09:17 am
پاک امریکا تعلقات کا ایک اور نیا آغاز 

پاک امریکا تعلقات کا ایک اور نیا آغاز 

09:17 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
وزیر اعظم کا حالیہ دورۂ امریکا بہر حال اس اعتبار سے اہم تھا کہ دونوں ممالک کی افواج کے باہمی تعلقات جو معطل ہوچکے تھے ان میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی امریکا کی عسکری قیادت سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ سبکدوش ہونے والے چیئرمین چیفس آف اسٹاف جنرل ڈنفورڈ اور حالیہ آرمی چیف جنرل ملی سے ، جو صدر ٹرمپ کا انتخاب اور بطور چیئرمین جنرل ڈنفورڈ کے جانشین بھی ہیں، اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ اندازہ یہ ہے کہ پاک افغان سرحد کی سیکیورٹی اورپاکستانی جانب سے معطل معاونت کو بحال کرنا اس گفت و شنید کا محور رہا ہوگا۔ 
 
اگر امریکا افغان امریکا مذاکرات میں پاکستان کی معاونت چاہتا ہے تو یہ اس کا منطقی نتیجہ بھی ہے۔ آئندہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف چیئرمین جنرل ملی اس صورت حال سے پوری طرح واقف ہیں تبھی انہوں نے کہا :’’ مقصد یہ ہوگا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین دفاعی تعلقات کو اس حد تک مستحکم کیا جائے کہ ہم پاکستان سے کارروائی کی درخواست کرسکیں۔ اگرچہ ہماری جانب سے دفاعی معاونت ومذاکرات معطل ہیں تاہم ہمیں مشترکہ مفادات کے لیے دونوں افواج کے باہمی تعلقات کو مستحکم رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ پاکستان کے جوہری ہتھیار پیشہ ورانہ مہارت کے اعتبار سے دنیا کی صف اول میں شامل فوج کے محفوظ ہاتھوں میں ہے ، امریکا بھی اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ہم امریکا سے اپنے جوہری پروگرام کے متعلق کیے گئے حفاظتی اقدامات کی معلومات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔ 
پاکستان اور وزیراعظم دونوں کے لیے واشنگٹن کا دورہ بہت اچھا رہا۔ دنیا کے کسی دوسرے ملک کی طرح، امریکا کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات پاکستانی مفاد میں ہیں۔ پاک امریکا تعلقات کی تاریخ سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ امریکا میں پاکستان کو ’’مسئلہ‘‘ بنا کر پیش کیا ہے۔ آصف زرداری کے معتمد اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے بعد تو بھارت کو اس کام کے لیے کسی اور کی ضرورت ہی نہیں۔ اس معاملے پر آصف زرداری کی خاموشی پر تعجب ہوتا ہے۔ پاکستان کا یہ تاثر آسانی سے تبدیل نہیں ہوگا تاہم آج بین الاقوامی تعلقات کے اعتبار سے پاکستان بہتر صورت حال میں ہے۔ خطے میں تعلقات کے حوالے سے ہمارا جھکاؤ چین اور روس کی طرف ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم اس کا محور ہے۔ پاکستان اگر کشمیر کی طرح خطے کے دیگر تنازعات حل کرنے کے لیے امریکی حمایت کی توقع رکھتا ہے تو کسی بھی خوش گمانی سے گریز کرنا ہوگا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے درست انداز میں کسی خوش فہمی کے بغیر اس جانب اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا’’ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ملاقات ہمارے لیے صورت حال کو یکسر تبدیل کردے گی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ایک دروازہ جو ہم پر بند ہوچکا تھا اس کے کھلنے کا امکان پیدا ہوا ہے۔ ہم بڑی سنجیدگی کے ساتھ ازسر نو تعلقات استوار کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ہمارے باہمی تعلقات میں جو ایک تناؤ آچکا تھا اس میں کمی آئی ہے۔‘‘ شاہ محمود قریشی کا بیان حقیقت پسندانہ معلوم ہوتا ہے۔ امریکا سے ہمارے تعلقات دس برس کے دائرے میں اچھے اور خراب ہوتے رہتے ہیں۔ 1980سے 1990تک تعلقات عروج پر تھے، 1990سے 2000کے مابین خراب رہے، 2000سے 2010کے دورانیے میں ایک بار پھر بہترین سطح پر آگئے، 2010سے 2019تک تعلقات نچلی ترین سطح پر چلے گئے اور اب دیکھنا ہے کہ 2020 کے بعد شاید دوبارہ بہتری کی جانب گامزن ہوں گے۔ ہمیں جما جما کر قدم رکھنے ہوں گے اور وزیر خارجہ کے بیان کا بنیادی پیغام ذہن نشیں رہنا چاہیے۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)