شرط لازم ہے ،اسی طرح بعض دوسرے کلیدی مناصب مثلا چیف آف دی سٹاف، عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس ،اسمبلیوں کے اسپیکر،سفراء،صوبوں کے گورنر ، پبلک سروس کمیشن کے صدر(چیئر مین)کے لیے بھی مسلمان ہونا قانوناً لازم قرار دیاجائے ۔اسی طرح بعض حکومتی اور نیم حکومتی تعلیم وتربیت کے اداروں میں داخلے کے لئے مسلمانوں اور غیر مسلموں کا کوٹہ الگ الگ مقرر کیاجاتا ہے ،وہاں بھی قادیانی امیدواروں کے لئے اپنے مذہب کا اعلان داخلے کے وقت لازم اور خلاف ورزی موجب سزا ہونی چاہیے۔
۵۔قادیانی یہ بات علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کے فیصلے کے باوجود وہ مسلمان ہیں ۔وہ اسلام کے نام پر اپنے عقائد کو اسلامی عقائد کہہ کر ملک کے اندر اور باہر ان کی تبلیغ و تلقین کر رہے ہیں ۔مرزا غلام احمد کووہ اب تک نبی ، مسیح موعود،مہدی موعود ،اس کے رفقاء کو صحابہ کرام اور اس کو خلیفۃ المسیح کہہ رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں ۔یہ مسئلہ بڑا سنگین اور حکومت اور عامۃ المسلمین کے لیے حد درجہ غور طلب ہے ۔یہ دستور کی بھی خلاف ورزی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے باعث دل آزاری اور اشتعال انگیزی بھی ہے ۔جس گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جا چکا ہے ،اسے اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے اور اسلام کا مدعی و مبلغ ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اگر یہ لوگ اسی طرح مسلمانوں کے سینے پر مونگ دلتے رہے تو ان کے اور مسلمانوں کے مابین کبھی صلح و آتشی کی فضا قائم نہیں رہ سکے گی ،اور حکمران ان کی حرکتوں سے کتنا ہی اغماض کیوں نہ برتیں ،جب تک عام مسلمانوں میں ایمان و اسلام کی رمق باقی ہے ،وہ ایسی سرگرمیوں کو کبھی برداشت نہیں کر سکیں گے ۔
۶۔قادیانیوں کے بالمقابل مسلمانوں نے جس اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیاہے، اسے دائماً قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جزوی اختلافات اگر ہوں تو انہیں مناسب حدود کے اندر رہنا چاہیے،اختلاف کو مخالفت کا رنگ دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور ہر اختلاف کو حق وباطل اور کفر واسلام کا اختلاف نہیں بنا لینا چاہیے ورنہ اس کا فائدہ قادیانیوں ہی کو پہنچے گا ،جیسا کہ پہلے پہنچتا رہا ہے۔
۷۔قادیانیوں کی دستوری تکفیر کے بعد ایک ضروری کام کرنے کا  یہ بھی ہے کہ قادیانیوں کوحکمت اور موعظہ حسنہ کے اسلوب و انداز میں قادیانیت سے تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے ۔جن لوگوں کے ہاتھ میں قادیانیوںکی قیادیت و سیادت ہے اور جن کے مفادات ان قائدین سے وابستہ ہیں ،ممکن ہے کہ وہ اسلام لانے میں تامل و تذبذب سے کام لیں اور پاکستان چھوڑ جانے کو ترجیح دیں ،لیکن عام قادیانی جو ’’قصر خلافت‘‘ کے نزدیک نہیں بلکہ مسلمانوں کی عام آبادیوں میں مقیم ہیں ،ان کے سامنے اگر اسلام کی اصل تعلیمات کو صحیح طریق پر پیش کیاجائے اور قادیانیت کے حقیقی خدوخال بھی ان پر اچھی طرح واضح کیے جائیں تو وہ ان شاء اللہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے میں توقف اور پس و پیش نہیں کریں گے ۔ان میں بہت سے لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں جو مرزا غلام احمد اور اس کے لڑکوں کی بہت سی تحریروں سے واقف ہی نہیں ہیں اور جب ان کے سامنے پہلی مرتبہ وہ تحریریں آئیں ،تو وہ حیران اور دم بخود ہو کر رہ گئے اور قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئے ۔
۸۔اس سلسلے میں ہماراایک مطالبہ یہ بھی مسلسل ہونا چاہیے کہ ’’صمدانی رپورٹ‘‘ کو من و عن شائع کیاجائے اور جولوگ اس رپورٹ کی رو سے مجرم ہیں ، ان کو کیفرکردا ر تک پہنچایا جائے  نیز جو مزید سیاسی اور انتظامی اقدامات اس رپورٹ کی روشنی میں ناگزیر ہوں ، ان کو فوراً عمل میں لایا جائے ۔اگر ہماری حکومت اور عوام الناس نے غفلت اور تساہل سے کام لیا تو خدشہ ہے کہ اس سازشی گروہ کے ہاتھوں ہمیں مزید زخم نہ کھانے پڑیں ۔لاتدر اللہ 
خاکسارابولاعلیٰ 
۶نومبر۱۹۷۴ء