08:38 am
دیکھا جو تیرکھا کے

دیکھا جو تیرکھا کے

08:38 am

مسلمہ اصول ہے کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن جسے اردو میں ہر عمل کا رد عمل کہا جاتا ہے ہوتا ہے۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ آپ جس شدت سے گیند دیوار پر اچھالتے ہیں وہ اسی شدت سے آپ کی طرف واپس آتی ہے۔ یہ مسلمہ قانون انسان کی زندگی میں اسے کئی بار سمجھنے اور پرکھنے کا موقع دیتا ہے۔
 احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی متنازع ویڈیو کا معاملہ مریم صفدر اعوان  کی پریس کانفرنس  سے ہوتا ہوا پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ تک جا پہنچا ہے۔ ارشد ملک کی خدمات اسلام آباد ہائی کورٹ نے واپس لے لی ہیں اور بہت جلد انہیں اپنے آبائی صوبہ پنجاب میں بھیجے جانے کا امکان ہے۔ ملک ارشد تحصیل گوجرخان میں واقع قصبہ مندرہ کے نزدیک گائوں ارجن سے تعلق رکھتے ہیں۔ ارشد ملک نے راولپنڈی میں وکالت کی اور براہ راست ایڈیشنل سیشن جج بھرتی ہوئے جنہوں نے راولپنڈی اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیشن کورٹ کے علاوہ کئی خصوصی عدالتوں میں سپیشل جج کے طور پر فرائض انجام دئیے اور ان کا عمومی تعارف ایک اچھے پروفیشنل جج کی حیثیت سے ہے۔ بحیثیت وکیل ان کا تعارف بے شمار لوگوں سے ہوا ہو گا مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ذریعہ گھائل کیے جائیں گے۔
 
دیکھا جو تیرکھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
پنڈی وال اور وکیل ہونے کے ناطے اس سکینڈل کے دونوں مرکزی کرداروں سے ہماری بھی اچھی شناسائی ہے۔ ملک ارشد سے بطور وکیل اور پھر بطور جج واسطہ رہا جبکہ ناصر بٹ اور ان کی فیملی سے پروفیشنل تعلقات کے علاوہ شہرداری کا بھی گہرا تعلق ہے۔ مجھے کل کی طرح یاد ہے کہ جب ناصر بٹ کے بڑے بھائی مرحوم عارف بٹ المشہور عارف موٹرز والے کے دارا  الیکٹرونکس  کی بے دخلی اور اجراء کی کارروائی جس کے دوران ناخوشگوار واقعہ میں عارف بٹ مرحوم کا قتل ہوا تھا اس اجراء کی کارروائی کو رکوانے کے لیے بطور وکیل میں پیش ہوا اور سٹے آرڈر عدالتی بیلف کے ذریعے بھجوایا جو ہمارے آفس کا کلرک طارق بھی ناصر بٹ کے ہمراہ دارا الیکٹرونکس پر گیا تھا جو اس ناخوشگوار واقعہ کا چشم دید گواہ ہے۔
 ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس کا نتیجہ جو بھی نکلے ایک بات طے ہے کہ اب ن لیگ سے تعلق، ہمدردی یا نرم گوشہ رکھنے والے جج، بیوروکریٹس اور عوام الناس ایسی خفیہ ملاقاتوں میں بہت مختاط ہو جائیں گے۔ پوٹھوہاری میں کہتے ہیں کہ " اگلیاں پھسنڑ تے پچھلیاں تریہنڑ" جسکا مطلب یہ ہے کہ ریوڑ میں سے پہل کرنے والی بھیڑ بکری جب دلدل میں پھنسنا شروع ہو جاتی ہے تو پچھلے والا پورا ریوڑ محتاط ہو جاتا ہے اور پھر پھنسنے والے کا انجام دیکھ کر باقی ریوڑ کیچڑ یا دلدل میں پائوں رکھنے سے احتراز برتتا ہے۔
 ہر سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعلق داریاں جج، وکیل ، تھانیدار، ڈاکٹر سب کے ساتھ ہوتی ہیں اپنی پسند یا تعلق داری والے فریق کو فائدہ پہنچائے جانا کوئی نئی بات نہیں۔ اسی سوچ کے تحت  ارشد ملک کی ویڈیو بنانے والے نے بھی یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ اب عملی طور پر ہو گا یہ کہ ن لیگ سے تعلق ، محبت اور سیاسی وابستگی رکھنے والے جج ،تھانیدار، صحافی اور سرکاری افسران کسی قیمت پر بھی آلہ کار بننے سے پہلے جج ارشد ملک کا انجام پیش نظر رکھیں گے۔ اب اگر نتیجہ نکالا جائے کہ ارشد ملک کو یار دوستی تعلق داری کی بھینٹ چڑھا کر جو وقتی فائدہ مریم صاحبہ اور ناصر بٹ نے حاصل کیا وہ زیادہ ہے یا کہ اس عمل کے رد عمل میں ان کے ہمدرد تعلق داروں ، سرکاری افسران اور ججز کے محتاط ہو جانے کا نقصان زیادہ ہے۔ اس کا فیصلہ مریم صاحبہ اور ان کے صلاح کاروں کو کرنا ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ میں ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کے مقدمہ میں ملک کی سب سے بڑی عدالت پھونک  پھونک کر قدم رکھے گی جس کا اظہار گزشتہ تاریخ پیشی پر عدالت کی طرف سے کیا جا چکا ہے۔
 پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں عدالتوں کے ساتھ لڑائی، بھڑائی مک مکا اور بلیک میلنگ کے  بھی اسی فیصد واقعات کا سہرا ن لیگ کے سر ہے۔ سپریم کورٹ حملہ کیس سے لیکر ارشد ملک ویڈیو سکینڈل تک کے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ سول جج سے لیکر ملک قیوم کی حیثیت کے جسٹس صاحبان تک رسائی اور وغیرہ وغیرہ اس جماعت کے بائیں ہاتھ کی انگلی کا کھیل ہے۔ ملک قیوم جیسے اعلیٰ عدلیہ کے جج کے ساتھ مک مکا کی گفتگو کی ریکارڈنگ بھی اسی دوستانہ ماحول کا نتیجہ تھی جو دوستانہ ماحول ملک ارشد کو لے ڈوبا۔رشتے داریاں ، تعلق داریاں ، سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ مگر عزت والا عہدہ بالخصوص منصفی کا منصب مل جانے کے بعد طریقہ کاریہ ہے کہ تعلق دار اور دوست یار جج صاحب سے فاصلہ رکھنا شروع کر دیتے ہیں تا کہ منصب ملنے والے کی عزت پر کوئی حرف نہ آئے۔ ہمارے ہاں کچہریوں کا رواج یہ ہے کہ جو چیمبر فیلو یا تعلق دار شخص جج کے منصب پر فائر ہو جائے پہلی مبارک باد کے بعد ہم لوگ اس شخص سے اپنی اور اس کی عزت اور بھرم کی خاطر فاصلہ پیدا کر لیتے ہیں مگر کچھ میاں طارق جیسے لوگوں کا وطیرہ ہے کہ وہ سرکاری افسران بشمول ججز سے تعلق داریاں پیدا کر کے ان سے نہ صرف مفادات حاصل کرتے ہیں بلکہ حسب ضرورت انہیں بلیک میل بھی کرتے ہیں جس کی بڑی مثال حالیہ ویڈیو سکینڈل ہے اس ساری واردات کا مکروہ کردار میاں طارق ایف آئی اے کی گرفت میں ہے کل ہمارے ایک دوست ملک امیر ایڈووکیٹ کے صاحبزادے کی ولیمہ تقریب میں یہی شخصیت (میاں طارق) موضوع بحث تھی کچھ دوستوں نے بتایا کہ میاں طارق کا یہ طریقہ واردات عرصہ دراز سے ہے کہ وہ دوستی لگا کر دوست کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کا نشانہ بنا کر حسب ضرورت اسے بلیک میل کر کے مالی فائدہ حاصل کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ میاں طارق نے حالیہ سکینڈل کی ویڈیو بھی دو کروڑ سے زیادہ میں فروخت کی ہے۔ ہر برے فعل کا انجام بالآخر خواری اور ذلت ہوتا ہے۔ کالم کی تحریر کے اختتام پر شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کا یہ شعر ذہن میں آ گیا ہے اس لیے اس شعر کو آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔
دل کی دنیا بادشاہی اور شکم سامان موت
فیصلہ تیراترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

تازہ ترین خبریں