08:41 am
پرامن یوم سیاہ، خاموش یوم تشکر!

پرامن یوم سیاہ، خاموش یوم تشکر!

08:41 am

٭11 گھنٹے لوڈشیڈنگ پر واپڈا کا شکریہO یوم سیاہ، لاہور میں مقدمے، جلسے کا سامان ضبطO طوفان بارشیں، ہر طرف سیلابO عمران خاں کے دورے سے10 کروڑ بچ گئےO پاکستان کا پہلا خلائی مشن، سفر کے امیدواروں کے انٹرویوO ثالثی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، مولانا حسین احمدO چین کی بحری طاقت کو بھارتی بحریہ کا چیلنجO کرپشن: عراق میں 11 وزیروںکے وارنٹ گرفتاریO جماعت اسلامی نے یوم سیاہ میں حصہ نہیں لیاO امریکی صدر ٹرمپ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے:عمران خاں۔
 
٭دوسری باتوں سے پہلے واپڈا کے لئے اظہار تشکر! گزشتہ روز بجلی 10 بجے صبح گئی اور رات کو9 بجے واپس آئی۔ ان گیارہ گھنٹوں میں پانی بند، ٹیلی ویژن خاموش، یو پی ایس جواب دے گیا۔ طوفانی بارش، سڑکوں پر پانی، کریم و اوبر وغیرہ نے آنے سے انکار کر دیا۔ بارش کے بعد شدید حَبس! یہ تو معمول کی باتیں ہیں۔ واپڈا والوں کے ٹیلی فون بند تھے۔ اب یہ کہ واپڈا کا شکریہ کیسا؟ تو کچھ ایسے حقائق سامنے آئے، جن پر شکریہ واجب ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ٹیلی ویژن مسلسل 11 گھنٹے بند رہنے سے بے شمار اذیت ناک بوجھل خبریں دیکھنے اور سننے سے بچ گیا۔ سرکاری اور نیم سرکاری صبح و شام ہونے والی فضول قسم کی پریس کانفرنسوں سے دماغ محفوظ رہا۔ یوم سیاہ اور یوم تشکر کے جلسوں کی کارروائی دیکھنے سننے سے جان بچی رہی اور ایک اہم بات یہ کہ ان گیارہ گھنٹوں میں مسلسل بے تحاشا پسینہ آنے سے جسم بہت ہلکا ہو گیا۔ اس قسم کا پسینہ نوجوانی میں بہت آتا تھا جب مختلف کھیلوں میں حصہ لیا کرتا تھا۔میں انہی فوائد پر واپڈا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں مگر یہ صرف ایک دن کا شکریہ ہے، ایک ہی دن کافی ہے۔ ویسے میں جس وقت کالم لکھ رہا ہوں، بجلی پھر بند ہے!
٭یوم سیاہ گزر گیا، مختلف شہروں میں جلسے جلوس! اپوزیشن نے لاہور میں مال روڈ کے مشہور چیئرنگ کراس کے مقام پر جلسے کا اعلان کیا تھا۔ پانچ بجے کا وقت مقرر تھا مگر جلسہ گیارہ بارہ بجے کے بعد شروع ہوا۔ پولیس نے چاروں طرف ناکہ بندی کی ہوئی تھی جلسے کے مقام پر تیار سٹیج والا کنٹینر، کرسیاں، لائٹیں وغیرہ اٹھا کر لے گئی اور یہ چیزیں تھانے میں جمع کر دیں۔ پھر بھی جلسہ ہو کر رہا۔ شکر کہ کوئی دنگا فساد نہیں ہوا۔ ایک خبر نشر ہوئی کہ وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ کسی جلسے جلوس کو نہ روکا جائے۔ بہرحال خیریت گزری کہ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ میں حالات پرامن رہے! حکومت کا یوم تشکر صرف تحریک انصاف کے دفاتر کی حدود تک رہا۔ اس میں عمران خاں کی ایک سالہ حکومت کے بارے میں تقریریں ہوئیں، تالیاں بجیں اور یوم تشکر ہو گیا!
٭ ایک نمایاں سرکاری خبر! عمران خاں کے امریکہ کے دورے سے 10 کروڑ روپے بچ گئے۔ ایک ’دانش ور‘ قاری نے مشورہ دیا ہے کہ وزیراعظم کو بار بار امریکہ کے دورے کرنے چاہئیں، ہر بار دس کروڑ بچتے جائیں گے! ایک پرانا لطیفہ یاد آ رہا ہے ایک سردار کے بیٹے نے کہا کہ باپو! آج بس میں سفر کرنے کی بجائے اس کے پیچھے بھاگ کر کرائے کے 30 روپے بچا لئے ہیں۔ سردار ناراض ہوا کہ عجیب بےو قوف ہو، بس کے پیچھے بھاگے، کسی ٹیکسی کے پیچھے بھاگ کر آتے تو تین سو بچ جاتے!
٭بھارت میں’ثالثی‘ کے مسئلہ پر بحث جا ری ہے۔ میڈیا اور اپوزیشن کے بار بار مطالبے کے باوجود وزیراعظم مودی نے ذاتی طور پر کوئی واضح بیان نہیں دیا، صرف گول مول باتیں کی ہیں۔ دریں اثنا اب میڈیا بھی خاموشی اختیار کر رہا ہے۔ بعض اخبارات نے اس معاملہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی۔
٭بھارتی بحریہ کے چیف آف سٹاف ایڈمرل کرم بیر سنگھ نے اپنی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ چین نے بحرہند میں بہت سے جنگی جہاز بھیج دیئے ہیں۔ افریقی ملک جبوتی میں بحری اڈا بنا لیا ہے اور کراچی میں اپنے جنگی جہازوں کے لئے بہت سی اہم سہولتیں حاصل کر لی ہیں۔ کرم بیر سنگھ نے کہا ہے کہ اس وقت تک بحر ہند میں چین کے آٹھ بڑے جنگی جہاز اور بہت سی جنگی کشتیاں پہنچ چکی ہیں۔ جبوتی میں چین کے بحری اڈے اور کراچی میں حاصل شدہ سہولتوں کے باعث بحر ہند میں بھارتی بحریہ کو گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا سنجیدہ نوٹس لینا ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی ایڈمرل کرم بیر نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چین سے نمٹنے کے لئے بھارت کے پاس وسائل کی بہت کمی ہے۔
٭عراق کی ایک خبر: وزیراعظم عراق کے حکم پراس کی کابینہ کے گیارہ وزیروں پر کرپشن کے مقدمات درج کر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ہیں۔ خبر کے مطابق اس وقت عراق کی عدالتوں میں کرپشن کے 1267 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
٭وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ 2022ء میں پاکستان کا خلائی مشن خلا میں پہنچ جائے گا۔ اس مشن کے ساتھ جانے والے خلابازوں کے لئے باقاعدہ انٹرویو کئے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر ایسے 50 امیدواروں کی فہرست بنائی جا رہی ہے۔
٭وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سابق حکمرانوں سے ان کے دوروں پر بے تحاشا ہونے والے اربوںکے اخراجات وصول کئے جائیں گے۔ یہ ایک رسمی اعلان ہے۔ اس کا حساب کس طرح کیا جائے گا؟ نوازشریف اور آصف زرداری کے دوروں پر تو اربوں کے اخراجات آئے تھے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ذمے دوروں کے 65 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ جنرل مشرف کے 9 سال کے بے شمار دورے بھی ہیں۔ یہ سارے سرکاری دورے تھے، ان کے اخراجات سرکاری خزانے سے منظور کئے جاتے تھے۔ ان اخراجات کی اکثر تفصیل چھپ چکی ہے۔ یہ بھی کہ ان لوگوں کے بیشتر دورے نجی اور کاروباری تھے مگر ایسے دوروں کے دوران کسی ملک کے کسی وزیر وغیرہ سے ایک آدھ رسمی ملاقات رکھ کر انہیں سرکاری بنا دیا جاتا تھا۔ ان دوروں کے دوران بھاری سرکاری خرچ پر میڈیکل معائنے بھی بہت ضروری ہوتے تھے۔ کابینہ اعلان کافی ہے، ہو گا کچھ نہیں۔
٭ایک خبر: دوحہ میں امریکہ، طالبان، چین اور پاکستان کے درمیان بہت جلد پھر مذاکرات ہونے والے ہیں۔ ان میں حسب معمول بھارت اور افغانستان کی حکومت کو شریک نہیں کیا جا رہا۔ دریں اثنا بتایا گیا ہے کہ طالبان نے وزیراعظم عمران خاں کی دعوت پر پاکستان آنے کی دعوت منظور کر لی ہے۔بھارت پھر آئوٹ۔
٭ڈیرہ غازی خاں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکوئوں کے گروہ ’چھوٹو گینگ‘ کے سربراہ غلام رسول کو 308 سال اور دو ساتھیوں کو فی کس 288 سال قید و جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ان ملزموںپر متعدد افراد کے اغوا اور قتل وغیرہ کے جرائم ثابت ہو گئے ہیں۔ بظاہران سزائوں پر عمل عجیب سا لگتا ہے۔ انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر 100 برس کے لگ بھگ ہوتی ہے مگر دراصل یہ سزائیں یکے بعد دیگرے نہیں بلکہ اکٹھی شروع ہوتی ہیں اور 30,20 سال سے آگے نہیں جاتیں۔
٭یوم سیاہ کے بعد اب اپوزیشن سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرانے کے لئے سرگرم ہو گئی ہے۔ یکم اگست کو سینٹ میں رائے شماری ہو گی۔ حکومت نے پہلے تو اعلان کیا کہ عدم اعتماد کی قرارداد منظور نہیں ہونے دیں گے۔ اپوزیشن کے پاس 67، حکومت کے پاس 36 ووٹ ہیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ اپوزیشن کے کم از کم 18 ووٹ حکومت سے تعاون کریں گے۔ مگر اب حکومت اپوزیشن کی منتوں پر اتر آئی ہے کہ عدم اعتماد کی قرارداد واپس لی جائے۔ کبھی مولانا فضل الرحمن کی قدم بوسی کی جاتی ہے۔ کبھی بلاول سے وقت مانگ رہے ہیں۔ گھر میں دانے نہیں تھے تو دعوے کس بات کے؟ ویسے یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی کہ موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے کی وجہ کیا ہے؟ صرف یہ کہ آصف زرداری کو ان کا چہرہ پسند نہیں رہا۔
٭ایس ایم ایس:تحصیل ظفر وال ضلع نارووال کا گائوں پنڈی اولکھ اتنا بدقسمت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد آج تک اسے کبھی پختہ سڑک نصیب نہیں ہوئی۔ ہر طرف سے کچے راستے ہیں۔ ذرا سی بارش سے گائوں تک آمدورفت بند ہو جاتی ہے۔ (ایک مراسلہ)