09:20 am
ٹرمپ عمران ملاقاتیں‘ مسئلہ کشمیر اور موثر عرب کردار!

ٹرمپ عمران ملاقاتیں‘ مسئلہ کشمیر اور موثر عرب کردار!

09:20 am

انتخابات جیتنے کے لئے نریندر مودی نے فروری میں پلوامہ کا ڈرامہ رچایا‘ پھر بالاکوٹ پر بھی فضائی حملہ کیا مگر ائیر فورس نے پاکستانی مہارت تامہ کا ثبوت دیتے ہوئے بھارتی طیارے مار گرائے‘ کمال ذہانت سے تب بھی پلوامہ واقعہ اور بالاکوٹ پر حملے کو بھارتی سیاست دانوں نے بی جے پی کے نئے اقتدار کے لئے بھرپور طور پر استعمال کیا تھا۔ اس وقت پاکستان اور انڈیا میں جنگ تقریباً شروع ہونے جارہی تھی۔ مگر اس وقوع پذیر ہوتی جنگ کو صرف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اماراتی ولی عہد شہزادہ محمد بن زید النہیان نے کمال ذہانت و فطانت اور اپنی بروقت مدبرانہ مداخلت سے ناممکن بنا دیا تھا۔ لہٰذا اب تو ہمیں عربوں کی سفارتی مہارت کی کامیابیوں کا کھلے عام اعتراف کرنا چاہیے۔ ماضی قریب میں عربوں کا او آئی سی کانفرنس جوکہ ابوظبی میں منعقد ہوئی۔ اس  میں بھارتی وزیر خارجہ کو مہمان خصوصی بنانا‘ مسئلہ کشمیر کو اس کے سامنے رکھنے کے اماراتی عمل کو کھل کر عرب فہم و فراست کہنا ہوگا کہ یہی حقیقت ہے جبکہ او آئی سی  مکہ کانفرنس میں بھی کشمیر کو بھرپور اہمیت ملی تھی۔
 
جب ہمارے فولادی عزم و قوت ارادی والے وزیراعظم عمران خان صدر ٹرمپ سے وائٹ ہائوس  میں ملاقات کر رہے تھے۔ ایوان نمائندگان اور تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ میں موجود تھے۔  تو وہ قومی لباس میں ملبوس تھے۔ شلوار قمیض اور ویسٹ کوٹ کا استعمال اور وہ بھی اپنی محبوب پشاوری  چپل کے ہمراہ یوں عمران خان کے وجود کی صورت میں ہماری قومی شناخت‘ قومی پہچان‘ قومی خود آگاہی کا تاریخی مرحلہ طے ہو رہا تھا۔ اس نفسیاتی مرحلے کو کامیابی سے عبور کرنے پر ہم عمران خان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ حدیث نبویؐ ہے جس نے خود کو پہچان  لیا تو گویا اس نے اپنے رب کو بھی پہچان لیا۔ ذرا عمران کے اس عمل کو علامہ اقبال کی خودی کے آئینے میں بھی دیکھیں۔
صدر ٹرمپ سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان سے جڑا ہوا جو اہم ترین مسئلہ طلوع ہوا وہ تو مسئلہ کشمیر ہے۔ وہی مسئلہ کشمیر جس کو کچلنے کے لئے بھارتی فوج دن رات معصوم مسلمان کشمیریوں کا قتل عام کرتی رہی ہے ماضی کے جموں کی طرح مسلمانوں کے قتل عام کے بعد ہندو اکثریت کا وجود جو طلوع کیا تھا‘ اسی حربے کو استعمال کرتے ہوئے وادی کشمیر اور ملحق علاقہ جات میں ہندوئوں پنڈتوں کی واپسی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا خاتمہ ؟ لداخ کی حیثیت کا غلط استعمال؟ جس کشمیر کے زخم زخم وجود پر نریندر مودی نے موجودہ اقتدار اعلیٰ لیا ہے‘ وہی مسئلہ کشمیر صدر ٹرمپ کی زبان سے اچانک زندہ ہوا ہے‘ اجاگر ہوا ہے‘ اور اب مودی کے لئے صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی بات اور وہ بھی نریندر مودی کی زبان سے جو ہوئی ہے۔ اوپر سے صدر ٹرمپ کے معاشی  مشیر لیری کڈلو کا اصرار کہ صدر ٹرمپ نے ثالثی کی بات درست  کی ہے۔ اب یہی سب کچھ بی جے پی اقتدار اعلیٰ کے لئے وبال جان بن گیا ہے۔ یہ سب تب ظہور  میں آیا جب وزیراعظم عمران خان صدر ٹرمپ کے سامنے وائٹ ہائوس میں موجود تھے۔ چین نے کشمیر پر امریکی ثالثی کی تائید کر دی ہے تو ترک صدر طیب اردوان نے بھی مسئلہ کشمیر پر ہمارے وزیراعظم سے  ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
28مارچ 2020ء کے بعد بھارت کو کافی نئی تکلیف میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ روحانی وجدان ہے۔
ہمارے فاتح وائٹ ہائوس وزیراعظم عمران خان ہیں تو فاتح پینٹاگان جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے عسکری رفقاء ہیں وائٹ ہائوس پہنچنے پر وزیراعظم کو 19توپوں کی سلامی جبکہ  پینٹاگان میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو 21توپوں کی سلامی دی گئی ہے۔ یوں واشنگٹن پاکستانی قوت ارادی‘ عزم‘ ہمت‘ پامردی‘ استقامت کے سامنے باعزت طور پر میزبان ثابت ہوچکا ہے‘ بزرگ ماہر نجوم پروفیسر غنی جاوید کی کہی ہوئی بات درست ثابت ہو رہی ہے کہ 25جولائی کے ساتھ وزیراعظم کے امریکی دورے کے مثبت اثرات نمودار ہونگے۔ عسکری تعاون بحال‘ تجارت کے راستے کھل رہے ہیں۔ نومبر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف کے موجودہ منصب سے زیادہ موثر منصب و کردار میں دیکھ رہا ہوں مگر مارشل لاء نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
 سوال ہے صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی اس نادر اور تاریخی اہمیت کی ملاقات کو ممکن  کس نے بنایا؟ صرف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے‘ حضور یہی تلخ حقائق ہیں۔ اگرچہ اس وقوع پذیر تلخ حقیقت کو سعودیہ کے حاسدین کی طرف سے جھٹلایا جارہا ہیمگر محمد بن سلمان کتنے بڑے محسن ہیں پاکستان کے اور برصغیر کے مسلمانوں کے؟ اور مطلوب امن کے لئے عرب کتنے بڑے کردار بن کر بار بار ابھرتے ہیں۔
میری نظر میں سعودی عرب اپنے منفرد ولی عہد کے ذریعے اور امارات بھی اپنے مدبر ولی عہد کے ذریعے‘ برصغیر کے کمزور مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت و نعمت ہیں لہٰذا ہمیں ان کے منفرد انداز فکر‘ نادر انداز سفارت کاری کو غلط اور ناقص کہنے اور ان کو ہندو نوازی کے طعنے دینے کی اب غلطی نہیں کرنی چاہیے جو طاقت اللہ تعالیٰ نے ان عربوں کو دی ہے ہمیں اس طاقت کا تدبر‘ ذہانت و فطانت سے اور بروقت استعمال کرتے ہوئے اپنی مشکلات میں آسانیاں‘ فوائد اور حمایت حاصل کرنے کا مطلوب ’’ہنر‘‘ سیکھنا چاہیے ۔
جب قطری امیر تمیم پاکستان میں  تشریف لائے تو میں نے چونکہ امارات و سعودیہ کی ماضی بعید کی محبت میں قطری ماضی کی سعودیہ مخالف سیاست کے سبب متعدد کالم لکھے تھے مگر اب تسلیم کرتا ہوں مدبرانہ قطری قوت ارادی اور عزم نے خود کو منوالیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا قطری ائیرلائن پر سفر‘ امریکہ سے واپسی پر دوحہ میں وزیراعظم عمران خان کا رک کر قطری وزیراعظم الشیخ عبداللہ بن  نصر بن خلیفہ الثانی سے ملنا پاک قطری اعتماد‘ محبت و تعلق کا اظہار ہے۔ کاش سعودی‘ اماراتی قطری دوبارہ سے یک جان ہو جائیں‘ ایک دوسرے سے گلے مل جائیں کہ مستقبل قریب میں عربوں کو بہت سے نئے مسائل و نئے مصائب کا سامنا کرتا دیکھ رہا ہوں‘ قطر مسئلہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ ان کے برے وقتوں میں دوست و مددگار ہونے کے سبب خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لہٰذا قطری وجود کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ آج سیاسی حکومت اور عسکری قیادت ریاستی مفادات کے لئے یک جان ہیں۔ یہ وہ بات ہے جسے میں اپنے کالموں میں بار بار لکھتا رہا ہوں کہ چینی نظام حکومت کی طرح اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومتی اذہان کو مل جل کر چلنا چاہیے۔ امریکہ میں جب ہمارے وزیراعظم پیکر قوت ارادی بن کر جلوہ افروز تھے تو ان کی اس قوت ارادی میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض اور دیگر عسکری قائدین کی موجودگی بہت بڑی حقیقت تھی امریکہ میں تدبر و فراست کے اظہار‘ بیان اور ملاقاتوں کے لئے ہم عسکری قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں