08:41 am
عقیدہ ختم نبوت

عقیدہ ختم نبوت

08:41 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
خاتم  النبینﷺ ہی خاتم المرسلینﷺ ہیں: گستاخ اور شوخ چشم انسان خیزہ سری سے باز نہیں رہتا ا ور کامل ہستیوں پر فقد و نظر سے عظمتوں کے لبادے اپنے لئے تیار کرتا رہتا ہے۔ خطاکار اور فسیان شعار انسان کبھی اپنی شوخیوں کا اظہار ختم نبوت کے عقیدے سے انکار کے ساتھ کر دیتا ہے اور کبھی کہتا ہے کہ قرآن حضورﷺ کو خاتم النبین تو کہتا ہے لیکن خاتم المرسلین نہیں کہتا۔ قرآن حکیم اس موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑتا ہے۔ کتاب مبین کی اسی آیت کا اسلوب ہدایت ملاحظہ ہو کہ پہلے کہا گیا۔ ولکن رسول اللہ بعد ازاں کہا گیا و خاتم النبین دونوں کو ملا کر پڑھیے قرآن مجید نے کہ محمدﷺ اللہ کے رسول بھی ہیں اور اللہ کے نبی بھی ہیں اگر مان لیا کہ اب رسول بھی وہی ہیں اور نبی بھی وہی ہیں تو ثمر کلام یہی ہوگا جو خاتم النبین ہیں وہی خاتم المرسلین ہیں۔
 
عقیدہ ختم نبوت کیوں ضروری ہے؟ ڈاکٹر اقبال اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں، اسلام کا ظہور استقرائی فکر کا ظہور ہے نبوت اب اپنے مال تک پہنچ گئی اور اس نے خود ہی اپنے خاتم ہونے کو بے نقاب دیکھ لیا اس میں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ زندگی کو ہمیشہ عبدطفولیت میں نہیں رکھا جاسکتا۔ اسلام نے تھیاکریسی اور ملکویت کا خاتمہ کر دیا ۔ قرآن  حکیم تجربات اور مشاہدات اور غور و فکر پر زور دیتا ہے اور تاریخ اور فطرت کو علم کے ذرائع قرار دیتا ہے یہ سب اسی مقصد کے گوشے میں ہیں جو ختم نبوت کی تہہ میں پوشیدہ ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ اب نوع انسانی کی تاریخ میں کوئی شخص اس بات کا مدعی نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی مافوق الفطرت اختیار کی بنا پر دوسروں کو اپنی اطاعت پر مجبور کرسکتا ہے ختم نبوت کا عقیدہ ایسی نفسیاتی طاقت ہے جو اس قسم کے دعوئوں کو ختم کردیتی ہے (خطبات)۔
اقبال کا فہم عشق رسالت کی گلی میں مجذوبوں کی طرح گزرا ہے کہ اب حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے بعد حضور کی ذات سے کٹ کر کسی کی غلامی نہیں کی جاسکتی۔ قرآن مجید کی آیت ختم نبوت کو اگر اس انداز میں سمجھ لیا جائے تو بدکار شخص حضورﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
دعوے کی دلیل وہ خود ہیں، قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ اس کا اعجاز یہ ہے کہ اس کے فضائل، اس کے مناقب، اس کے معانی اور اس کے مطالب تک رسائی کے لئے ایک زندگی چاہیے۔ اس کی تشریح اور توضیح میں کروڑوں کتابیں لکھی گئیں لیکن اس کے مضامین کا حقیقی ادراک نہ ہوسکا۔ قرآن ایک سمندر ہے اس کی موجوں میں غواصی کی تاب کس کے اندر ہوسکتی ہے۔ ہاں اس کی تشریح میں جو کچھ صاحب سیرت رسول نے کہہ دیا وہ قطعی ہے۔ ان کے قول اور بول کی نظیر دنیا کی تاریخ میں پیش ہی نہیں کی جاسکتی۔ وہ جو فرما دیں کرامت اسی قول میں ہے۔ مستند تشریح وہی ہے اور توضیح کا وہی انداز قابل قبول ہے۔ کروڑوں کتابیں انہی کا دیا ہوا ادب ہے۔ نگار خانہ تاریخ میں جو کچھ موجود ہے اس میں سب سے زیادہ معتبر آپ ہی کے اقوال کا خزانہ ہے۔ مکہ کے ان پڑھ اور فاقہ مست بدئوں کو علم وآ گہی میں رشک فلک و قمر انہی کی نظر عنایت نے بنایا ہے۔ وہ خود ’’خاتم النبین‘‘ کا معنی یہی کرتے ہیں ’’لانبی بعدی‘‘ اور خاتم المرسلین کا مفہوم وہ خود یہی بتاتے ہیں میرے بعد کوئی رسول نہیں۔ ان کے بعد کسی کی تشریح مانی جائے۔ تاریخ انسانی میں ارب ہا ارب جاننے والوں کی گواہیاں یہی ہیں وہ سب کے سب لوگ جنہوں نے ان کے اقوال ملفوظات کی جمع و تحقیق اور شرح و تفسیر میں اپنی عمریں کھپائیں وہ سب خاتم النبین کا معنی یہی کرتے ہیں کہ نبوت و رسالت کی تمام نعمتیں وجود محمدﷺ میں سمٹ گئی ہیں۔ اب ان کے سوا یہ روشنی ، اب ان کے بعد یہ نور اور اب ان کے بعد یہ جھلک اور جلوہ کہیں اور دکھائی نہیں دے سکتا۔ قرآن کا حکم قطعی ہے، اٹل ہے اور بے غبار اعلان ہے۔
’’لیکن وہ اللہ کے رسول اور سب کے سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔‘‘
ایسا سوچنا غلط نہ ہوگا، قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا(ترجمہ)’’اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے کوئی تمنا کی تو  شیطان نے ان کی آرزو ہائے حق میں کچھ ملایا تو فوراً ہی اللہ مٹا دیتا ہے شیطانی رخنہ کو پھر یہ کہ اللہ اپنی آیات کو پکا اور مستحکم فرماتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔‘‘ (52/22) 
دین میں حذف، نسخ کا سلسلہ ایک وقت تک چلتا رہا جب تک آسمانی ہدایات کے سلسلے محدود تھے یا پھر لوگوں نے عقلی جدتیں اور مضرت رساں بدعتیں دین میں شامل کرلی تھیں۔ انبیاء کے بعد دیگرے آتے رہے اور ہر رسول اپنے بعد آنے والوں کی ضرورت اور مقام کو واضح کرتا رہا اور آخر میں آنے والے کی ہمہ گیر قیادت کی بشارت قرن بعد قرن چلتی رہی تاآنکہ وہ زمانہ آگیا ہے جسے دور قدیم اور دور جدید میں حد فاصل قراردیا جاسکتا ہے۔ اسی دور میں رسول اکرمﷺ کا ظہور ہوا۔ آپ ﷺ کی دعوت نے علم و عقل کی وسعتوں کو سمیٹ لیا۔ آپﷺ کا زمانہ ہی انسانی ذہن کے سن شعور کو پہنچنے کا زمانہ ہے۔ آفتاب آجائے تو پھر کسی دیے اور شمع کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپﷺ کا آنا ہی نبوت کے ہر فیض کا دور جدید تھا۔ اب  انسانوں کے لئے ایک ہی فکری وحدت نے شیرازہ بندی کرنی تھی اور ہر ہر اجمال کی کتاب بند کر دی گئی او ر قافلہ آدمیت کی ہر تشنگی سیرابی سے بدلنے کے لئے مفصل کلام کا نزول اور قیادت مبین کا ابھرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ’’ اور کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں حالانکہ اسی نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی جو ہر طرح کی تفصیل رکھتی ہے‘‘(114/6) 
پیغام نبوت اور قرآن حکیم نے گزرے ہوئے ہر رسول کی تصدیق کی لیکن اپنے بعد وحی کا ہر راستہ بند کر دیا اور رسول کریمﷺ کے پیغامات کی نگہبانی کا نظام سخت کر دیا۔ اللہ تعالیٰ  نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ’’اور ہم نے آپ کی طرف سچی کتاب نازل کی پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کی تعلیمات کی محافظ‘‘ (48/5) 
رسول اللہﷺ کے پیغام رسالت نے قیامت تک کے لوگوں کی رہبری اور رہنمائی کرنی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے نظام نبوت کے تمام کلیات اور جزئیات، اصول اور فروغ سب کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی اور فرمایا: (ترجمہ) ’’بے شک یہ قرآن ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا اور بے شک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ (9/15) 

تازہ ترین خبریں