08:40 am
وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اور قبائلی اضلاع کے انتخابات

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اور قبائلی اضلاع کے انتخابات

08:40 am

سیاست میں کوئی کسی کو ڈنڈا نہیں مارتا نہ ہی کوئی مارنے دیتا ہے  یہ آپ کی اچھی چال ہوتی ہے جو مخالف کو چت کر دیتی ہے۔ عمل کی آواز الفاظ سے اونچی ہوتی ہے۔ سلیکٹڈ سلیکٹڈ کی گردان کرنے والوں کو وزیر اعظم عمران خان نے وہاں جا کر جواب دیا ہے جہاں وہ اپنا سلیکٹڈ کا راگ پہنچانا چاہتے تھے۔ امریکہ کی تاریخ میں کسی غیر ملکی سربراہ مملکت کے استقبال کے لیے اتنی بڑی تعداد میں افراد کبھی جمع نہیں ہوئے جتنے کیپٹل ارینا سٹیڈیم واشنگٹن میں عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کا خطاب سننے کے لیے آئے۔ اس بے مثال تاریخی اجتماع کو دیکھ کر ہمارے نام نہاد جمہوریت پسندوں کے امریکی گاڈفادر نے بھی مرعوب ہو کر وزیر اعظم عمران خان کو مقبول عوامی رہنما قرار دیا ہے تو یقینا ًمسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے پالیسی سازوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہو گا کیونکہ ان کی تمام تر تال میل غیر ملکی طاقتوں کے سامنے یہ ہوتی ہے کہ ہم ہی آپ کے خادم ہیں اور ہم ہی ہیں جو پاکستانی عوام کے مقبول رہنما ہیں۔
 
 ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ لوگ عمران خان کو سلیکٹڈ کہتے ہیں کیونکہ یہ ان کو اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ بنا کر پیش کرناچاہتے ہیں اور اپنے لیے مقبول عوامی رہنمائوں کی اسپیس خالی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیشہ کی طرح پاکستانی عوام اور خاص کر ان غیر ملکی طاقتوں کو بے وقوف بنا کر اپنے اقتدار کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ اب کی بار لگتا ہے کہ ان کی دال گلنے والی نہیں ہے۔ امریکی قیادت نے جس طرح وزیر اعظم عمران خان کو خوش آمدید کہا ہے اور صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم کی موجودگی میں پاکستان کے بارے میں جن اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ یہ سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی قیادت کا موڈ کیا ہو گا۔ صدر ٹرمپ کی دعوت پر عمران خان نے امریکہ کا دورہ کیا ہے اور اب ٹرمپ پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر جس کو بقول مولانا فضل الرحمن حکومت فراموش کر بیٹھی ہے، کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے ثالثی کی پیش کش کی ہے جو اپنے تئیں ایک بڑی اچیومنٹ ہے۔ امریکی صدر نے نہ صرف پاکستان کی رکی ہوئی امداد بحال کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ تجارت کو بیس گنا بڑھانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ 
وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں صدر ٹرمپ نے ایک بات اور کہی۔ انہوں نے کہا پاکستان جھوٹ نہیں بولتا۔ قبل ازیں امریکی ہمیشہ شکایت کیا کرتے تھے کہ ان کو دھوکہ دیا جاتا ہے یعنی ہمارا عمل اور تھا اور ہمارے وعدے اور طرح کے تھے۔ قیادت یقینی طور پر ملکوں کی ساکھ بنانے یا بگاڑنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن آج کی پاکستانی قیادت کی موجودگی میں امریکی صدر یہ بیان دے رہا ہے کہ پاکستان جھوٹ نہیں بولتا تو سمجھ لیجئے کہ دروغ گو ،چالباز اور بدعنوان قیادت ملکی امیج کاکیسے ستیاناس کرتی ہے اور سچی اور ایماندار قیادت بیرونی دنیا میں پاکستان کا کتنا بہتر امیج پیش کرنے کا باعث بنتی ہے۔ سعودی ولی عہد پاکستان تشریف لائے تو انہوں نے بھی برملا کہا تھا کہ ہم پاکستان میں ایک ایماندار قیادت کی راہ دیکھ رہے تھے تاکہ یہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر سکیں۔ امریکی قیادت کے ساتھ خوشگوارتعلقات کی بحالی کے تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کا دورہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے بحفاظت انخلاء چاہتا ہے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر وہ شخص بیٹھا ہے جس کی اول آخر ترجیح پاکستان ہے۔ اپنی پیش رو سیاسی قیادت کے برعکس کہ جن کے ذاتی و کاروباری مفادات ان کے پائوں کی زنجیر بنتے تھے وزیراعظم عمران خان کے پاکستان کے علاوہ کوئی مفادات نہیں ہیں۔ عمران خان کے کامیاب دورہ امریکہ اور وہاں ان کے عظیم الشان استقبال کے بعد ان کے سیاسی مخالفین کی زبانیں گنگ ہو چکی ہیں۔ ایک جواب ان نام نہاد عوامی رہنمائوں کو پاکستانی عوام نے سابقہ فاٹا میں بھی دیا ہے جہاں ان کے امیدواروں کی انتخابی ضمانتیں ضبط ہو گئی ہیں۔
قبائلی اضلاع کے الیکشن میں مسلم لیگ ن نے ایک سیٹ جیتی ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کوئی سیٹ جیتنے میںکامیاب ہوئی ہے۔ 16 نشستوں کے انتخاب میںیہ دونوں جماعتیں کسی ایک نشست پر رنراپ بھی نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ن نے کل ملا کر تقریباً 8ہزار ووٹ لیے ہیں جب کہ پیپلزپارٹی نسبتاً بہتر پرفارمنس کے ساتھ تقریباً 28ہزار ووٹ لے سکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ قبائلی اضلاع کے 7لاکھ 24ہزار ووٹرز (پول ہونے والے ووٹ)میں سے فقط 36ہزار ووٹرز پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی رائے اور موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس انتہائی کم تناسب جو بالترتیب 3.87فیصد اور 1.13فیصد ہے کے ساتھ یہ دونوں جماعتیں کیسے عوامی نمائندگی کی دعویدار بن سکتی ہیں؟ان کی حلیف جمعیت علمائے اسلام اور اے این پی نے ان سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے اور بالترتیب 3اور ایک سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی ہیں۔تحریک انصاف ایک بار پھر پختونخواکی مقبول ترین جماعت بن کر ابھری ہے اور پانچ نشستیں جیتنے کے علاوہ چھ نشستوں پر رنراپ یعنی دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت بھی تحریک انصاف ہے۔ جو چھ امیدوار جیتے ہیں ان میں سے چار کا تعلق تحریک انصاف سے رہاہے چنانچہ غالب امکان ہے کہ یہ امیدوار تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔  ایک امیدوار سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر جی جی جمال کے بھائی غازی غزن جمال ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے تحریک انصاف کے مرکزی دفتر میں ملاقات ہوئی تو وہ خاصے پرامید تھے ان کے بھائی کو ٹکٹ مل جائے گا لیکن بعد میں نجانے کیا ہوا کہ ٹکٹ تحریک انصاف کے ایم این اے جواد کے بھائی شعیب کو دے دیا گیا۔ جنوبی وزیرستان کے حلقہPK-113 سے جیتنے والے امیدوار وحید محسود تحریک انصاف کے زبردست ورکررہے ہیں۔ وانا سے تعلق رکھنے والی تحریک انصاف کی مخصوص سیٹوں پر واحد نامزد خاتون انیتا محسود نے وزیرستان کے انتخابی حلقوں کے بارے میں جب مجھے بریف کیا تو انہوں نے خاص طور پر وحید محسود کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے زبردست کارکن رہے ہیں لیکن آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تحریک انصاف قبائلی اضلاع کے لوگوں کی واحد مقبول ترین جماعت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس عوامی پذیرائی کے باوجود اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی مسترد جماعتوں کی قیادت وزیراعظم عمران خان کے بارے میں سلیکٹڈ کی گردان جاری رکھتے ہیں تو انہیں کیا اپنے کہے ہوئے الفاظ پر شرمندگی نہ ہوگی اور کوئی ہے جو ان کی اس بات کو اب وزن دے گا اور اس کا اعتبار کرے گا۔