09:18 am
    روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں  

    روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں  

09:18 am

امریکہ کے سرکاری دورے کے دوران حکومت پاکستان کی جانب سے جو موقف اپنایا گیا وہ قابل داد ہے۔ سربراہ مملکت سمیت سرکاری وفد کی پذیرائی غیر متوقع طور پر خوشگوار رہی ۔ امریکی صدر نے وزیر اعظم سے ملاقات میں جو بے ساختگی اپنائی اور جس طرح مثبت رویہ اپنایا وہ دیکھ کر پاکستان کے ہر خیر خواہ کا دل شاد ہوا۔ فیض کا مصرعہ یاد آیا ۔
 
 روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں !
 البتہ پاکستان کے بدخواہوں نے صف ماتم بچھائی ہوئی ہے۔ یہ وہی بدخواہ ہیں جو سادہ لوح پاکستانیوں کو امریکی غیض و غضب سے ڈراتے نہیں تھکتے تھے ۔ این جی اوز کی پراتوں میں غیر ملکی سرمائے کے راتب پر منہ مارنے والے سگانِ بے حمیت صبح و شام یہ بھونکتے رہے کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ بھارت جیسے بڑے ملک نے دنیا کو یہ کامیابی سے باور کرا دیا ہے کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کا سرپرست ہے۔ پاکستان ہی دراصل افغانستان میں مداخلت کرتا ہے اور دہشت گردی بھی کرواتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی پاکستان ہی مداخلت کر کے حالات بگاڑنے کا ذمہ دار ہے۔ ڈالر خور مافیا دانشوری کا لبادہ اوڑھ کے پاکستانیوں کو یہ سمجھاتا رہا کہ بس اب کچھ دنوں کی بات ہے سپر پاور امریکہ اپنے ا تحا د ی بھارت کی مدد سے پاکستان کو نکیل ڈالے گا ۔ 
پاکستان کی پیشہ ور افواج اور مایہ ناز خفیہ ایجنسی کا تیا پانچہ کر کے ملک میں مذہب بیزار بھارت نواز امریکہ پرست لبرل ٹوڈیوں کا راج قائم کیا جائے گا ۔ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس ہوئے اور پاکستان پر بھارتی کاوشوں سے دبائو بڑھا تو دانش فروش مافیا کی مسرت دیدنی تھی ۔ یہ ہر فورم پر چہکتے تھے کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ پاکستان کی پالیسیاں غلط ہیں ! اب بھگتو کشمیر میں تحریک حریت کی حمایت کا نتیجہ ۔ اب چکھو مزہ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت کے مقابل افغان مجاہدین کی حمایت کا ۔ ان دانش فروشوں کے نزدیک سچ وہی ہے جو ان کے غیر ملکی آقا ڈالروں میں لپیٹ کے ان کے کبھی نہ بھرنے والے شکم میں اتار دیتے ہیں ۔ لبرل ٹوڈیوں کے تمام تجزیے اور اندازے حسب سابق غلط ثابت ہوئے۔ پاکستان پہلے سے زیادہ وقار کے ساتھ میدان میں کھڑا ہے ۔ 
اگرچہ قومی وجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لہو لہو ہے لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان کسی غیر ملکی طاقت کی ڈگڈگی پر بندر کی طرح ناچنے کے لیے تیار نہیں ۔ طاقت کے نشے میں بدمست امریکہ بھی پاکستان کے موقف کو تسلیم کر رہا ہے۔ بھارت کے تجزیہ کار سر پیٹ رہے ہیں کہ تین ارب ڈالر سے زائد سرمایہ افغانستان میں خرچ کر کے آج ہندوستان کیونکر افغانستان کے معاملات سے باہر ہوگیا ہے۔ یہ پاکستان کے اصولی موقف کی فتح ہے کہ کسی بھی ملک کے معاملات میں غیر ملکی طاقتوں کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔ کل روس نے افغانستان میں مداخلت کی اور منہ کی کھائی ۔ یہی غلطی امریکہ نے بھی کی اور کہیں زیادہ رسوائی کا شکار ہو رہا ہے ۔ اب بھارت بھی مقبوضہ کشمیر کے قبضے پر منہ کی کھائے گا۔
روس نے بھی کٹھ پتلی حکمرانوں سے افغانوں کو ہانکنا چاہا تھا اور امریکہ بھی یہی کچھ کر کے ناکامی کا سامنا کر رہا ہے ۔ سپر پاور ہونے کا زعم آڑے آرہا ہے وگرنہ امریکی افواج کب کا بوریا بستر سمیٹ کے روانہ ہوچکی ہوتیں۔ پاکستان کو یہ بات ببانگ دہل کہنی چاہیے کہ جس طرح افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانیوں کی مرضی سے ہونا چاہیے بالکل اسی طرح کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ بھی کشمیریوں کی مرضی سے کیا جا ئے ۔ روس اور امریکہ کی مداخلت اور کٹھ پتلی حکمرانوں کی سرپرستی نے جس طرح افغانستان کو برباد کیا اسی طرح بھارت کی ناجائز فوج کشی اور کٹھ پتلی حکمرانوں کی سر پرستی نے کشمیر کو لہو میں نہلا دیا ہے۔ پاکستان دنیا کے کسی بھی خطے میں غیر ملکی مداخلت کا مخالف ہے ۔ حالیہ دورہ امریکہ سے دنیا کو یہ واضح پیغام ملا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا حامی ہے ۔ پاکستان اپنے پڑوسیوں ایران اور افغانستان کے خلاف کسی سپر پاور کے اشارے پر جنگ میں شراکت دار نہیں بنے گا بلکہ مفاہمت اور ثالثی کا پرچم تھامے امن کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا ۔ رہی بات بھارت کی تو یہ طے ہے کہ پاکستان اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور دل گردہ بھی ۔
 بالا کوٹ سرجیکل سٹرائیک کے جواب میں دو طیارے تباہ کروا کے بھارت یہ حقیقت جان چکا ہے۔ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن بھارت کی جانب سے پیدا کی گئی صورتحال کی بدولت جنگ سے گریز ممکن نہیں ۔ صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دو ہفتے قبل اس خواہش کا اظہار ذاتی طور پر کیا ہے تو یہ واضح ہو گیا کہ بھارت کے فیصلہ ساز کیا سوچ رہے ہیں ۔ بھارتی میڈیا نے واویلا مچا رکھا ہے ، اپوزیشن مودی سرکار کے پر نوچنے پر تلی بیٹھی ہے اور بھارتی دفتر خارجہ نے حسب توقع تردید بھی کر دی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ خود پردھان منتری مودی اس اہم معاملے پر کیا موقف اپناتے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ نے مودی جی سے براہ راست گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ثالثی کی پیشکش ہے۔ مجموعی طور پر حالیہ دورہ امریکہ سے پاکستان نے سفارتی محاذ پر بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت کے قصیدہ خواں اور خوش آمدی ٹولہ حسب سابق مبالغہ آرائی میں تمام حدیں پار کر رہے ہیں ۔
 وزیر اعظم نے امریکہ میں پاکستانیوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا ۔ بہتر ہوتا ہے کہ مخالفین پر تنقید سے گریز کیا جاتا اور اپنے گندے کپڑے پرائے ملک میں نہ دھوئے جاتے۔ مجموعی طور پر کامیاب دورے کے باوجود پاکستان کو حد درجہ محتاط رویہ اپنانا ہوگا ۔ راقم نے سولہ جولائی کو شائع ہونے والے کالم (علاقائی رسہ کشی اور پاکستان کے مفادات) میں یہ مشورہ دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر ، ایٹمی اثاثوں اور بھارتی دہشت گردی کو بنیادی اہمیت دیتے ہوئے دیگر ممالک سے معاملات طے کرنے چاہیں ۔ دورہ امریکہ میں مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان کو درپیش اہم مسائل کا موثر تذکرہ ہوا ہے ‘ تاہم پاکستان کو حد درجہ محتاط رویہ اپناتے ہوئے پیش رفت جاری رکھنی ہوگی ۔ آئندہ کالم میں مسئلہ کشمیر ، ایٹمی اثاثوں اور معیشت کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنے کا ارادہ ہے۔